صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف مکمل اور حتمی فتح حاصل کرنے کا دعویٰ

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کو امریکہ کی مکمل اور حتمی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم اب ان کی شرائط کے مطابق سنبھالا جائے گا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تفصیلی ردعمل میں اسے امریکہ کی ایک بہت بڑی عسکری اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے ایک مکمل اور حتمی فتح حاصل کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی بنیاد ہماری فوجی برتری پر رکھی گئی ہے اور ہم نے وہ سب حاصل کر لیا ہے، جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : جنگ بندی ایران کے خلاف امریکہ کی بڑی فتح ہے، وائٹ ہاؤس کا دعویٰ
ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اس معاہدے کے تحت مکمل اور بہترین طریقے سے نمٹایا جائے گا۔
اگرچہ انہوں نے اس عمل کی تکنیکی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر یورینیم کے مسئلے پر ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اس جنگ بندی کے لیے راضی نہ ہوتے۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر یہ دو ہفتوں کا معاہدہ کسی وجہ سے ناکام ہو جاتا ہے، تو کیا وہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور شہری ڈھانچے کو تباہ کرنے کی اپنی پرانی دھمکیوں پر دوبارہ عمل کریں گے؟
اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے انتہائی پراسرار انداز اختیار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ اس کے لیے آپ کو انتظار کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے اگلے ماہ اپنے دورہ چین اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بیجنگ نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










