افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان گہرے نظریاتی روابط ہیں، امریکی جریدہ

معروف امریکی جریدے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کے لیے ڈھال بن چکی ہیں۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج ایک ہی نظریے اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
عالمی جریدے ساؤتھ ایشین وائسز کی ایک تازہ رپورٹ نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور افغان طالبان کے درمیان گہرے تعلقات کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین فتنہ الخوارج کو نہ صرف تحفظ فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں دوبارہ منظم ہونے کے مواقع بھی دے رہی ہے۔
یہ انکشافات پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی میں مقامی انتظامیہ کی خاموش حمایت شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کی نااہلی، نظامِ صحت تباہ، ادویات کی شدید قلت، طبی عملے کی تنخواہیں بند
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے نظریات میں مماثلت پائی جاتی ہے اور دونوں گروہ ایک ہی مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ سفارتی سطح پر اور سرحدوں کی نگرانی کے ذریعے دہشت گردی روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال رکنے میں نہیں آیا۔
اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے کی گئی حالیہ جوابی کارروائیاں افغان طالبان کی ناکامی کا نتیجہ ہیں، جو دوحہ معاہدے کی بھی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت افغان طالبان نے ضمانت دی تھی کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حالیہ حملے پاکستان کی افغان پالیسی میں ایک بڑی اور واضح تبدیلی کی علامت ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











