ہفتہ، 11-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

خلیجی خطے میں جنگی انشورنس کے نرخوں میں انیس سو فیصد اضافہ

03 اپریل, 2026 11:20

ایران جنگ کے باعث مغربی ایشیا میں وار رسک انشورنس یعنی جنگی خطرات کے بیمہ کی قیمتوں میں انیس سو فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری عسکری تنازع نے عالمی انشورنس مارکیٹ میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ اور دہشت گردی کے نقصانات کو کور کرنے والی جس پالیسی کی قیمت پہلے ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ تھی، وہ اب بڑھ کر پچاس لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

انشورنس کمپنیوں نے خطے میں موجود قیمتی اثاثوں کے حوالے سے اپنے ضوابط سخت کر دیئے ہیں اور فراہم کی جانے والی کوریج کی حد میں بھی نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔

خاص طور پر ڈیٹا سینٹرز جیسے حساس منصوبوں کے لیے جہاں پہلے تین ارب ڈالر تک کا بیمہ دستیاب تھا، اب وہ محض دس کروڑ ڈالر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران پر زمینی حملہ تباہ کن اور فوج کیلئے قبرستان ثابت ہوگا، امریکی ماہرین نے خبردار کردیا

اس تشویشناک اضافے کی بڑی وجہ حالیہ دنوں میں ہونے والے وہ حملے ہیں جن میں امریکی مفادات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

متحدہ عرب امارات میں ایمیزون کے دو بڑے ڈیٹا سینٹرز پر ایرانی ڈرون حملوں اور دبئی کے مشہور لگژری ہوٹل فیئرمونٹ میں ایرانی میزائل کے ملبے سے لگنے والی آگ نے انشورنس کمپنیوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔

مزید برآں، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل اور جے پی مورگن سمیت اٹھارہ امریکی کمپنیوں کی تنصیبات کو جائز ہدف قرار دے دیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

ڈیٹا سینٹرز جیسے اثاثے بحری جہازوں کی طرح منتقل نہیں کیے جا سکتے، جس کی وجہ سے انشورنس کمپنیوں کے لیے خطرات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔

اس وقت عالمی مارکیٹ میں تقریباً پچاس ارب ڈالر مالیت کی جنگی انشورنس پالیسیاں فعال ہیں، جو موجودہ حالات میں کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔