جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ میں 50 فیصد اضافہ ہوگیا، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

07 اپریل, 2026 12:19

حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کے دور میں مصنوعی منشیات خصوصاً میتھا مفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان کی موجودہ طالبان انتظامیہ پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے منشیات کے مکروہ دھندے اور پراکسی دہشت گرد نیٹ ورکس کو ملک کی معیشت کا واحد سہارا بنا لیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسدادِ منشیات و جرائم کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان اب محض افیون تک محدود نہیں رہا بلکہ وہاں میتھا مفیٹامین جیسی خطرناک مصنوعی منشیات کی تیاری ایک منظم کاروباری ماڈل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2023 کے مقابلے میں رواں برس خطے میں اس منشیات کی پکڑ دھکڑ میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان کے اندر اس کی پیداوار بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جورجٹ گینیون نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں منشیات کا یہ مسئلہ اب محض اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے زہریلے اثرات بیرونِ ملک بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : میزبانی کے بدلے احسان فراموشی، بلوچستان کے عوام نے افغان طالبان کے رویے کو مسترد کر دیا

عالمی ماہرینِ دفاع اور معیشت کا ماننا ہے کہ طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان میں منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی بھاری آمدن براہِ راست دہشت گرد گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو ایندھن فراہم کر رہی ہے۔

یہ گٹھ جوڑ نہ صرف افغانستان کی داخلی صورتحال کو خراب کر رہا ہے، بلکہ ہمسایہ ممالک اور پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک ٹائم بم بن چکا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں منظم جرائم پیشہ گروہ اب مصنوعی منشیات کو ایک باقاعدہ صنعت کے طور پر چلا رہے ہیں، جس کی وجہ سے منشیات کی عالمی منڈی میں افغانستان کا کردار مزید خطرناک ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اس معاشی ماڈل کو روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات نہ کیے تو منشیات سے حاصل ہونے والا یہ پیسہ خطے میں دہشت گردی کی نئی لہر پیدا کر سکتا ہے، جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔