سفارت کاری ہمارے لیے مقدس جہاد ہے، امریکہ جرائم نہیں بھولیں گے، اسماعیل بقائی

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد مذاکرات کے اختتام پر بیان جاری کرتے ہوئے سفارت کاری کو مقدس جہاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام سفارتی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور سخت گیر مؤقف پر مبنی بیان جاری کیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایرانی سرزمین کے دفاع کے لیے سفارت کاری دراصل ان کے مجاہدین اور محافظوں کے مقدس جہاد کا ہی ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے ماضی کے تلخ حقائق کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکہ کی جانب سے کی جانے والی وعدہ خلافیوں اور شرپسندانہ اقدامات کو نہ کبھی بھولا ہے اور نہ ہی کبھی فراموش کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے دوران امریکہ اور صیہونی ریاست کی جانب سے کیے جانے والے گھناؤنے جرائم ناقابلِ معافی ہیں۔
ترجمان نے اسلام آباد میں ایرانی وفد کی مصروفیات کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کی صبح سے شروع ہونے والا مذاکراتی عمل انتہائی طویل اور اعصاب شکن رہا۔ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان پیغامات اور تحریری دستاویزات کا تبادلہ مسلسل جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں : ہمیں مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں، گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، ایران
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مذاکرات کار اپنی تمام تر صلاحیتوں، علم اور تجربے کو ایران کے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایرانی قوم نے اپنے بزرگوں اور پیاروں کی صورت میں جو عظیم نقصانات برداشت کیے ہیں، انہوں نے ایرانی قوم کے حقوق کے حصول کے لیے ان کے ارادوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور توانا کر دیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کوئی بھی طاقت ایران کو اس کے تاریخی مشن اور عظیم تہذیب کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی مفادات اور ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سفارت کاری سمیت ہر ممکنہ حربہ استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی بات چیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے بنیادی نکات میں آبنائے ہرمز، جوہری معاملہ، جنگی نقصانات کا ازالہ، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور ایران سمیت پورے خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔
بیان کے آخر میں اسماعیل بقائی نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کو دوسرے فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی سے مشروط کر دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مخالف فریق کو چاہیے کہ وہ حد سے زیادہ مطالبات اور غیر قانونی خواہشات سے باز رہے اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرے۔
ترجمان نے اسلام آباد میں ان مذاکرات کی میزبانی کرنے پر حکومتِ پاکستان اور پاکستان کے غیور و معزز عوام کا شکریہ ادا کیا اور امن کے اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












