بدھ، 29-اپریل،2026
بدھ 1447/11/12هـ (29-04-2026م)

ہفتہ وار تیل کا بل 30 کروڑ سے 80 کروڑ ڈالر ہو گیا، جو ملکی معیشت کیلئے چیلنج ہے، وزیر اعظم

29 اپریل, 2026 15:06

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے خطے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے معاشی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے حالیہ ہفتوں میں رونما ہونے والے تزویراتی اور معاشی واقعات پر کابینہ کو مکمل اعتماد میں لیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ گیارہ اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا، جس میں دونوں فریقین کے درمیان اکیس گھنٹے طویل نشست ہوئی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے بے پناہ کاوشیں کی ہیں اور ان کوششوں کے نتیجے میں ہی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی جو تاحال جاری ہے۔

انہوں نے اس امن مشن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی پوری ٹیم کی صدق دل سے کی گئی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے برادر ملک ایران کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، امن عمل کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا، جن کے ساتھ نہایت تفصیلی نشست ہوئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عباس عراقچی نے عمان اور روس کا بھی دورہ کیا ہے اور وہ اپنی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد پاکستان کو حتمی جواب دیں گے۔ وزیراعظم نے اس پورے عمل میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں کو بھی قابل ستائش قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : چین کے تیل کے ذخائر مستحکم، توانائی کے بحران سے نمٹنے کی نئی کامیاب مثال

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی اس صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں، جس نے پاکستان کے معاشی بوجھ میں اضافہ کر دیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق، جنگ سے پہلے پاکستان کا تیل کا ہفتہ وار بل تیس کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر اسی کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال ہے۔

معاشی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ملکی معاشی استحکام کی کوششوں پر اثرات مرتب کیے ہیں، تاہم حکومت روزانہ کی بنیاد پر ٹاسک فورس کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔

انہوں نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی کارکردگی کو سراہا اور بتایا کہ پاکستان نے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کر دیے ہیں، جو ملکی ساکھ کے لیے مثبت علامت ہے۔ وزیراعظم نے مشکل وقت میں تعاون پر سعودی عرب کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

اجلاس کے اختتام پر انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کا جائزہ لیا اور صوبوں کے ساتھ مل کر پبلک ٹرانسپورٹ و دیگر شعبوں میں سبسڈی جاری رکھنے کے لیے مشاورت کا یقین دلایا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوموں کی زندگی میں مشکل مراحل آتے ہیں، لیکن ہم ہمت، محنت اور یکسوئی سے ان مسائل پر قابو پا لیں گے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔