اسرائیل کا ممکنہ جنگ بندی سے قبل فوجی کارروائیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ

اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبروں کے پیش نظر اپنی فوجی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے اور کسی بھی اچانک جنگ بندی کے امکان کے پیش نظر چار لاکھ تک ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت اور وزیراعظم نیتن یاہو عوامی سطح پر امریکہ کے ساتھ مکمل اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم پس پردہ شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی جانب مائل ہونے کے اشاروں نے اسرائیلی حکام کو چوکنا کر دیا ہے۔
اگرچہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے اپنے پارٹنر امریکہ پر بھروسہ ہے کہ وہ مذاکرات میں اسرائیل کے مفادات کا خیال رکھے گا، لیکن نجی محفلوں میں اسرائیلی حکام اس حوالے سے فکر مند ہیں کہ کہیں واشنگٹن تہران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے پر نہ پہنچ جائے جو اسرائیل کی سرخ لکیروں کو عبور کرتا ہو۔
خاص طور پر اسرائیل کو اس بات پر اعتراض ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں موجودہ ایرانی نظام کو برقرار رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا بحیرہ کیسپین میں ایرانی بندرگاہ پر حملہ، روس ایران سپلائی لائن متاثر
اسرائیلی میڈیا اور حکام کا ماننا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی سفارت کاری کسی بھی وقت غیر متوقع موڑ لے سکتی ہے اور اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
اسی خدشے کے پیش نظر اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی سے پہلے زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔
اسی سلسلے میں اسرائیلی حکومت نے ریزرو فوجیوں کی طلبی کی حد دو لاکھ اسی ہزار سے بڑھا کر چار لاکھ تک کر دی ہے، جو آنے والے وقت میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنانی سرحد کے قریب واقع قصبوں کے میئرز سے ملاقات کر کے ان کے حوصلے بلند کئے اور واضح کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف طویل مدتی مہم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










