ٹرمپ کے خطاب پر امریکی سیاست دانوں کا ردعمل، ایران مہم بدترین پالیسی قرار

امریکی صدر ٹرمپ کے خطاب پر ملک کے اندر اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اپوزیشن رہنماؤں نے اسے تاریخی غلطی قرار دیا ہے، وہیں حامیوں نے اسے ایران کے خلاف فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی سینئر مشیر میلیسا توفانیان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خطاب کے بعد امریکی عوام مزید الجھن کا شکار ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تقریر سے کسی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ کوئی واضح منصوبہ یا ٹائم فریم موجود ہے، جس سے ملک محفوظ ہو سکے۔
دوسری جانب، سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے خطاب کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی پالیسی غلطی تصور کیے جائیں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صدر اپنے مقاصد بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اتحادیوں کو ناراض کرنے کے ساتھ ساتھ امریکیوں کے گھریلو مسائل کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی تقریر یا سوشل میڈیا پوسٹس کا مجموعہ؟ مبصرین نے خطاب کو تضادات کا شاہکار قرار دے دیا
اس کے برعکس، جنوبی کیرولائنا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ ڈیل کرے یا مزید بمباری کا سامنا کرے۔
انہوں نے صدر کے اس ارادے کی حمایت کی، جس میں ایران کے بجلی کے گرڈ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم، ایریزونا سے ڈیموکریٹک نمائندہ یاسمین انصاری نے ایران کو پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی کو نوے ملین آبادی والے ملک کے خلاف گھناؤنا اور شیطانی قرار دیا۔
سینیٹر کرس وین ہولن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ کی طرح جھوٹ بولا ہے اور وہ ملک اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
سابق امریکی سفیر رچرڈ شمیریر نے توجہ دلائی کہ اگرچہ امریکہ براہ راست آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل نہیں لیتا، لیکن توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کا اثر امریکی عوام پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ جنگ بندی کر بھی لے، تب بھی اسرائیل ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ اس کے مقاصد امریکہ کے مقاصد سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
سابق سینئر نیول افسر ہارلن المین نے صدر کے خطاب کو شرمناک اور متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خود امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا اور ایران اسے اپنی فتح کے طور پر دیکھے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









