ایرانی جزائر پر قبضے کا امریکی منصوبہ، جزیرہ خارگ اور لارک کی اہمیت

امریکہ کی جانب سے زمینی کارروائی کی اطلاعات نے خلیج میں موجود ایرانی تزویراتی جزائر خارگ، لارک اور قشم کی اہمیت اور ان پر ممکنہ حملوں کے خطرات کو عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایک ماہ سے جاری شدید جنگ کے تناظر میں ایرانی قیادت نے اپنے دفاعی حصار کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی مجلس شوریٰ کے صدر محمد باقر قالیباف نے باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے دشمن اس کے اسٹریٹجک جزائر پر قبضے کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف عسکری آپشنز فراہم کئے گئے ہیں، جن میں ایران پر براہ راست حملہ یا مخصوص جزائر پر محدود زمینی کارروائی کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے۔ اس صورتحال میں ماہرین کی نظریں ان جزائر پر مرکوز ہیں جو امریکی فوجی کارروائی کا بنیادی ہدف بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جزیرہ خارگ سرِ فہرست ہے، جو خلیج کے شمال میں ایرانی ساحل سے 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔ امریکی بینک جی پی مورگن کے مطابق یہ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں سے ایران کی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات ہوتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خارگ پر قابو پانا امریکہ کے لیے ایک مشکل ہدف ہوگا، کیونکہ یہاں تیل کی پائپ لائنز اور وسیع ذخائر کا پیچیدہ جال بچھا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پینٹاگون کا مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار زمینی فوج بھیجنے پر غور
اسٹریٹجک اہمیت کے حامل دیگر جزائر میں لارک اور قشم بھی شامل ہیں۔ جزیرہ لارک ابنائے ہرمز کے تنگ ترین حصے میں واقع ہے اور یہاں ایرانی فوجی اڈے کے ساتھ ساتھ قدس فورس کا ایک رجسٹریشن سسٹم بھی موجود ہے، جو یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا ہے۔
فرانسیسی پریس کے مطابق لارک کی سمندری اور فوجی اہمیت اسے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا اہم ہدف بناتی ہے۔ دوسری جانب جزیرہ قشم، جو خلیج کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، اپنی یونیسکو سے تسلیم شدہ جیوولوجیکل اہمیت اور تجارتی روٹس کے باعث تہران کے لیے انتہائی اہم ہے۔
علاقائی کشیدگی کا ایک اور رخ وہ تین متنازع جزائر ہیں، جن پر ایران کا کنٹرول ہے، لیکن متحدہ عرب امارات ان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے، جن میں طنب الصغریٰ، طنب الکبریٰ اور ابو موسیٰ شامل ہیں۔
ماہرین ان جزائر کا موازنہ دوسری جنگ عظیم کے مشہور جزیرہ تاراوا سے کر رہے ہیں، جہاں جاپانی اور امریکی افواج کے درمیان خونی معرکہ ہوا تھا۔
میڈیٹریرینین انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اگر امریکہ ان مقامات پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ ایران کو سمندری راستوں کی ناکہ بندی کرنے سے روک سکے گا۔
تہران نے ان جزائر پر قدس فورس کی نیول یونٹس اور جدید میزائل سسٹم تعینات کر رکھے ہیں، جو قریبی ممالک کے فوجی اڈوں اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث یہاں کسی بھی مہم جوئی کے نتیجے میں پورے خطے میں آگ لگنے کا خدشہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








