ایران میں طیارے گرنے کے بعد امریکہ کا دور سے وار کا پلان، مہنگے کروز میزائل مشرق وسطیٰ منتقل

امریکی فوج نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگ کے پیش نظر اپنے جدید ترین جاسم کروز میزائلوں کا تقریباً پورا عالمی ذخیرہ مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اپنے سب سے قیمتی جاسم (جے اے ایس ایس ایم) کروز میزائلوں کا رخ مشرق وسطیٰ کی طرف موڑ دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحرالکاہل اور دیگر عالمی اڈوں سے ان میزائلوں کو نکال کر مشرق وسطیٰ کی کمانڈ یا برطانیہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس منتقلی کے بعد امریکہ کے پاس دیگر دنیا کے لیے صرف چار سو پچیس کے قریب میزائل باقی رہ جائیں گے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد دو ہزار تین سو سے زائد تھی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے کویت، بحرین اور امارات میں امریکی تنصیبات پر حملے، اسرائیل کے دفاعی مراکز پر ضرب
جاسم میزائل اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت اور دشمن کے راڈار سے بچ نکلنے کی خاصیت کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس میزائل کی ایک اکائی کی قیمت تقریباً پندرہ لاکھ ڈالرز ہے اور یہ چھ سو میل سے زائد فاصلے پر موجود ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
امریکہ یہ اقدام اس لئے کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران نے اس کے کئی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں، جس سے واشنگٹن کو اپنی فضائی برتری خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ اب امریکی طیارے براہ راست ایرانی فضائی حدود میں جانے کے بجائے دور سے میزائل داغنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر میزائلوں کی منتقلی سے امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کر سکتے ہیں، کیونکہ عالمی ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ایران کی جانب سے مسلسل مزاحمت اور امریکی طیاروں کے نقصانات نے پینٹاگون کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر طاقت ایران کے خلاف جھونک دے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ تہران نے اپنی میزائل اور دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکہ کو ایک مشکل دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











