جنوبی وزیرستان (انگور اڈا) میں افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری؛ قبائلی ردعمل اور مؤقف سامنے آگیا

جنوبی وزیرستان لوئر کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں سرحد پار سے مبینہ گولہ باری کے واقعات کے بعد علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق 26 اور 29 اپریل کو پیش آنے والے ان واقعات میں سول آبادی متاثر ہوئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق گولہ باری کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال وانا اور سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اہلِ علاقہ نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کارروائیاں عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہیں، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مقامی افراد کے مطابق ان واقعات کے بعد علاقے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل کشیدگی کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
قبائلی عمائدین نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے علاقے کے دفاع کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور امن کے قیام کے خواہاں ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے افواج پاکستان کی جانب سے زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










