برطانیہ کا آبنائے ہرمز کیلئے نیا اتحاد بنانے کا فیصلہ، امریکی ناکہ بندی کا حصہ بننے سے انکار

برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے فرانس اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک وسیع اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، تاہم لندن نے امریکی بحری ناکہ بندی میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک فرانس اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز بھیجیں گے۔
برطانیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹیکس یا ٹول وصول نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی معیشت اور عام لوگوں کی زندگیوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اعلانِ جنگ قرار دے دی، مزاحمتی محاذ کو الرٹ رہنے کا حکم
اگرچہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے تصدیق کی ہے کہ ان کے مائن سویپرز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں، لیکن برطانوی حکام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
برطانیہ کی پالیسی صرف تجارتی جہازوں کے تحفظ تک محدود ہے، نہ کہ ایران کے خلاف کسی جارحانہ فوجی کارروائی یا ناکہ بندی میں تعاون کرنا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اور اس کے یورپی اتحادی ایران کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں، جبکہ وہ سمندری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











