کیا امریکہ پائلٹ کو بچانے کے بہانے اصفہان سے ایٹمی مواد چرانا چاہتا تھا؟

دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایک پائلٹ کو بچانے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا کسی گہری سازش یا بڑی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پانچ اپریل کو امریکی افواج نے اصفہان کے قریب ایک پائلٹ کو بچانے کا دعویٰ کیا، لیکن اس مشن کی تفصیلات کئی حیران کن انکشافات کر رہی ہیں۔
سب سے پہلا تضاد جغرافیائی ہے؛ امریکی طیارہ اصفہان سے کافی دور ایک دوسرے صوبے میں گرا تھا، تو پھر ریسکیو مشن اصفہان جیسے حساس ایٹمی مرکز کے قریب کیوں چلایا گیا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مشن دراصل ایرانی ایٹمی تنصیبات کو پرکھنے یا وہاں سے افزودہ شدہ یورینیم کے نمونے حاصل کرنے کی ایک ناکام کوشش ہو سکتی تھی۔ اس مشن کے دوران امریکہ کو غیر معمولی فضائی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اصفہان میں امریکی مشن ناکام ہوا، انہوں نے اپنے ہی طیارے تباہ کر دیئے، خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر
اطلاعات کے مطابق دو مہنگے ترین کمانڈو طیارے، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور متعدد جدید ڈرونز ایرانی دفاعی نظام کا شکار ہوئے۔
سابق سی آئی اے افسران کا کہنا ہے کہ یہ مشن دراصل ایک ’لائیو فائر ٹیسٹ‘ تھا تاکہ ایرانی ریڈار سسٹم کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اس مشن کی ناکامی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب امریکی فضائیہ ایران کی تزویراتی گہرائی میں محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے تین ایف 15 طیارے اور درجنوں ڈرونز کا تباہ ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ خطے میں فضائی برتری کا توازن بدل چکا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









