ایران کے میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملے، امریکی بحری بیڑے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر کے مطابق 98 ویں مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی بحری جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے منگل کے روز ایک وسیع البنیاد فوجی آپریشن کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔
اس آپریشن کو وعدہ صادق 4 کی 98 ویں لہر کا نام دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں سب سے پہلے ایک اسرائیلی تجارتی جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جس کے بعد اس میں شدید آگ لگ گئی۔
اس کے علاوہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس تریپولی پر بھی درست نشانہ لگانے والے میزائل داغے گئے، جس کے بعد وہ بحر ہند کی گہرائیوں میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے امریکی آپریشن میں چار ایرانی فوجی افسران کی شہادت کی تصدیق کردی
حملوں کا دائرہ کار تل ابیب، حیفا اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے، جہاں کیمیکل فیکٹریوں اور فوجی مراکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
کویت میں واقع علی السالم اور الادھری فوجی اڈوں پر بھی ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے، جن میں امریکی ہیلی کاپٹروں کے گوداموں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سعودی عرب میں الخرج ایئر بیس کو بھی آرش 2 ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، یہ بیس امریکی جاسوس طیاروں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری ہم منصب سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام کارروائیاں امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









