جمعہ، 27-مارچ،2026
جمعہ 1447/10/08هـ (27-03-2026م)

افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی انتہاء کو پہنچ گئی، عالمی اداروں کی تشویش

27 مارچ, 2026 10:34

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سنگین ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں طالبان کے زیر اثر معاشرہ انسانی، سماجی اور معاشی بحران کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔

انسانی حقوق کی ممتاز افغان تنظیم رواداری نے اپنی حالیہ تفصیلی رپورٹ میں طالبان انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران افغان شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ خواتین اور مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے واقعات میں چالیس اعشاریہ چار فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چھ سو گیارہ افراد نشانہ بنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان نے امریکی قیدی ٹرمپ کے خوف سے رہا کیا، افغان رہنماء

سال 2025 کے دوران آمرانہ پابندیوں اور جبری قوانین کے ذریعے خواتین کے حقوق کو بری طرح پامال کیا گیا، جبکہ طالبان کی عدالتوں نے کوڑوں سمیت مختلف ایسی جسمانی اور تذلیل آمیز سزائیں نافذ کیں جو عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نسلی گروہ اور مذہبی اقلیتیں روزگار، معاشی مواقع، عوامی وسائل اور بنیادی خدمات تک رسائی سے مکمل طور پر محروم کر دی گئی ہیں۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے آزاد اداروں اور ایک آزاد عدلیہ کی عدم موجودگی نے ناانصافی کے اس عمل کو مزید ہوا دی ہے، جس کی وجہ سے مظلوم شہریوں کے لیے انصاف کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ طالبان نے ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے اور بندوق کے زور پر وحشت کا نظام رائج ہے۔

افغان طالبان کا موجودہ طرز حکمرانی بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر اور بنیادی انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے جو عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔