پیر، 13-اپریل،2026
پیر 1447/10/25هـ (13-04-2026م)

ایرانی بحریہ کی تباہی کے ٹرمپ کے دعوے جھوٹے نکلے، امریکی ماہرین نے حقیقت بیان کر دی

13 اپریل, 2026 13:02

امریکی صدر کے ایرانی بحریہ کو مکمل تباہ کرنے کے دعوؤں کی حقیقت خود امریکی اور اسرائیلی تھنک ٹینک کے ماہرین نے کھول دی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری بیڑے کا بڑا حصہ اب بھی مکمل فعال ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بحریہ کو جڑ سے ختم کرنے اور اسے سمندر کی تہہ میں پہنچانے کے دعوے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے محقق فرزین ندیمی، جو کہ ایک سخت گیر پرو اسرائیل تھنک ٹینک سے وابستہ ہیں، نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی ساٹھ فیصد سے زائد تیز رفتار کشتیوں اور بیڑوں پر مشتمل بیڑہ اب بھی مکمل طور پر سلامت اور فعال ہے۔

صدر ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تہران کے پاس اب کوئی بحری طاقت نہیں بچی، لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور ایران کا غیر روایتی بحری دفاعی نظام اب بھی امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر کی خود پسندی، مذہبی پیشوا بن بیٹھے، پوپ لیو پر الزامات کی بوچھاڑ

سابق امریکی دفاعی عہدیدار ڈیوڈ ڈیس روچز کے مطابق ایران کی چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں روایتی بڑے بحری جہازوں کے مقابلے میں سیٹلائٹ کے ذریعے ٹریک کرنا انتہائی مشکل ہیں اور یہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔

ایران کے پاس دنیا کا سب سے بڑا تیز رفتار کشتیوں کا بیڑہ موجود ہے، جو کسی بھی بڑی بحریہ کے خلاف غیر متناسب جنگ چھیڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کشتیاں بھاری مشین گنوں، راکٹ لانچرز، اینٹی شپ میزائلوں اور ٹارپیڈوز سے لیس ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کے پاس ڈرونز کا وسیع ذخیرہ، ساحلی مختصر فاصلے کے میزائل سسٹم اور اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل موجود ہیں، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنا کر اس اہم تجارتی راستے کو کامیابی سے بند کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس، تہران کی عسکری صلاحیتیں اب بھی خطے میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر موجود ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔