جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے، ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

02 اپریل, 2026 08:26

صدر ٹرمپ نے ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کی دھمکی دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اگلے دو سے تین ہفتوں میں نیا معاہدہ نہ ہوا تو ایران کا بجلی کا نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے ایک ماہ مکمل ہونے پر قوم سے اہم خطاب کیا ہے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک ایران کے خلاف ‘آپریشن ایپک فیوری’ کو شروع ہوئے ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے اور ان چار ہفتوں کے دوران امریکی مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز رفتار، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ اس وقت ایران کی بحریہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس کی فضائیہ کھنڈرات کا ڈھیر بن چکی ہے اور ایرانی قیادت کی اکثریت ہلاک ہو چکی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ایران کی میزائل داغنے کی صلاحیت بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے اور امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑی جیت حاصل کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایران کے ہتھیار بنانے والے کارخانے اور راکٹ لانچر ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے ہیں اور اب وہاں گنتی کے چند ہتھیار ہی باقی بچے ہیں۔

انہوں نے اپنے سابقہ دور صدارت میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معاہدہ ختم نہ کیا جاتا تو ایران کے پاس آج ایٹمی ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ان ہتھیاروں کا استعمال بھی کر چکا ہوتا، جس کے نتیجے میں آج نہ مشرق وسطیٰ کا وجود ہوتا اور نہ ہی اسرائیل باقی بچتا۔

صدر نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے جوہری پروگرام کو پرامن کہتا رہا ہے، لیکن امریکہ کی موجودہ عسکری کارروائیوں نے اسے ایٹم بم بنانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا اور اس کی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کی صلاحیت بھی کچل دی ہے۔

ملک کے اندر بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد قیمتوں میں پچیس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس سے عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ تاہم انہوں نے اسے عارضی قرار دیتے ہوئے سارا ملبہ ایرانی حکومت پر ڈال دیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں یہ اضافہ ایرانی حکومت کی جانب سے پڑوسی ممالک کے تجارتی تیل بردار بحری جہازوں پر بزدلانہ حملوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ایران پر جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

صدر نے یقین دلایا کہ جیسے ہی یہ تنازع ختم ہوگا، تیل کی سپلائی بحال ہو جائے گی اور پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے جبکہ اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے بعد اب امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے تیل کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ امریکہ اب خود دنیا میں تیل اور گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : برطانیہ خود ہمت کر کے آبنائے ہرمز جائے، امریکہ مدد نہیں کرے گا، ٹرمپ اتحادیوں سے ناراض

صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بہترین تعاون کیا ہے اور امریکہ ان کو کسی بھی صورت میں ناکام یا تنہا نہیں چھوڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، لیکن امریکہ نے تنہا یہ معرکہ لڑا اور اب اسٹریٹجک مقاصد تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہیں۔

انہوں نے دنیا کے ان ممالک کو جو آبنائے ہرمز سے تیل منگواتے ہیں، سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس راستے سے تیل درآمد نہیں کرتا، اس لیے اب ان ممالک کو ہمت دکھانی ہوگی اور خود اس گزرگاہ کی حفاظت کرنی ہوگی۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ممالک جو خلیج سے تیل لیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ خود وہاں جائیں اور اس راستے کا کنٹرول سنبھالیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں امریکی صدر نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکہ ایران کے تمام بجلی گھروں کو ایک ساتھ نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیا جائے گا، جہاں کی وہ اصل میں اہلیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اگرچہ حکومت کی تبدیلی ان کا بنیادی مقصد نہیں تھا، لیکن ایران کے اصل رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد وہاں عملاً تبدیلی آ چکی ہے اور اب جو نیا گروہ سامنے آیا ہے، وہ پہلے کی نسبت کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ جیتنے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ آپریشن ایپک فیوری امریکہ اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری تھا کیونکہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔ صدر ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایران کے ساتھ کی گئی ڈیل تباہ کن تھی اور وہ اب پچھلے صدور کی جانب سے کی گئی تاریخی غلطیوں کو درست کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سینتالیس سال سے یہ صورتحال قائم تھی اور ایران کے ساتھ بہت پہلے نمٹ لیا جانا چاہیے تھا۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران امریکی افواج نے ایران پر فیصلہ کن حملے کئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کی نیوی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، ان کے کئی اہم لیڈر ہلاک ہو چکے ہیں اور موجودہ رجیم عملاً دم توڑ چکا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف جاری اس جنگ میں اب تک تیرہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر نے اپنے پہلے صدارتی دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کر کے ایران کی کمر توڑ دی تھی اور اب حالیہ کارروائیوں سے ایران کی مختلف ممالک میں موجود اپنی پراکسیز کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرنے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایرانی حکومت پر انتہائی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی حکومت نے پنتالیس ہزار مظاہرین کو قتل کیا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت مسلسل امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتی رہی ہے، لیکن اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

صدر نے عزم ظاہر کیا کہ امریکہ ایران میں اپنا کام انتہائی تیزی سے مکمل کر رہا ہے اور بہت جلد اس مشن کے مکمل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا، جس کے بعد خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

صدر نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب کوئی بڑا خطرہ نہیں رہا اور امریکی مقاصد بہت جلد مکمل طور پر حاصل کر لیے جائیں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔