ہفتہ، 11-اپریل،2026
ہفتہ 1447/10/23هـ (11-04-2026م)

امریکہ کا آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کا اشارہ

01 اپریل, 2026 09:54

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے نجی طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ان کے مقررہ وقت کے مطابق ممکن نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ان کی دی گئی مدت کے اندر کھولنا مشکل نظر آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکام کا ماننا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل فعال کرنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی بیس فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے اور اس کی بندش کی وجہ سے امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں، جو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی خطرہ بن سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اب عوامی سطح پر یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اس گزرگاہ کو کھولنے کی ذمہ داری دوسرے ممالک خصوصاً یورپی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں سے ایرانی کی فیس وصولی پر سخت ایکشن ہوگا، ٹرمپ

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر برطانیہ اور دیگر ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت پیدا کریں اور خود جا کر اس گزرگاہ کا کنٹرول سنبھالیں کیونکہ امریکہ اب ان کی مدد کے لیے وہاں موجود نہیں رہے گا۔

وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحیت ختم کرنے کا اشارہ دیا ہے، چاہے آبنائے ہرمز ایرانی کنٹرول میں ہی رہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس گزرگاہ کو طاقت کے زور پر کھولنے کی کوشش جنگ کو طول دے سکتی ہے، جسے ٹرمپ جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اب امریکی انتظامیہ کا سارا زور ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کو محدود نقصان پہنچانے پر ہے، جبکہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل گزرگاہ کا معاملہ عالمی برادری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔