’بش، اوباما اور بائیڈن نے ایران پر حملے سے انکار کیا مگر ٹرمپ نیتن یاہو کی باتوں میں آگئے‘

Netanyahu to visit US on July 7; Gaza ceasefire likely
واشنگٹن: امریکا کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ماضی میں تین بار اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی تجویز کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق مختلف ادوار میں یہ مطالبہ سامنے آیا، لیکن امریکی قیادت نے اسے قبول نہیں کیا۔
ایک انٹرویو میں جان کیری نے بتایا کہ سابق صدور جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اس تجویز کو واضح طور پر رد کر دیا تھا۔ ان کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی چاہتا تھا۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قیادت نے صدر اوباما کے سامنے باقاعدہ پریزنٹیشن بھی دی تھی تاکہ انہیں حملے پر آمادہ کیا جا سکے، لیکن اس کے باوجود اوباما نے انکار کر دیا۔ بعد میں اسی نوعیت کی تجویز دیگر صدور کے سامنے بھی آئی، تاہم ہر بار اسے مسترد کیا گیا۔
جان کیری نے کہا کہ صورتحال اس وقت بدلی جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے، کیونکہ ان کے بقول ٹرمپ وہ واحد امریکی صدر تھے جنہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف کو قبول کیا اور اس کے قریب گئے۔
ان کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر امریکا اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ خطے کی صورتحال پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












