اتوار، 12-اپریل،2026
اتوار 1447/10/24هـ (12-04-2026م)

امریکہ ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، امریکی نائب صدر بغیر معاہدے امریکہ روانہ

12 اپریل, 2026 08:35

اسلام آباد میں اکیس گھنٹوں پر محیط طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے پاک امریکہ اور ایران مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔

اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم اور پاک فوج کے سربراہ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں بہترین میزبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں جو بھی خامیاں رہیں اس کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستانی حکام نے امریکہ اور ایران کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں غیر معمولی اور بہترین کردار ادا کیا ہے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ اکیس گھنٹوں سے جاری مسلسل مذاکرات میں ایرانی حکام کے ساتھ کئی ٹھوس اور اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ افسوسناک خبر بھی سنائی کہ فریقین کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عراقی پارلیمنٹ نے نذر محمد سعید امیدی کو صدر منتخب کرلیا

جے ڈی وینس کے مطابق یہ ناکامی امریکہ سے زیادہ ایران کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ ہم نے اپنی سرخ لکیریں اور وہ تمام باتیں واضح کر دی تھیں، جن پر ہم لچک دکھا سکتے تھے اور جن پر سمجھوتہ ممکن نہیں تھا، مگر ایران نے ہماری شرائط کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایرانی انکار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر امریکی نائب صدر نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایران سے اس بات کی پختہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران نہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر رہے بلکہ وہ ایسے آلات بھی حاصل نہ کر سکے، جن سے مستقبل میں تیزی سے ایٹم بم بنانا ممکن ہو۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ایران کی افزودگی کی تنصیبات پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہیں لیکن اصل سوال نیت کا ہے کہ کیا ایران طویل مدت کے لیے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کا عزم رکھتا ہے یا نہیں، جو کہ فی الحال نظر نہیں آ رہا۔

مذاکراتی عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ امریکی وفد صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نیک نیتی کے ساتھ لچکدار رویہ اپنا کر یہاں آیا تھا تاکہ ہر ممکن حد تک معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اکیس گھنٹوں کے دوران وہ درجنوں بار صدر ٹرمپ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور انہیں پل پل کی خبر دیتے رہے۔

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکہ اب اپنا حتمی اور بہترین ممکنہ فارمولا پیش کر کے واپس جا رہا ہے، اب یہ گیند ایران کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس آخری پیشکش کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔