پائیدار معاہدے کیلئے امریکہ کا معاشی فائدہ بھی ضروری ہے : ایرانی نائب وزیر خارجہ

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی سفارت کاری حامد غنبری نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ اسی صورت پائیدار ثابت ہو سکتا ہے جب اس سے واشنگٹن کو بھی واضح اور فوری معاشی فائدہ حاصل ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے میں ایسا پہلو شامل نہ ہو جس سے امریکہ کو مالی طور پر فائدہ پہنچے تو اس کی طویل مدتی کامیابی مشکوک رہے گی۔
حامد غنبری نے ایرانی چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے معاہدے میں امریکہ کو براہِ راست مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا تھا، جس کے باعث وہ دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔ اس بار صورتحال مختلف ہونی چاہیے اور ایسے شعبوں کا انتخاب ضروری ہے جہاں تیز اور نمایاں معاشی منافع ممکن ہو۔
انہوں نے وضاحت کی کہ توانائی کے شعبے، تیل اور گیس، مشترکہ ذخائر اور معدنیات میں سرمایہ کاری جیسے میدان ایسے ہو سکتے ہیں، جہاں دونوں ممالک کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے جن میں کم رکاوٹیں ہوں اور اندرونِ ملک حساسیت بھی کم ہو تو معاہدے تک پہنچنا آسان ہوگا۔
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر تجاویز ایسے شعبوں میں دی گئیں جو کم منافع بخش ہوں یا اندرونی سطح پر شدید حساسیت پیدا کریں تو کسی سمجھوتے تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ عملی اور قابلِ عمل راستہ اختیار کیا جائے تاکہ دونوں فریق اسے قبول کر سکیں۔
دوسری جانب انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو بھی اپنے منجمد یا محدود مالی وسائل کی واپسی درکار ہے۔ بیرونِ ملک روکی گئی ایرانی رقوم کی واپسی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مختلف طریقہ کار زیرِ غور ہیں، جن میں یا تو معاہدے کے آغاز پر ہی مکمل ادا کیا جائے یا پھر ہر مرحلے کی تکمیل کے ساتھ مرحلہ وار ادائیگی کی جائے۔
حامد غنبری نے زور دے کر کہا کہ رقوم کی رہائی حقیقی اور قابلِ استعمال ہونی چاہیے۔ انہوں نے ماضی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ رقم ایک ملک سے منتقل ہو کر کسی دوسرے مقام پر دوبارہ محدود کر دی جائے۔ ایران ایسی علامتی یا محدود رہائی کو قبول نہیں کرے گا بلکہ وہ مکمل اور عملی رسائی چاہتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












