جارحیت بڑھی تو آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند کردیں گے، ایران

ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے سینیئر مشیر نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جارحیت میں اضافہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز سے آگے باب المندب جیسے عالمی بحری راستے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے قریبی مشیر علی اکبر ولایتی نے عالمی توانائی کی ترسیل کے راستوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سخت بیان جاری کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کا سلسلہ دراز کیا تو اس کا اثر صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گا۔
علی اکبر ولایتی کے مطابق مزاحمتی قوتوں کی متحدہ کمان باب المندب کی آبنائے کو بھی آبنائے ہرمز کی طرح تزویراتی اہمیت کا حامل سمجھتی ہے اور دشمن کی ایک بھی غلطی عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ خود ہمت کر کے آبنائے ہرمز جائے، امریکہ مدد نہیں کرے گا، ٹرمپ اتحادیوں سے ناراض
ایرانی مشیر نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے شاید ایران کی تاریخ سے کچھ سبق تو سیکھے ہیں لیکن وہ ابھی تک طاقت کے جغرافیے کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔
واضح رہے کہ باب المندب کی آبنائے یمن کے ساحلوں کے قریب واقع ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور نہرِ سوئز کی طرف جانے والے جہازوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
یمن کی حوثی تحریک، جو تہران کی اتحادی سمجھی جاتی ہے، پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اس بحری راستے کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ دھمکی حقیقت بنتی ہے تو عالمی معیشت کو ایسا جھٹکا لگے گا، جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









