جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

ایران کے زیرِ زمین میزائل شہر، ریل نظام اور خودکار لانچرز، جسے جدید بم بھی تباہ نہ کرسکے

07 اپریل, 2026 10:59

ایران نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پہاڑوں کی گہرائیوں میں میزائل شہروں کا ایک ایسا جال بچھایا ہے، جو جدید ترین بنکر بسٹر بموں سے بھی محفوظ ہے۔ یہ زیرِ زمین تنصیبات نہ صرف میزائلوں کا ذخیرہ ہیں بلکہ مکمل جنگی شہر ہیں، جہاں سے دشمن پر مسلسل وار کرنے کی صلاحیت برقرار رکھی جا رہی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ جنگ میں ایک ایسی حقیقت سامنے آئی ہے، جس نے عسکری ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، اور وہ ہے ایران کے زیرِ زمین میزائل شہروں کی پائیداری۔

ان خفیہ اڈوں کی ترقی کا آغاز 1984 میں عراق کے ساتھ جنگ کے دوران ہوا تھا اور تب سے اب تک یہ کام بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔

یہ تنصیبات پہاڑوں کے عین قلب میں سینکڑوں میٹر کی گہرائی میں واقع ہیں، جہاں ان کا اندرونی ڈھانچہ کسی فوجی اڈے کے بجائے ایک جدید پوشیدہ شہر سے مشابہت رکھتا ہے۔

ان شہروں کے اندر ایک خودکار ریل کا نظام موجود ہے، جو اسمبلی ایریاز، اسٹوریج ڈپو اور خفیہ اخراجی راستوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

ان سرنگوں کی لمبائی چند کلومیٹر سے لے کر دسیوں کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے، جو سخت ترین چٹانوں کے نیچے واقع ہونے کی وجہ سے بھاری ترین بموں کے اثر سے بھی محفوظ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی میزائلوں کے ہدف پر درست نشانے میں نو گنا اضافہ، دفاعی ماہرین حیران

ان شہروں کی تزویراتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے داخلی اور خارجی راستے قدرتی مناظر میں اس طرح چھپائے گئے ہیں کہ انہیں پہچاننا ناممکن ہے۔ اگر فضائی حملے میں کوئی ایک راستہ تباہ بھی ہو جائے تو متبادل راستے آپریشنز کو جاری رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔

ان تنصیبات میں ڈرونز، میزائلوں اور لانچرز کے لیے طویل اسٹوریج سرنگیں، لانچ کی تیاری کے مقامات، کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز اور بجلی و وینٹیلیشن کا مکمل نظام موجود ہے۔

وسطی ایران میں واقع یزد میزائل بیس اس کی بہترین مثال ہے، جو پہاڑ کے اندر 500 میٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔ یہ بیس شیر کوہ نامی گرینائٹ کی سخت ترین چٹانوں سے ڈھکا ہوا ہے، جو دھماکے کی لہروں کو جذب کر کے عمارت کو محفوظ رکھتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک یزد میزائل بیس پر کم از کم چھ بار براہ راست حملے کیے جا چکے ہیں، لیکن یہ تنصیب اب بھی مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہے۔

اگر کسی حملے میں سرنگ کے دہانے کو نقصان پہنچتا ہے تو مرمتی ٹیمیں چند ہی دنوں میں ملبہ صاف کر کے اسے دوبارہ کھول دیتی ہیں۔

ان تنصیبات کے اندر بلاسٹ پروف یعنی دھماکہ مزاحم دروازے نصب ہیں، جو کسی ایک حصے میں ہونے والے نقصان کو پوری بیس میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے اس جنگ کی تیاری محض راکٹ بنا کر نہیں کی، بلکہ انہوں نے گرینائٹ کی ڈھال کے نیچے جدید ترین میزائل شہر تعمیر کر کے اپنی بقا اور جوابی کارروائی کی صلاحیت کو یقینی بنایا ہے۔

یہی وہ زیرِ زمین بنیادی ڈھانچہ ہے، جس نے ایران کو ہفتوں سے جاری شدید ترین حملوں کے باوجود دشمن کو نقصان پہنچانے کے قابل رکھا ہوا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔