جمعرات، 5-مارچ،2026
جمعرات 1447/09/16هـ (05-03-2026م)

سندھ پولیس میں روٹیشن پالیسی غیر فعال، سیاسی اثر و رسوخ نے میرٹ کی جگہ لے لی

05 مارچ, 2026 12:55

سندھ پولیس میں روٹیشن پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونے اور سیاسی مداخلت کے باعث پولیس افسران میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جہاں میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ پولیس میں روٹیشن پالیسی مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے اور سیاسی اثر و رسوخ تمام تر پیشہ ورانہ امور پر حاوی نظر آتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے افسران اپنی مدت پوری کرنے کے باوجود سندھ میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، جبکہ سندھ کے اپنے افسران تعیناتی کے منتظر اور دربدر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سندھ کی ایرانی قونصل خانے آمد، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت

حال ہی میں ایک ڈی آئی جی کو لانے کے لیے دوسرے افسر کی قربانی دی گئی، جس کے تحت شوکت کھتیان کو اسلام آباد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ عبدالسلام شیخ کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی سے واپسی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

پولیس کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے واضح احکامات کو بھی نظر انداز کیا گیا اور افسران کو چارج چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

اس صورتحال سے سندھ سے باہر تعینات افسران میں بھی بے چینی پھیل گئی ہے کیونکہ میرٹ کے بجائے سفارش پر مبنی تعیناتیوں نے محکمے کے ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔