پیر، 15-جون،2026
پیر 1447/12/29هـ (15-06-2026م)

سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا تحریری فیصلہ جاری

28 دسمبر, 2023 19:52

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ 4 ہفتے میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم کالعدم قرار دے چکی ہے، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرائل کورٹ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کررہی ہے، سائفر کیس ٹرائل کی کارروائی 11 جنوری تک روکنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے بتایا 21 دسمبر تک ان کیمرہ ٹرائل میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، اٹارنی جنرل نے بتایا 13 میں سے 4 گواہان دفتر خارجہ کے سائفر سیکیورٹی سسٹم سے منسلک ہیں، اٹارنی جنرل نے بتایا 4 گواہوں کے بیانات خفیہ ریکارڈ کرنا ملکی سلامتی کیلئے اہم ہے، بقیہ 9 گواہوں کے ان کیمرہ بیانات قانون کے مطابق نہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف سائفر کیس کا ٹرائل روک دیا

عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق 21 دسمبر کے بعد اوپن ٹرائل میں 12 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوئے، محض پراسیکیوشن کی درخواست پر اوپن ٹرائل کو ان کیمرہ نہیں کیا جاسکتا، 9 گواہوں کے ریکارڈ کیے گئے بیانات کو دوبارہ ریکارڈ کرنے کو حتمی فیصلے میں دیکھا جائے گا، سائفر ٹرائل میں خصوصی عدالت نے گواہوں کے بیانات کی مصدقہ کاپیز جاری کیں، عدالت مصدقہ کاپیز سے جائزہ لے گی کہ ریاست کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم کی وجوہات جاری کی گئیں۔

حکم نامے کے مطابق 14 دسمبر کو ٹرائل کورٹ نے سیکشن 14 کے تحت ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیا، 23 دسمبر کے آرڈر میں ٹرائل کورٹ نے نظرثانی کی نہ 14 دسمبر کا آرڈر واپس لیا، کچھ لوگوں کو ٹرائل کی کارروائی کے ودران بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔