جرمنی سے جاپان تک سفارتی تنہائی، پہلی بار امریکی اتحادیوں کا جنگ میں ساتھ دینے سے انکار

تاریخ میں پہلی بار امریکہ کو عالمی سطح پر شدید سفارتی تنہائی کا سامنا ہے، کیونکہ اس کے قریب ترین مغربی اور ایشیائی اتحادیوں نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی میں حصہ لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ جرمنی، فرانس، جاپان اور کینیڈا سمیت درجن بھر ممالک نے واشنگٹن کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
عالمی سیاسی افق پر ایک ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ امریکہ، جو دہائیوں سے عالمی اتحادوں کی قیادت کرتا آیا ہے، آج ایران کے معاملے پر اپنے ہی قریب ترین دوستوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ایک وسیع البنیاد اتحاد بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن اسے یورپ سے لے کر آسٹریلیا تک ہر جگہ سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جرمنی نے کسی بھی قسم کی فوجی شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ فرانس اور اٹلی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اگر ایران سے معاہدہ ممکن نظر آیا تو صدر ٹرمپ حملہ مؤخر کر سکتے ہیں، امریکی رپورٹ
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی، جب اسپین نے کھلے عام اس فوجی مہم کی مخالفت کی اور کینیڈا نے بھی امریکی درخواست کو مسترد کر دیا۔
ایشیاء میں امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی جاپان نے اپنی بحریہ بھیجنے کا کوئی بھی منصوبہ ہونے کی تردید کر دی ہے، جبکہ آسٹریلیا نے بھی اپنے جنگی جہاز بھیجنے سے معذرت کر لی ہے۔
ناروے اور نیدرلینڈز جیسے ممالک، جو عموماً نیٹو اتحاد میں پیش پیش رہتے ہیں، انہوں نے بھی اس بار شمولیت سے انکار یا خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔
یہاں تک کہ برطانیہ، جسے امریکہ کا آہنی بھائی کہا جاتا ہے، اس نے بھی اس بار کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کروائی، جو واشنگٹن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک کی یہ سرد مہری ظاہر کرتی ہے کہ دنیا اب مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل اور بے مقصد جنگ کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ان ممالک کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ امریکہ کی یہ سفارتی تنہائی نہ صرف صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ عالمی طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









