جنگ کے خاتمے تک امریکہ سے جوہری معاملے پر بات نہیں ہوگی، ایران
ایران نے اعلان کیا ہے کہ جب تک جنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

ایران نے اعلان کیا ہے کہ جب تک جنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
ایران میں بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے خلاف ردعمل کے طور پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی سے ایران کے ممکنہ انخلا پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیلیفورنیا کے شہروں لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کی ممکنہ تباہی کو جنگ کی چھوٹی قیمت قرار دینے پر ان کی اپنی پارٹی اور ڈیموکریٹس کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو اپنے جوہری افزودگی کے پروگرام میں معنی خیز کمی کرنا ہوگی۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی مشرق وسطیٰ میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور مبینہ مفادات کے تصادم پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایرانی حملوں کے خطروں کے باعث مغربی ایشیا میں اب صرف یو ایس ایس جارج واشنگٹن نامی واحد امریکی طیارہ بردار جہاز باقی بچا ہے جبکہ باقی جہاز خطے سے روانہ ہو چکے ہیں۔
محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کو فوجی جنگ کی طرح معاشی جنگ میں بھی ناکامی ہوگی اور آبنائے ہرمز دباؤ کے تحت نہیں کھولی جائے گی۔
ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت امریکی معاشی جنگ کے دباؤ کے باوجود نہیں گرے گی، خطرناک افراط زر کے امریکی ہدف کو ناکام بنا دیا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
امریکی صدر نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کے آریف فیئر فورڈ اڈے کو کچھ خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے امریکی بمبار طیارے وہاں سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع کی گئی تو اس کی لپیٹ میں ہر کوئی آ جائے گا۔
ایرانی صدر نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں کیونکہ جب بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، جنگ مسلط کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک وہ مذاکرات کے بعد 3 بار ہم پر حملے کر چکے ہیں، جو ثبوت ہے کہ وہ کسی قسم کے مکالمے کے خواہاں نہیں۔
مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے اور ذخائر جاری کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جس پر ماہرین حیران ہیں۔
ایران نے ایرانی سرزمین پر اسٹارلنک کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکامی پر ناروے کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے آنے والے ہفتوں میں اسرائیل میں اضافی فوج اور طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک نامعلوم سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر امریکا نے برطانیہ کے ایئربیس سے اپنے تمام طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی ون بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کر دیے ہیں۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب برطانوی پولیس نے برطانوی ایئربیس کے قریب ایرانی مبینہ سازش کے الزام میں چند افراد کو گرفتار کیا تھا۔
ایران کی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر ریئر ایڈمرل علی فدوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے امریکی فوج کو ایران کی سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر دور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی نگران راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
عراق سے امریکی فوج کا انخلاء مغرب ایشیا میں بیرونی تسلط کے خاتمے اور مزاحمت کی فتح کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس سے صیہونی ریاست کے اسٹریٹجک منصوبے بھی شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
ایرانی جنرل علی بلالی نے کہا ہے کہ ملک میں میزائلوں کی تیاری کا تمام سامان مقامی سطح پر تیار کیا جا رہا ہے اور دفاعی پیداوار کے لیے کسی غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ سخت امریکی ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور مہنگائی 90 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس بات پر بضد ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے، اگر تہران نے مزاحمت کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری منصوبوں کو عملی طور پر ترک کر دیا ہے اور اب تہران کو آسان یا مشکل راستے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
امریکی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر امریکہ نے اقوام متحدہ میں موجود ایرانی وفد کے دو سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔ ریاست الاباما میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ملک میں تقریباً 310 فیصد مہنگائی کا بھی حوالہ دیا، تاہم یہ اعداد و شمار ان کے بیان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کسی نہ کسی صورت جلد ختم ہوجائے گی اور ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد اس کا اختتام ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں مزید کم ہوکر ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی سطح سے بھی نیچے جاسکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ نئے امریکی حملوں کی صورت میں وہ مشرق وسطیٰ اور خطے سے باہر بھی شدید اور وسیع تر ردِعمل دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے الزام لگایا ہے کہ ایران ساٹھ فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے جس کا کوئی پرامن مقصد نہیں ہے، جبکہ تہران نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
ایک نئے پول کے مطابق 71 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے اقدامات سے ناخوش ہیں اور معاشی اثرات کی وجہ سے جنگ پر تنقید کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی قلت کے پیش نظر ڈیزل کی برآمد پر پابندی کے تناظر میں یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل کے ذخائر فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں کے ذریعے 9 ہزار اضافی فوجی روانہ کر دیے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا رہے گا اور روس تہران کے ساتھ مل کر ایران کا افزودہ یورینیم ملک سے باہر نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ستمبر کے مہینے میں ایران نے تیل کے ٹینکروں میں ایک بوند بھی خام تیل لوڈ نہیں کیا۔
ایران نے بلومبرگ کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے جوہری تنصیبات تک رسائی کی کوئی تجویز پیش کی تھی۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے انتخابات میں کامیابی کے لیے ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کی غرض سے طیارہ اغوا کرنے کی جھوٹی سازش تیار کی تھی۔
پاسداران انقلاب کے سینئر مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے کہا ہے کہ امریکا نے اپنی تمام طاقت آزما کر دیکھ لی ہے لیکن وہ ناکام رہا ہے، اس لیے اب ایران کے خلاف حملے بند کرنا ہی اس کی بقا کا واحد راستہ ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگ سیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری و دفاعی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرتے ہوئے اس کے جوہری عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے ناگزیر قرار دیا اور یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو مزید بڑھایا جائے یا کوئی سمجھوتہ کیا جائے، انہوں نے ایران کو معاشی ریلیف کی پیشکش کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنگ بہت جلد کسی نہ کسی انجام تک پہنچ جائے گی۔
امریکی وزارت خارجہ نے قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں تعطل اور کسی پیشرفت کے عدم حصول کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت پورے ایرانی وفد کو امریکا چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے واقعے سے ایران کو جوڑنے کی برطانوی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ مبینہ دہشت گردوں کو خود رہا کرکے ایران پر الزام تراشی کرنے کی غلطی کر رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایران مخالف معاشی دعوؤں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی بلند قیمتیں امریکی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل رہی ہیں جب تک واشنگٹن ایرانی قوم کے حقوق تسلیم نہیں کرتا وہ معاشی مشکلات سے نہیں نکل سکتا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی میزبانی کرنے پر شدید نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خفیہ دورے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل کو توڑنے کے لیے قطری ثالثوں کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، جس سے دوبارہ فوجی تنازع کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی حکومت کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرائط کے جواب میں امریکہ کی جانب سے ایک نئی سفارتی تجویز تہران کو موصول ہو چکی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے رہنماؤں سے جڑے خفیہ مالیاتی نیٹ ورک اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے پر ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر تک کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اپنی ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے گا۔
قطری وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے صرف چند منٹ قبل وائٹ ہاؤس نے قطری وزیراعظم کو عسکری کارروائی سے متعلق آگاہ کیا تھا، جب قطراس تنازع کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا تھا۔
امریکہ نے ایران کے عسکری پروگرام کی مبینہ مالی معاونت اور سازوسامان کی غیر قانونی خریداری میں ملوث ہونے کے الزام میں دس شخصیات اور اداروں پر نئی اور سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔
سعودی عرب کی کابینہ کے اجلاس میں خطے کی اہم آبی گزرگاہوں میں بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ مسجد اقصی کے تقدس کی پامالی اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل فوجی میدان میں شکست کے بعد اب ملک کے اندرونی حالات کو خراب کرنے اور انتشار پھیلانے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں۔
محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف فضائی محاصرے کا سہارا لے رہا ہے، تاہم وہ خود ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے، جہاں سے نہ وہ مذاکرات کر سکتا ہے اور نہ ہی جنگ لڑ سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ صدر شیخ محمد بن زاید نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ایسی خبر کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ایران کو امریکہ کے جواب کا انتظار ہے۔
ایران نے جوہری مؤقف میں لچک سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کر کے اماراتی صدر سے ایک گھنٹہ بند کمرہ ملاقات کی، جسے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں کہا ہے کہ تہران امریکا اور اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف انصاف کا حصول ہرگز نہیں چھوڑے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا حامل ایران دنیا کو بلیک میل کرے گا اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے اور برینٹ خام تیل 105.91 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت آزادانہ ہونی چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پابندیوں میں نرمی یا منجمد اثاثے دینے کی تردید کرتے ہوئے اس ہفتے مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہونے والی ہے جس سے عالمی مہنگائی بھی ختم ہو جائے گی۔
امریکا نے کہا ہے کہ ایران سے ثالثوں کے ذریعے مثبت بات چیت جاری ہے، مگر جوہری معاملات حل کیے بغیر کوئی حتمی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔
امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے مثبت مذاکرات جاری ہیں اور جوہری پیشرفت کی صورت میں منجمد اثاثے جاری ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور معاشی ریلیف دینے کی مشروط پیشکش کر دی ہے۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ بیرونی تسلط اور جبر کے پرانے دن اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکے ہیں، دشمن خواہ کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لیں، وہ تاریک دور کبھی واپس نہیں آ سکتا۔
برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس نے گلوسٹر شائر میں امریکی فضائیہ کے زیر استعمال آر اے ایف فیئر فورڈ ایئر بیس پر حملے کی سازش کے شبے میں پانچ افراد کو گرفتار کر کے ایران کے ملوث ہونے یا ہونے سے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی امن تجویز کو مسترد کیے جانے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن طویل المدتی دباؤ کے ذریعے بہتر شرائط حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن اس تاخیر سے ٹرمپ کے لیے سیاسی اور معاشی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ائیرپورٹ مکمل طور پر فعال ہے اور تیس سے زائد بین الاقوامی منازل کے لیے پروازیں جاری ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ترسیلات بڑھانے کے بعد مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کا امن معاہدہ مسترد کیے جانے کے بعد آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کا اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کروز میزائل حملے میں 8 امریکی میرینز زخمی ہو گئے، جنہیں سانس کی تکلیف اور دماغی چوٹیں آئی ہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق ایران کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں ہٹانے اور منجمد اثاثے جاری کرنے کے مطالبات ناقابل قبول ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس اب صرف ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل باقی ہے اور وہ جلد تیل کے بدلے اشیا کا تبادلہ کرنے کی صلاحیت کھو دے گا، جبکہ تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے لیکن وہ خطے میں امن اور سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے خواہاں ہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز میں ایک اور جدید امریکی زیر آب ڈرون پکڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک قیمتی انٹیلی جنس انعام قرار دیا ہے، جو امریکی جاسوسی کارروائیوں کو بے نقاب کرے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کا یہ دعویٰ کہ وہ اس راستے کو کنٹرول کرتا ہے، سراسر جھوٹ ہے کیونکہ عالمی تیل منڈی میں قیمتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز پر اب بھی ایران کا کنٹرول ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی وزیر خزانہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد حکومتیں واشنگٹن کے حکم پر نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔
چینی نائب صدر ہان چیانگ نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی سلامتی کی حمایت، حملوں کی مذمت اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی آزادی پر زور دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم کے نتیجے میں ترکی، عمان اور امارات نے ایرانی پروازوں اور بینکنگ لین دین پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، یہ کوششیں نتائج دے رہی ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے جدید فوجی ٹیکنالوجیز اور حیران کن دفاعی تیاریاں مکمل ہیں۔
ایرانی پارلیمانی کمیشن کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، آبنائے ہرمز بند رہے گی اور امریکی دباؤ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ سابقہ مذاکرات کے دوران دھوکے اور پابندیوں کے تجربات کے بعد اب تہران کو واشنگٹن کی نیت پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ثالثی جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنی شرائط پر امریکہ کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے اور مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں اور حالیہ زخم بھی ٹھیک ہو چکے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے دو ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جن میں سے ایک سات گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے پزشکیان نے کہا کہ اگر امریکا ایران کی پیشکش قبول کرتا ہے تو ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات بحال کرنے سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے پیشکش قبول کیے جانے کے ساتھ ہی مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے، جبکہ تہران کو خدشہ ہے کہ مذاکرات کے بعد واشنگٹن اپنے وعدوں پر عمل کرے گا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں، دھمکیوں اور حملوں کے باعث براہ راست مذاکرات مشکل ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کی حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے چین کی حمایت قابلِ قدر ہے۔ ان کے مطابق ایران بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی جانب واپسی اور پہلے سے طے شدہ وعدوں کی پاسداری کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے، جبکہ خودمختاری کا احترام اور کشیدگی میں کمی خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور سات روز کے اندر علاقائی لڑائی روکنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر کے کانگریسی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم رائٹرز نے اس رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ منصوبے کے تحت معاہدہ ہونے کے بعد سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
ایران نے امریکا کو جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں کہا کہ مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں سات روز بعد آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے۔
عراقچی کے مطابق یہ منصوبہ ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا ہے، جس پر اتفاق ہونے کی صورت میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
ایرانی تجویز میں خطے میں جنگ بندی، امریکی معاشی دباؤ اور بحری ناکہ بندی میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی جیسے معاملات شامل ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے منصوبہ قبول کیے جانے کے بعد سات روز کی مدت شروع ہوگی اور ساتویں روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس اہم بحری راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن اور سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اسلام آباد میں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم راستے ہیں اور انہیں تنازعات کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو پاکستان سنگین معاملہ تصور کرے گا۔
فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی جبکہ لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے افغان حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں آبنائے ہرمز کی بحالی پر زور دیا اور برطانوی سرزمین پر سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کی تنبیہ کی۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی اور چینی صدور کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں چینی صدر نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے فوری مذاکرات کریں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا اور عالمی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات اور معاہدے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سات روزہ شرائط پر مشتمل تجویز پیش کی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے فوجی اقدامات نے جنگ کی مساوات بدل دی ہیں اور امریکہ کو افواج منتشر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا یہ اعتراف کہ امریکی جارحیت میں یورپی اڈوں سے پانچ ہزار کے قریب پروازیں کی گئیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ اس جارحیت کا حصہ تھا۔ یورپ کو اس کا حساب دینا ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کینیڈین وزیراعظم کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منافقت کا سہارا ہمیشہ نہیں چل سکتا اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
امریکی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ کی طویل تعیناتی کے دوران ملاحوں نے خودکشی کی آٹھ کوششیں کیں، جن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی اور خطے میں امن کے لیے سفارتکاری پر زور دیا۔
سینٹکام کے مطابق امریکہ کی بحری ناکہ بندی کے تحت ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے ایک سو پندرہ تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک میں سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ایئرلائنز نے بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جارجیا، آذربائیجان اور دیگر ممالک نے فضائی خدمات معطل کر دی ہیں، جس سے زمینی راستوں پر رش بڑھ گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ عسکری، معاشی اور مالیاتی دباؤ کی مربوط حکمت عملی کے نفاذ کے بعد اب ایرانی حکومت ایک کونے سے لگی ہوئی محصور قوت کی طرح بن چکی ہے، اسے جلد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔
ایران کے جوہری سربراہ نے کہا ہے کہ عالمی ایجنسی کو تمام تنصیبات تک رسائی دی گئی اور کسی قانون شکنی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی، تہران کا جوہری سفر جاری رہے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی اور ڈچ ہم منصبوں سے ملاقاتوں میں یورپی ممالک کے دہرے معیار اور ایران کے خلاف جارحیت پر خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے امریکی صدر کی تباہی کی دھمکی کو اسٹریٹجک مایوسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج امریکا اور اسرائیل کے خلاف انتہائی شدید اور غیر متوقع کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ علم اور اخلاق دشمن کی جارحیت کے خلاف مضبوط ڈھال ہیں۔ اس دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے طلباء اور اساتذہ کو بھی یاد کیا گیا۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مٹانے کی دھمکی کو جنگی جرم اور بربریت قرار دیتے ہوئے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی جنگ کو فوری بند کیا جائے۔
ایران کے حساس جزیرہ قشم کے قریب سمندر کی سمت سے پراسرار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، تاہم کسی میزائل حملے کی تردید کی گئی ہے اور مقامی حکام معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کے ساتھ ایران کی بات چیت کی خبروں اور سعودی عرب کی جانب سے اہم پائپ لائن کی بحالی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ثالثوں کے ذریعے تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی ہے، جو خوش آئند ہے اور اس سے کسی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران کی مسلح افواج نے مشترکہ بیان میں امریکی صدر کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جارحین کو مزید شدید اور غیر متوقع دھچکے دیے جائیں گے، امریکی دھمکیاں واشنگٹن کے اسٹریٹجک تعطل کو چھپا نہیں سکتیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک روانگی سے قبل کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ملک کا موقف اور طاقت پوری قوت سے دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے دوران پکڑے جانے والے امریکی زیر آب ڈرون کی ریورس انجینئرنگ شروع کریں گے۔
نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث اس کی ساکھ اور اس پر عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد بھی ایک ایسے ماحول سے گزر رہا ہے جسے وہ عملاً حالتِ جنگ قرار دیتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت اب ان تمام غیر ملکی تجارتی کمپنیوں کے خلاف سخت ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر چکی ہے، جو ایرانی ایئرلائنز کو کسی بھی قسم کی سروسز فراہم جاری رکھیں گی، جس سے تمام ایرانی ایئرلائنز عالمی سفر کے لیے عملی طور پر بند ہو سکتی ہیں۔
امریکی سینیٹر مارک وارنر کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث امریکی عوام کو گاڑیوں کے لیے گیس اور ڈیزل کی قیمتوں کی مد میں اضافی 100 ارب ڈالر جبکہ روزمرہ کی گھریلو اور کھانے پینے کی اشیاء، قرض سمیت دیگر بنیادی ضروری اشیاء کے لیے کم از کم مزید 60 ارب ڈالر ادا کرنا پڑے ہیں
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک سپلائی کے نظام کو مستحکم کرنے اور علاقائی مسائل کے سفارتی حل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔
امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کی توانائی تنصیبات کی بحالی کے لیے 5 ارب ڈالر کے فنڈ کا ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے, تاہم خلیجی ممالک نے اس امریکی منصوبے پر اپنے گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے.
اقوام متحدہ کے ترجمان نے پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والا مفاہمت کی یادداشت کا معاہدہ ایک بڑی کامیابی تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی درخواست پر یمنی حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دینے کے بعد عین وقت پر فیصلہ بدل دیا، کیونکہ ان کے قریبی مشیروں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران نیا محاذ کھولنے کی مخالفت کی تھی۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی، کیونکہ امریکی معاشی دباؤ اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے وقت واشنگٹن کے حق میں ہے۔
تہران میں امریکی ورچوئل سفارتخانے نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فضائی بندش کے پیش نظر سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے اپنے تمام شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے نیویارک میں فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی ایران جنگ کو زلزلہ قرار دیا، جس کی لہریں پوری دنیا میں محسوس ہو رہی ہیں، اور خبردار کیا کہ جب تک خطے میں خودمختاری کا احترام نہیں ہوتا مستقل امن ممکن نہیں۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ آزادانہ ٹریکنگ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد امریکی فوج کے بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں کم ہے، جبکہ خطے میں ایرانی حملوں کی وجہ سے خطرے کی سطح اب بھی شدید ہے۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے علاقائی صورتحال پر زور دیا ہے کہ عالمی قوانین کی پاسداری، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، تنازعات کا پرامن حل اور عالمی آبی گزرگاہوں میں آزاد جہاز رانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایران میں دیسی ساختہ ائیر ڈیفنس سسٹمز نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک آبی راستے پر پرواز کرنے والا امریکی اوربیٹر جاسوس ڈرون کامیابی سے مار گرایا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ قطری ثالث پسِ پردہ رہتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر کام کر رہے ہیں اور فریقین کے درمیان پائے جانے والے خلیج کو ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر فیصلہ کن موڈ میں ہیں اور بہت جلد بڑے واقعات رونما ہوں گے۔ انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میز پر موجود آپشنز میں ایران کا مکمل خاتمہ، معاشی تباہی یا کوئی معاہدہ شامل ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ایران اپنا رویہ درست کرلے۔
ایران کی مشترکہ عسکری کمانڈ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کوئی بھی جارحیت کی گئی تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈوں اور مفادات کو دردناک اور مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے اپنے مطالبات اور شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہیں۔ جب تک ایران کے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور امریکی وعدوں پر عمل نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو معمول کی صورتحال میں واپس لانے کا امکان نہیں ہے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث سعودی عرب کو کچھ عسکری اور خاص طور پر تکنیکی ضروریات پیش آسکتی ہیں۔ ترکیہ ان ضروریات کو پاکستان کے ساتھ مل کر مکہ معاہدے کے تحت دیکھے گا۔
مصری وزارت خارجہ کے مطابق ریاض پر ہونے والا حملہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا دورہ تہران دوطرفہ تعلقات پر مرکوز ہوگا، امریکا نے برسوں کے دوران مسلسل اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے، دشمن کے مقابلے میں خود کو موردالزام ٹھہرانا نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، کچھ معاملات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ انہیں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے سے پہلے جنگ کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایران کا مؤقف واضح ہے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ان شرائط پر پیش رفت ضروری ہوگی۔
پاکستان نے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بحیرۂ احمر میں حوثی ملیشیا کی کارروائیاں بحری سلامتی، علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹوں کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں، جن سے توانائی کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں سمندری امن، تجارتی جہازوں کے تحفظ اور معمول کے حالات کی بحالی کے لیے دیگر امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد پینٹاگون کے عوامی اعدادوشمار سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے اندرونی جانی نقصان کے اعدادوشمار سے واقف 6 حکام نے بتایا کہ جنگ کے دوران کم از کم 22 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جو پینٹاگون کے عوامی ریکارڈ سے 4 زیادہ ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 6 میں سے 5 امریکی حکام نے کم از کم 22 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ تاہم ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں 28 فروری سے جاری ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران ہوئی ہیں، جبکہ پینٹاگون کے عوامی ڈیٹا اور اندرونی اعدادوشمار میں فرق موجود ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جدید جنگی طیارے اب ایران کے حملوں سے محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو جنگی طیاروں کے نقصانات کی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔
قالیباف نے امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے دوران ایف 35 اور ایف 15 طیاروں کو پہنچنے والا نقصان جنگ کی صورتحال میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون تک جاری کارروائیوں کے دوران چار ایف 15 ای طیارے اور ایک ایف 35 اے طیارہ تباہ یا متاثر ہوا، جبکہ امریکی حکام نے رپورٹ کے بعض نتائج سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کرنے والوں کو تمام متعلقہ معلومات تک مکمل رسائی حاصل نہیں تھی۔
امریکی انسپکٹر جنرل کے مطابق مذکورہ مدت میں آپریشن ’ایپک فیوری‘ پر تقریباً 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جن میں 22.3 ارب ڈالر سے زیادہ جنگی اسلحے اور گولہ بارود پر خرچ ہوئے۔ رپورٹ میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور انہیں دوبارہ مکمل کرنے میں صنعتی رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
فوکس نیوز کے تازہ قومی سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی سے 39 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز مطمئن جبکہ 61 فیصد ناخوش ہیں۔ سروے میں 60 فیصد ووٹرز نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے کو غلط قرار دیا جبکہ 37 فیصد نے اسے درست کہا۔
سروے کے مطابق 70 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران جنگ ختم کرنے کی واضح حکمت عملی نہیں۔ اس رائے کا اظہار 95 فیصد ڈیموکریٹس، 83 فیصد آزاد ووٹرز اور 43 فیصد ری پبلکن ووٹرز نے کیا۔
ایران جنگ کے مستقبل کے اثرات سے متعلق 47 فیصد ووٹرز نے کہا کہ تنازع امریکا کو کم محفوظ بنائے گا، جبکہ 32 فیصد نے اس کے برعکس رائے دی۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی منظوری 37 فیصد اور مہنگائی سے متعلق کارکردگی کی منظوری 24 فیصد رہی۔
دوسری جانب رائٹرز/اِپسوس کے ایک حالیہ سروے میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری 35 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ مختلف سرویز کے نتائج میں فرق کے باوجود حالیہ جائزوں میں ان کی منظوری کی شرح تقریباً 40 فیصد یا اس سے کم رہی، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات امریکی ووٹرز کے لیے اہم ترین مسائل میں شامل ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقتدار میں رہنے تک ایران آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا۔
محمد باقر ذوالقدر کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش ایران کے جوابی اقدامات کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 200 دن ایرانی عوام کی مزاحمت اور ثابت قدمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایرانی رہنما کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ مخالفین ایران کو چند روز میں شکست دینے کی توقع رکھتے تھے، تاہم ایرانی قوم نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے ایران کی آزادی اور خودمختاری کے دفاع میں جان دینے والوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ ایران کی جانب سے اسے بند رکھنے کے باعث خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا معاملہ زیر بحث ہے۔
تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد کرمی نے کہا ہے کہ ایران دشمن کی کسی بھی ممکنہ جارحیت یا غلط اقدام کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
محمد کرمی کے مطابق ایرانی فورسز ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں مناسب اور طاقتور ردعمل دیا جائے گا۔
دوسری جانب تہران میں امام حسین اسکوائر سے انقلاب اسکوائر تک بڑا جلوس نکالا گیا، جس میں ’جان فدا‘ مہم سے وابستہ جنگی بٹالینز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ’جان فدا‘ مہم کے تحت ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے 3 لاکھ 13 ہزار افراد کو متحرک کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مہم کا مقصد ملکی سیکیورٹی مضبوط بنانا اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری بڑھانا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے پہلے ماہ میں عرب معیشتوں کو 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ نقصان خطے کی مجموعی گھریلو پیداوار کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی جنگ میں مداخلت کے لیے اپنے فوجی دستے نہیں بھیجے گا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں دو حملوں کے دوران امریکا کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے معقول شواہد موجود ہیں۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے بدلے ادائیگیاں کرنے والے ایرانی فنانسر بابک زنجانی کے کرپٹو ایکسچینج اور نیٹ ورک پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکہ نے آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو ویزے جاری کر دیئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اس بات پر گہرے غور و خوض میں ہیں کہ آیا ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر تباہ کن فوجی کارروائیاں شروع کی جائیں یا نہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ویٹو کی وجہ سے ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع کا مسودہ مسترد ہو گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے امریکی انخلا اور ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کے جاری رہنے سے پوری دنیا میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ ایران سے براہ راست رابطے میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے۔
امریکی حکومت نے امریکہ آنے والے دو غیر ملکی بحری جہازوں پر آبنائے جبرالٹر کے قریب ہونے والے مبینہ ایرانی سائبر حملوں کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسرائیلی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی اور حساس مقامات کی تصاویر شیئر کرنے کے جرم میں ایک اسرائیلی شہری کو ساڑھے 3 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی فراہمی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان نے 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے ایران اور روس پر نئی معاشی پابندیاں عائد کرنے کا بل منظور کر لیا ہے، جسے اب توثیق کے لیے صدر ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب قرار دیا اور شی جن پنگ کے علاقائی امن کے 4 اصولوں کی حمایت کی۔ چین نے ایران اور امریکہ پر مذاکرات کی طرف واپسی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا ہے۔
فرانسیسی صدر میکرون نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے، تیل کی فراہمی محفوظ بنانے اور خطے سے تیل کی ترسیل کے متبادل راستے کھولنے پر زور دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایران میں ایک امریکی پائلٹ کے مبینہ ریسکیو کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ کہانی فرضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی میڈیا کی پیش کردہ داستان پر کوئی عقل مند انسان یقین نہیں کر سکتا۔ یہ کہانی ہالی ووڈ فلموں کے اسکرپٹ سے مشابہت رکھتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ بیجنگ کے دوران چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تصادم سے گریز کریں اور اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت مذاکرات کی طرف لوٹیں۔
نئی امریکی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ پر اب تک 38 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جس سے مہنگائی بڑھ رہی اور اسلحے کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ایران کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنا اگلا ہدف ہے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے خطے میں جاری حملے فوری بند کرنے اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت ختم ہو چکی ہے، جنگ میں سینکڑوں امریکی تنصیبات تباہ ہوئی ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر امریکہ کا تیسرا ایم کیو ون ڈرون بھی مار گرایا ہے۔
ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فوجی حملوں، دباؤ یا تخریب کاری کے باوجود اس کا پرامن جوہری پروگرام کسی صورت نہیں روکا جائے گا۔
محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ کے متضاد بیانات سے گمراہ نہ ہوں کیونکہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کے تمام حربے ناکام ہو چکے ہیں اور اب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ اس سے مذاکرات کرے گا یا نہیں اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ ایران کی موجودہ صورتحال اس کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یمن بحران سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے اور تہران ہرمز پالیسی پر بیرونی دباؤ یا ڈکٹیشن ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایٹمی تنصیبات سے متعلق امریکی دعوؤں کو بھی من گھڑت قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلاواسطہ اعتراف کیا ہے کہ چین نے ایران کو اردن میں امریکی بیس کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ چین امریکہ کی جاسوسی کرتا ہے اور اس کے جواب میں امریکہ بھی ان کی جاسوسی کرتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 101 تجارتی جہازوں کے راستے بدلے جا چکے ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کے شعلوں نےعالمی معیشت کو تباہ کن بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کےبحران کو حل کرنے کے لیے شام ایک اہم ترین راہداری اور معاشی لائف لائن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی طرح ایران کے تیل کے ذخائر پر بھی براہِ راست قبضہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ نومبر تک ختم ہو جائے گی، جس سے پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر جائیں گی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کا شوق ہوتا تو وہ ہرگز جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا حصہ نہ بنتا، ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں عالمی قوانین کے دائرے میں ہیں۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں ایران تکنیکی لحاظ سے پہلے سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ شکل میں سامنے آئے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کی جانب سے بار بار دھمکیاں دینا طاقت کا نہیں بلکہ ان کی انٹیلی جنس کی کمزوری کا پتہ دیتا ہے، اور ایران اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز پر ہونے والے حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے، اور ایران نے اس کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری طویل جنگ کے باوجود عالمی تیل مارکیٹ نے حیرت انگیز لچک کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم طویل المدتی بحران اور ذخائر کے خاتمے کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکی دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیث کی جانب سے ایف 15 کے پائلٹ کا ریسکیو آپریشن ٹی وی پر دکھانے کی کوشش پر پینٹاگون کے اندرونی تنازعات سامنے آئے ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر امریکی خود کو بہت بڑے جنگجو سمجھتے ہیں تو وہ ایران کی بہادر فوج فورسز سے مقابلہ کرے، عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے، خوراک کی سپلائی اور روزگار کے ذرائع کو جنگ کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔
عراقی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم برآمد کر لیا ہے۔
سابق امریکی مذاکرات کار ایلن آئر کا کہنا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کے بعد اب ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قوی امکانات ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑے گے، وہ اس سمندری راستے کو اپنے اسٹریٹجک دفاع کا بنیادی ذریعہ سمجھتا ہے۔
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو سات شرائط پیش کر دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ شرائط پوری نہ ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ برکس سمٹ کا اعلامیہ پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت اور ایران کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
بحرین نے ایران کی جانب سے مسقط میں بلائی گئی آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ میٹنگ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، بحرین نے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو خوشامد یا نرمی کی پالیسی کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے نئے داخلے اور اخراج کے راستوں پر اتفاق کر لیا ہے جو ایرانی پانیوں سے گزریں گے، تاہم آبنائے فوری نہیں کھولی جائے گی۔
چینی صدر نے خطے کے کو شدید نقصانات سے بچانے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائن الیون حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایران کے جوہری پروگرام سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
پینٹاگون میں نائن الیون کی 25ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 11 ستمبر کے حملوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اسی وجہ سے آج بھی جنگ لڑ رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے بیان میں نائن الیون کے واقعے اور ایران کے خلاف موجودہ امریکی مؤقف کے درمیان تعلق ظاہر کیا گیا۔
دوسری جانب نیویارک میں نائن الیون کی برسی کی تقریب میں سابق صدور جارج ڈبلیو بش، جو بائیڈن، براک اوباما اور بل کلنٹن شریک ہوئے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک کی تقریب میں موجود نہیں تھے۔
امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے لیے فضائی دفاع کی سہولت کے اوقات محدود کردیے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ رات کے وقت تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا پہلے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے والے جہازوں کو رات بھر فضائی تحفظ فراہم کرتا تھا، تاہم ستمبر کے آغاز سے فضائی دفاع کے لیے دو مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔
امریکی بحری رابطہ مرکز نے جہازوں کو ان مقررہ اوقات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انہیں زیادہ مؤثر سکیورٹی فراہم کی جاسکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری رابطہ مرکز کی جانب سے جاری پیغامات ہی اس انتظام کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس اقدام سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کے اوقات محدود ہونے کا امکان ہے۔
عراق نے ایران کے ساتھ اہم شلمچہ سرحدی گزرگاہ کو احتیاطی اقدامات کے تحت عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کی مشرق۔مغرب تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد کیا گیا۔ حملے کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون مبینہ طور پر عراق کے صوبے میسان سے لانچ کیا گیا تھا۔
میسان عراق کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ہے اور اس کی سرحد ایران سے ملتی ہے، جبکہ العماره اس کا انتظامی مرکز ہے۔ شلمچہ گزرگاہ ایران اور عراق کے درمیان آمدورفت کا اہم زمینی راستہ ہے۔
سرحدی گزرگاہ کی بندش خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں کی گئی ہے، تاہم اسے مستقل طور پر بند کرنے سے متعلق کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں حالیہ حملوں کے بعد مشرقی۔مغربی آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا ہے۔ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل برآمد کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر معطل کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق جمعرات کی صبح پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
مشرق۔مغرب پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے بحیرہ احمر کی جانب تیل منتقل کرنے کا اہم ذریعہ ہے، جس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کیا جاسکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی ملیشیا کی کارروائیوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی تیل تنصیبات اور سمندری تجارت کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام یمن کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام سے مشروط ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق یمن کے مسائل محاصرے اور فوجی کشیدگی جاری رکھنے سے حل نہیں کیے جاسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام کو دباؤ، دھمکیوں اور محاصرے سے آزاد ہوکر باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
ترجمان نے یمن سے متعلق طے شدہ روڈ میپ کے تحت مذاکرات فوری بحال کرنے اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے کی جانے والی ہر مثبت کوشش میں ایران تعاون کے لیے تیار ہے اور یمن کے مسئلے کا حل سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور دشمن کے سامنے جھکنے کے بجائے دباؤ کا مقابلہ کریں گے۔ ان کے مطابق ایران امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ ایران کو دھمکانے اور دباؤ میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم اگر ایران پر مزید دباؤ ڈالا گیا تو وہ بھی جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسکولوں، اسپتالوں اور سائنسی مراکز کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی کرنی ہے تو فوجی اہداف تک محدود رہنا چاہیے۔
پزشکیان نے ایران کے بنیادی ڈھانچے، روزگار اور عوام کے ذرائع آمدن کو نشانہ بنانے پر بھی اعتراض کیا اور ایک بار پھر واضح کیا کہ ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ وہ بھارت میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایران، عراق اور خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کا اجلاس پیر کو عمان میں ہوگا، جس میں مشترکہ علاقائی سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں عدم استحکام اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ہے، جبکہ ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے پر مجبور ہوا۔
ایرانی حکام نے سفارتی حل کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب دوسرا فریق بھی بات چیت کے لیے تیار ہو۔
حوثی ملیشیا نے باب المندب میں واقع اہم جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ یمنی سرکاری ذرائع کے مطابق سرکاری فورسز جزیرے سے نکل گئی ہیں۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ذباب پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی فوج کے مطابق فضائی کارروائیاں پہلے سے متعین علاقوں میں شروع کردی گئی ہیں اور شہریوں کو تعز۔المخا اور المخا۔ذباب سڑکوں سے سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حوثی وزارت صحت کے مطابق 3 ستمبر سے سعودی قیادت میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 82 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا، تاہم ٹرمپ نے نئے فوجی محاذ کے قیام سے گریز کیا۔
حوثی ملیشیا کے ایک سینئر اہلکار محمد البخیتی نے اس سے قبل بھی باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے وزرائے خارجہ اگلے ہفتے عمان میں ملاقات کریں گے۔
ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات، بشمول مارکیٹ میں مداخلت اور اسٹریٹجک ذخائر کا اجرا، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایرانی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی دفاعی صنعت کو تباہ کرنا ناممکن ہے۔ دنیا جلد ہی ایران کی عسکری طاقت کا ایک نیا سرپرائز دیکھے گی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل میجر جنرل محسن رضائی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد کو غیر قانونی، تکنیکی طور پر بے بنیاد اور مکمل طور پر سیاسی قرار دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہُرمز کے داخلی راستے پر ایک امریکی بغیر پائلٹ کے بحری جہاز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ یہ ڈرون جہاز سیل ڈرون ایکسپلورر تھا، جو آبنائے ہرمز میں مشن انجام دے رہا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر رابطہ کر کے خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، دونوں شخصیات نے علاقائی ممالک کے درمیان رابطوں اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دوبارہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تہران زیر زمین تنصیبات میں بڑی تعداد میں نئے میزائل تیار کر رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیل کی طرف سے انتہائی شدید رد عمل دیا جائے گا، جبکہ ایران نے بھی ہر قسم کے حملے کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خارجہ کے اس دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ انصار اللہ ایران کے اشارے پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی فورسز خود مختار ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مشیروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران سے جنگ ان کی پوری صدارتی مدت یعنی 2029 تک جاری رہ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر معاہدہ نہیں چاہتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈلاس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران سے جنگ جیت رہا ہے اور فتح کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کا نام ٹرمپ اسٹریٹ رکھنے کی تجویز بھی دی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے امریکہ کا 6 ہزار میٹر گہرائی تک کام کرنے والا ڈائیو ایل ڈی انڈر واٹر ڈرون سالم حالت میں تحویل میں لے لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے تہران کو امریکہ کی جدید ترین بحری ٹیکنالوجی اور سمندری نقشوں تک رسائی مل گئی ہے۔
امریکی میڈیا سی بی ایس کے مطابق اردن کے موفق سلطی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران 8 امریکی ایف 15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ایک اے 10 جنگی طیارہ تباہ ہو کر اپنا ایک پر گنوا بیٹھا۔
جنیوا میں ایرانی سفیر علی بحرینی نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کو ایران کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقِ خودارادیت پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔
ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی فورسز کو مشورہ دیا ہے کہ خلیج فارس پر ایرانی کنٹرول قائم ہو چکا ہے، لہٰذا باقی ماندہ امریکی فوجی وقت رہتے اپنا سامان سمیٹ کر واپس چلے جائیں۔
ایران نے اپنا ایٹمی کیس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی ائی اے ای اے کی قرارداد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی فریم ورک کو تباہ کر دے گی اور جاری جنگی حقائق کو مکمل نظر انداز کرتی ہے۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی حملوں کے بعد اردن کے موفق سلطی ایئر بیس سے اپنے ہیلی کاپٹروں اور ان کے تباہ شدہ ملبے کی محفوظ مقامات پر منتقلی شروع کر دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی گزرگاہ کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بغیر پیشگی اجازت کے علاقے میں داخل ہونے والے جہازوں پر سخت ایرانی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری جہازوں پر حملوں کے دعوؤں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے میں 10 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کیے گئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدید نقصان کے باعث امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ چکے ہیں اور خلیج فارس میں اب ایک بھی امریکی جہاز نہیں ہے۔ ایران جلد بحیرہ عرب تک نیا سمندری پابندیوں کا زون نافذ کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈلاس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ جیت رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے اس گزرگاہ کا نام ٹرمپ سٹریٹ رکھنے کی تجویز بھی دی۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں امریکی سفارتخانے کے باہر شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جنگ اور آبنائے ہرمز میں اپنی بحری فورسز بھیجنے سے باز رہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اردن میں الازرق ملٹری بیس پر ایران کا بیلسٹک میزائل حملہ ائیر ڈیفنس سسٹم کے باعث بے اثر رہا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اردن کے مطابق 18 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔
امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کہ ایران کے نطنز ایٹمی کمپلیکس کے قریب گرینائٹ پہاڑ کے نیچے قائم زیرِ زمین مرکز میں تعمیراتی کام تیز ہو گیا ہے۔ امریکہ اس گہرے ترین مرکز کو تباہ کرنے کے لیے نئے بنکر بسٹر بموں اور حملے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے 5 ایرانی آئل ٹینکروں پر حملے کے جواب میں 2 امریکی جہازوں، 8 آئل ٹینکروں اور 10 دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور انہوں نے ایک جدید امریکی زیرِ آب ڈرون بھی تحویل میں لے لیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور خلیج میں بحری جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے سیشن میں بھی بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہیں۔ برینٹ کروڈ 99.49 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 94.63 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے آئل ٹینکرز پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں قائم امریکی ازرق ایئر بیس پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں اور امریکی جنگی جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کی بحری کمانڈ نے کویت اور بحرین کے قریب موجود تمام ٹینکرز کے عملے کو فوری طور پر جہاز چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ دوسری جانب اردن کا کہنا ہے کہ اس نے 20 میں سے 18 ایرانی میزائل تباہ کر دیے ہیں۔
امریکی افواج نے خارگ جزیرے اور جاسک کے قریب ایرانی آئل ٹینکرز پر میزائل حملے کر کے 5 جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی جنگی جہاز کو 2 بار نشانہ بنانے کی کوششوں کے بعد کی گئی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ نے 47 سالہ پابندیوں کے بعد اسرائیل کی خاطر ایران سے جنگ کی، جس کے نتائج واشنگٹن کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ اور نئی پابندیوں کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے اور اس کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ جدید ترین امریکی آبدوز ڈرون کو پکڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کی کوئی بھی ٹیکنالوجی آبنائے ہرمز میں ایران کی برتری کو ختم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے امریکہ کو تاریخی شکست یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ بے آف پگز کے دن یاد رکھے۔ ایران نے عالمی بحری راستے کی بحالی کے لیے امریکی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کو لازمی قرار دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر پیچیدہ انٹیلی جنس اور ملٹری کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوج کے جدید ترین آبدوز نما ڈرون ڈائیو ایل ڈی کو قبضے میں لے کر اس کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعتراف کیا ہے کہ ڈرون میں قبضے سے ایک روز قبل تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی اور اس میں کوئی حساس ڈیٹا موجود نہیں تھا۔
امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی مہم کے تحت اس کی ایوی ایشن انڈسٹری پر وسیع پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں میں 27 ایرانی ایئرلائنز اور چار مختلف ممالک میں موجود 9 سروس پرووائیڈرز شامل ہیں۔ امریکہ نے ایرانی فضائی حدود کے لائسنس اور تمام ہنگامی ایوی ایشن سہولیات بھی منسوخ کر دی ہیں تاکہ ایرانی معیشت کے اس شعبے کو مکمل طور پر عالمی مارکیٹ سے الگ کیا جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی خود مختاری پر حملے کا تمام اسلامی ممالک ذمہ دارانہ جواب دیں۔
ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے علاقائی سمندر میں ایک امریکی جنگی جہاز کے قریب اپنے نئے بحری جہاز شکن میزائل کا تجربہ کیا، جس کے بعد واشنگٹن کو ایران کی نئی میزائل صلاحیتوں سے ایک واضح خطرہ موصول ہو گیا ہے۔
امریکی ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کے بعد ایران نے خلیج میں نیا امتناعی زون بنانے اور ملٹری ردعمل بڑھانے کا اشارہ دیا ہے، جس سے ایک نئی اور بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکہ کی ‘ٹینکر کے بدلے ٹینکر’ پالیسی خلیج فارس میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ ایران کا ساحلی دفاع اور جغرافیائی موقع امریکی معاشی اور بحری مفادات کے لیے شدید خطرناک بن چکا ہے۔
عراق نے اپنے تیل کی برآمدات کو تحفظ دینے کے لیے آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل پائپ لائنوں اور پڑوسی ممالک کے راستوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات سے برینٹ خام تیل 97.34 ڈالر اور امریکی تیل 92.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں ایرانی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے اور عالمی معیشت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے گا۔
ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کینیڈا کے وزرا کے بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا نتیجہ ہے اور کینیڈا کا موقف امریکہ کی خوشامد پر مبنی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کامیابی کے بعد تیل کی قیمتیں انتہائی تیزی سے کم ہو کر 2 ڈالر فی گیلن سے نیچے آ جائیں گی، جبکہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیا جائے گا۔
ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی پر سیاسی رپورٹس جاری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تعاون کا مطالبہ رد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثرہ سائٹس پر معائنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مغربی ممالک کی جانب سے ایران کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ایٹمی ایجنسی نے کہا ہے کہ ایک سال سے ایرانی ایٹمی مواد کی تصدیق کے لیے تنصیبات تک رسائی نہیں ملی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو امریکی اڈے ہدف بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی اپنی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا ہے۔ گفتگو میں فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت اور ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے پر بات کی گئی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا اعلان کرتے ہوئے بحری جہازوں کو اپنے مقررہ راستے سے گزرنے کی ہدایت کی ہے۔ بیان کے مطابق امریکی راستے سے محفوظ گزرنا ممکن نہیں اور فورسز مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس کی ترجیح آبنائے ہرمز کھولنا اور معاشی دباؤ کم کرنا ہے۔ ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق بحران کا مستقل حل تمام فریقین کو شامل کر کے مذاکرات اور فلسطین کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے امریکی ناکہ بندی کے جواب میں امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ایئر ڈیفنس نے اپنے تیار کردہ ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر تیاری کا اعلان بھی کیا ہے۔
اماراتی صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ امارات امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کی وجہ سے اپنی توانائی برآمدات کو یرغمال نہیں بننے دے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو دھمکیاں دینے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں امریکی عسکری جہاز پر ایرانی حملے کے دعوے کو جھوٹ قرار دے کر تردید کر دی ہے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران پر بحری ناکہ بندی جاری ہے اور ایف-35 طیارے خطے میں مسلسل گشت کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کا پہلا ہدف ایرانی حکومت کا خاتمہ ہے اور تہران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر دفاع نے ایران کے توانائی و شہری ڈھانچے پر بمباری کی دھمکی دی ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے اچانک مشقیں شروع کر دی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے غیر قانونی جنگ شروع کر کے آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں پیدا کیں اور اب اس کا بل دنیا کو بھیج رہا ہے۔ انہوں نے امریکی الزامات کو مضحکہ خیز اور سفید جھوٹ قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے ایک دوسرے کے آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ برینٹ کروڈ 96.80 ڈالر اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 92.14 ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔ جنگ سے اب تک تیل 30 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ شاید ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہ ہو سکے، معاہدے کے بجائے امریکا کا پورا فوکس ایران کی جوہری انفراسٹرکچر اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنے پر ہو سکتا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ چند ہی دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر نیا ممنوعہ علاقہ قائم کر دیا جائے گا۔ یہ نیا زون امریکی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیجی علاقوں تک پھیلے گا، جس میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو فوری طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تیل کی قیمتوں پر بات کرنے سے پہلے اپنی معیشت دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو ڈیزل کی قیمتوں، مہنگائی اور فوج میں نوجوانوں کی کمی کا سامنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایرانی تیل، مہنگائی اور کرنسی سے متعلق گراف شیئر کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ تیل کا گزرنا 20 ملین بیرل سے کم ہو کر 18 ملین بیرل رہ گیا ہے۔ ٹرمپ نے خارگ جزیرے کی اے آئی پر مبنی تباہی کی تصویر بھی شیئر کی۔
ایران کی جانب سے عراق کو آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز گزارنے کی اجازت کے باعث عراق کی خام تیل کی برآمدات 30 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی ہیں، اب ملک کی برآمدی صلاحیت کو 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کا پلان بنا لیا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے خلیج فارس میں امریکی طیارہ بردار جہاز اور تباہ کن گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں امریکی جہاز نقصان اٹھانے کے بعد علاقے سے فرار ہو گئے جبکہ امریکی سینٹکام نے بھی حملے کا اعتراف کر لیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے ایرانی آئل ٹینکرز پر امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے غیر مجاز راستے پر سفر کرنے والے 3 آئل ٹینکرز اور 3 امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی اور خطے میں جارحیت ختم ہونے تک راستہ نہیں کھولا جائے گا اور غیر قانونی حرکت کرنے والے جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکی افواج نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں کئی دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، تاہم فوری طور پر نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے حملے کی نوعیت سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خارگ جزیرہ ایران کی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں پر تیل جمع ہونے کے باعث ایران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد کوئی ایرانی تیل کی کھیپ آبنائے ہرمز سے گزر کر چین نہیں پہنچی۔
دوسری جانب ایران نے اشارہ دیا ہے کہ خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں پیشگی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس سے خطے میں مزید فوجی کشیدگی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران خطے میں مشترکہ سیکیورٹی کے قیام سے متعلق چین کی تجویز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
قالیباف کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے مستقبل اور سیکیورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار استحکام کے لیے خطے کی ضروریات کے مطابق نیا سیکیورٹی نظام ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے علاقائی ممالک پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرکے باہمی تعاون سے سیکیورٹی کے معاملات حل کریں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی مشرق وسطیٰ میں مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور دیرپا سیکیورٹی نظام تشکیل دینے کی چار نکاتی حکمت عملی پیش کی ہے، جس کی ایران نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی زندگیاں اور ٹیکس ایسی جنگ کے لیے استعمال نہ ہونے دیں جو ان کے مفادات کے بجائے دوسروں کے فیصلوں سے لڑی جا رہی ہو۔
اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں امریکی شہریوں کے لیے جنگ کے دوران قرض معافی کی مبینہ تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اخبار میں طلبہ قرضوں اور کریڈٹ کارڈ کے قرضے معاف کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکی شہری اپنے مستقبل اور زندگیوں کو کسی اور کی جنگ کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔ ان کے مطابق جنگ کے لیے مالی مراعات کی پیشکش اس بحث کو مزید اہم بناتی ہے۔
ایرانی ترجمان نے امریکی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خود کو ایسی جنگ کا ایندھن نہ بننے دیں اور اپنے ٹیکس اور مستقبل کو کسی دوسرے ملک کے مفادات کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کے جنگی ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچنے کی تحقیقات میں تقریباً 50 فوجی اور سویلین اہلکاروں سے پوچھ گچھ اور پولی گراف ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز سمیت اہم جنگی ذخائر میں کمی سے متعلق معلومات کے اخراج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اب تک کیے گئے پولی گراف ٹیسٹوں سے کسی ایسے اہلکار کی واضح شناخت نہیں ہوسکی جسے مبینہ لیک کا ذمہ دار قرار دیا جا سکے۔ پینٹاگون نے تحقیقات کی مخصوص تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حساس معلومات کے افشا پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکی محکمہ دفاع قومی سلامتی سے متعلق اس معاملے میں ذمہ دار شخص کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کا بنیادی ٹھیکہ بوئنگ کو ملنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب کو 750 ملین ڈالر کے اے جی ٹی 150 انجن فروخت کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے، یہ انجن لڑاکا ٹینکوں میں استعمال ہوتے ہیں اور اس معاہدے کا ٹھیکہ ہنی ویل کو ملے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دفاعی معاہدوں سے سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت، دفاعی تیاری اور آپریشنل ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
امریکا نے عمان اور عراق کے لیے بھی دفاعی سودوں کی منظوری دی ہے۔ عمان کو 188 ملین ڈالر کی ایف 16 معاونتی خدمات جبکہ عراق کو 150 ملین ڈالر کے بیل 412 ای پی ایکس ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کی ممکنہ منظوری دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے اہم جوہری مقام پک ایکس ماؤنٹین کو جلد شدید حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی صدر نے موجودہ صورتحال کو امریکا کے لیے ایک محدود فوجی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق پک ایکس ماؤنٹین نطنز کے قریب واقع ایک مضبوط زیرِ زمین کمپلیکس ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ حملے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کی جوہری تنصیبات پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہوچکی ہیں اور تہران نے جوہری نگرانی سے متعلق عالمی اداروں کی رسائی بھی محدود کردی ہے۔
روس کی کمپنی روزنیفٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چین نے اپنے تیل کے ذخائر اور ماسکو سے تعاون کی بدولت آبنائے ہرمز کے بحران سے خود کو محفوظ رکھا ہے، جبکہ دہائی کے اختتام تک روس کی 60 فیصد گیس چین جائے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جب تک ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے بند نہیں کرتا بات چیت نہیں ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایران کے رویے کی وجہ سے ہے۔
امریکی بحری فوج کا تقریباً گیارہ سو فٹ طویل طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن مسلسل 286 دن سمندر میں گزارنے کے بعد جب تھائی لینڈ کی لاپ چابانگ بندرگاہ پر پہنچا تو اس کی زنگ آلود حالت نے سب کو حیران کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعطل کے بعد ایک بار پھر تہران میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق معاشی مشکلات کے باوجود ایرانی حکومت کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہے اور عوامی بغاوت کے امکانات کم ہیں۔
ایران کے میناب اسکول کے بعد کوہستک میں شادی کی تقریب پر امریکی گائیڈڈ میزائل کے حملے نے جدید امریکی عسکری ٹیکنالوجی اور سویلین ہلاکتوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ امریکا نے ماضی میں بھی افغانستان کے اورزگان اور ننگرہار میں، جبکہ عراق میں شادی کی تقریبات پر بمباری کر کے دسیوں سویلینز کو قتل کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین ایران کے خلاف امریکی معاشی مہم "آپریشن ایکنامک آؤٹ کاسٹ” میں باقاعدہ شامل ہو گئی ہے۔ اس قدم کا مقصد ایران کے مالیاتی ذرائع کو عالمی سطح پر مکمل طور پر کاٹنا ہے۔
قطر نے بین الاقوامی ادارے کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ قطری سرزمین پر ایرانی حملے صرف امریکی فوجی اڈوں تک محدود تھے اور سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ایرانی ترجمان نے اس رپورٹ کو تہران کی جانب سے عالمی قوانین کی پاسداری کا ثبوت قرار دیا ہے۔
امریکی سینٹ کام نے بتایا ہے کہ ناکہ بندی پر عملدرآمد کے لیے 87 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا ہے اور 3 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس جان پال جونز اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت کے لیے آنے والے مہینے انتہائی تاریک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے امریکیوں کو ایندھن ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا دفاعی نظام اب پہلے سے زیادہ جدید ہو چکا ہے۔
ایرانی رہنما ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی طاقت کے باعث امریکی فورسز 500 میل دور ہٹنے پر مجبور ہو چکی ہیں اور ایران امریکی اقدامات کا سخت جواب دے رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے علاقے سیریک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے میڈیا رپورٹس پر شک کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا کبھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تیل کی قیمتیں دبانے کے چکر میں معاشی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکی اسٹریٹجک تیل کے ذخائر ختم ہونے سے واشنگٹن کو شدید مالیاتی نقصان پہنچے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آپریشن میں ہتھیاروں کی کمی کی خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس لامحدود گولہ بارود موجود ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بائیڈن دور میں یورپ اور یوکرین کو دیے گئے فنڈز واپس لیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کو درست قرار دیتے ہوئے کامیابی کا دعویٰ بھی کیا۔
آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم رچرڈ مارلس نے ایران سے آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہاز رانی پر ایرانی پابندیاں اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی اور نا قابل قبول ہیں۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھ کر سیریک میں شادی کے گھر پر امریکی بمباری کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حملے میں بچے سمیت 5 شہری شہید اور 70 زخمی ہوئے تھے، جسے ایران نے جنگی جرم قرار دیا ہے۔
امریکی فضائی حملوں کے ساتھ واشنگٹن نے ایران پر معاشی دباؤ شدید کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ایران کے پاس بغاوت یا معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ‘آبنائے ٹرمپ’ رکھنے کی تجویز دے دی ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران کی نئی جنگی، سفارتی اور معاشی حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا خاتمہ کر دے گی۔ انہوں نے امریکہ کی معاشی ناکہ بندی کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ دشمن کی کسی بھی کارروائی کا جواب کئی گنا زیادہ طاقت سے دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو جنگ میں شکست ہوئی ہے اور اب وہ ایران میں اندرونی انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کا سپلائی نیٹ ورک ایرانی حملوں کے بعد تباہ ہو چکا ہے۔ بحرین میں لاجسٹک بیس کی تباہی کے بعد 20 امریکی جنگی جہازوں اور 20 ہزار اہلکاروں کو 2 ہزار میل دور ڈیگو گارسیا سے کھلے سمندر میں رسد فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث امریکی بحریہ کے لیے جنگ جاری رکھنا شدید دشوار ہو گیا ہے۔
ایرانی وزیر صحت محمد رضا ظفرقندی نے بتایا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں امریکی بمباری کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ شہدا کی تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی ہے، جبکہ 108 شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے جنرل یداللہ جوانی نے عرب ممالک کو امریکی افواج نکالنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کویت، بحرین یا اردن کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو شدید تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ اور عسکری اقدامات میں شدت کسی بھی طور مناسب یا مطلوب نہیں ہے اور اس سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پرانا نظام بحال نہیں ہوگا اور امریکی بحری بالادستی ختم ہو چکی ہے۔ ایران اور عمان کے فریم ورک کے تحت صرف تجارتی جہاز ایرانی نگرانی میں گزر سکیں گے جبکہ جنگی جہازوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
چین ایران سے 90 فیصد تیل خرید کر امریکی پابندیاں ناکام بنا رہا ہے۔ بیجنگ چینی کرنسی میں لین دین کر کے امریکی قوانین سے آزاد ہے۔ چین کے لیے مشرق وسطیٰ میں توانائی کے مفادات اور جیو پولیٹیکل توازن برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
امریکہ نے خوزستان اور ساحلی شہروں بندر عباس، قشم اور کونارک میں پاسداران انقلاب کے اڈوں پر شدید فضائی و میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں معصوم بچی سمیت 12 افراد شہید ہو گئے، جبکہ
جواب میں ایران نے اردن، بحرین اور عراق میں قائم امریکی عسکری مراکز پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر جوابی وار کیا ہے، جبکہ امریکہ کا ایک جدید ‘ایم کیو-9 ریپر ڈرون’ بھی مار گرایا ہے۔
ایرانی جنرل علی حدادی کے مطابق ایران کے فضائی دفاعی نظام میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی شمولیت شروع ہو گئی ہے۔ اس قدم سے اہداف کی فوری شناخت، تجزیے اور جوابی کارروائی کی رفتار میں زبردست اضافہ ہوگا اور کمانڈ سسٹم مضبوط بنے گا۔
امریکی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ پیر کو آبنائے ہرمز سے 17 ملین بیرل تیل گزرا جو جنگ کے بعد سب سے بڑی مقدار ہے۔ تاہم ٹریکنگ اداروں کے مطابق صرف 4 سے 5 جہاز گزرے ہیں۔ سگنل بند رکھ کر سفر کرنے والے ٹینکرز ڈیٹا میں شامل نہیں ہو سکے۔
امریکہ اور ایران کے مابین فضائی اور میزائل حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد بڑھ گئی ہیں۔ برینٹ کروڈ 95.52 ڈالر اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 91.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کشیدگی برقرار رہنے پر ایندھن مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
ایران نے اردن، بحرین اور عراق میں امریکی اڈوں پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے امریکی ڈرون ایم کیو-9 کو مار گرانے اور اردن کے کیمپ ٹائٹن میں بھاری امریکی جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔ اردن اور بحرین نے کئی میزائل اور ڈرونز فضا میں تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔
جنوبی ایران کے شہر سیرک میں شادی کی تقریب پر امریکی میزائل گرنے سے ایک بچی سمیت 5 افراد شہید اور 68 زخمی ہو گئے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ حملے سے علاقے کا پاور گرڈ بھی متاثر ہوا ہے۔
ایرانی خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے امریکہ کو دندان شکن جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق خطے میں امریکی اڈوں پر حملے جاری رہیں گے اور امریکہ کی مسلسل جارحیت کا نتیجہ اس کی شدید تباہی اور بھاری جانی و مالی نقصان کی صورت میں نکلے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو شدید جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے حملے کیے تو اس پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اردن میں امریکی اڈے پر ایران کے داغے گئے 8 میزائل ناکام بنا دیے گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز اور جنوبی ایران میں پاسداران انقلاب کے اڈوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ بندر عباس، جزیرہ قشم اور خوزستان میں شدید دھماکے ہوئے ہیں۔ خوزستان میں امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایس سی او اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ اسلام آباد معاہدے کی 2 ہفتے میں ہی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ معاہدے پر واپس آتا ہے تو ایران بھی تیار ہے، نیز انہوں نے ایس سی او بینک اور سیکیورٹی سینٹر قائم کرنے کی تجاویز دیں۔
ایرانی فوج کے کمانڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ میں مقامی ایئر ڈیفنس نے 200 سے زائد دشمن طیارے گرائے، جبکہ 1 ہزار اسرائیلی اور سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی ہلاکتیں دنیا سے چھپا رہے ہیں۔
بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملاقات کی جس میں علاقائی امن کے لیے مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل پر زور دیا گیا۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھ کر لارک جزیرے پر امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے، جس میں شہری اور محافظ شہید ہوئے۔ تہران نے اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملوں کو اپنا قانونی دفاع قرار دیتے ہوئے واشنگٹن سے جارحیت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں کہا ہے کہ امریکہ اگر بحران ختم کرنا چاہتا ہے تو وہ اسلام آباد معاہدے کی پاسداری کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنے حقوق کے دفاع پر ڈٹی رہے گی۔
پاسداران انقلاب کے جنرل محمد رضا نقدی نے کہا ہے کہ امریکہ عقل مندی دکھائے تو ایران سے جنگ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی فوج کو کاغذ کا شیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کی ترجیح مضبوط دفاعی صلاحیت حاصل کرنا ہے، جبکہ حکومت اور پاسداران انقلاب مکمل متحد ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جی 20 اجلاس میں کہا کہ معاشی پابندیوں سے ایران کو بھاری نقصان ہو رہا ہے اور اس کا حالیہ عسکری ردعمل معاشی دباؤ کی وجہ سے ہے۔ پابندیوں کا مقصد ایران کو مذاکرات پر لانا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر قبضے کا خواب نہ دیکھے۔ انہوں نے خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے عزم کا اعادہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی بیس پر حملے کا زوردار جواب دینے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل فضا میں تباہ کیے گئے اور ایران پر سخت معاشی پابندیاں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق تہران ملاقات کا خواہش مند ہے، تاہم کسی معاہدے پر اعتماد کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
ایران جنگ کے 6 ماہ کے دوران تیل کی قیمتیں 88 ڈالر تک پہنچنے سے امریکی کمپنیوں نے ریکارڈ منافع کمایا ہے، لیکن خلیجی ممالک میں تیل تنصیبات پر 172 حملوں نے ان کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ قطری گیس منصوبوں اور اماراتی آئل فیلڈز پر حملوں سے امریکی رسد میں 40 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی عسکری تنصیبات پر بڑا حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فوج کے بیان کے مطابق امارات میں واقع ‘المنہاد ایئربیس’ پر موجود امریکی فوج کے ٹھکانوں اور ان کی ہیلی کاپٹر یونٹس کو خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قرغزستان روانگی پر کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن لارک جزیرے پر امریکی حملے جیسی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز پر امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو میزائل سے مار گرایا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں واقع 2 امریکی ایئربیسز پر بیلسٹک میزائل داغ کر شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر اے آئی کی بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں ایران کے تیل کے اہم مرکز جزیرہ خارگ کو بمباری سے تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ٹرمپ جنگ کے آغاز سے اس معاشی مرکز کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران میں فوجی حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل ایک ڈالر فی بیرل سے زائد مہنگا ہو گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 89.18 ڈالر اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 84.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ مارکیٹ ماہرین نے کشیدگی طویل ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
امریکی سینٹ کام نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جزیرہ لارک پر ایران کی مائن بچھانے والی فورسز کے خلاف سیکیورٹی خدشات کی بناء پر محدود کارروائی کی گئی تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ سینٹ کام نے ایرانی حملے کو جارحیت قرار دینے کا مؤقف رد کر دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے جواب میں اردن کے 2 امریکی فضائی اڈوں شاہ حسین اور الازرق کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جزیرہ لارک میں ایرانی اہلکاروں کی شہادت کا بدلہ تھا۔ تاہم امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تہران کے عزم کو دوبارہ آزمانے کی کوشش کی تو اسے پہلے سے بھی زیادہ ذلت آمیز ناکامیوں اور سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق امریکی افواج نے پیر کے روز ایران کے جنوبی ساحلی جزیرے لارک جزیرے پر موجود دو ایرانی راکٹ لانچرز پر محدود اور نشانہ بنا کر بمباری کی ہے، جہاں سے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھائی جا رہی تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایٹمی طاقت بن جاتا تو مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل تباہ ہو چکے ہوتے۔ ٹرمپ نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تہران نے اپنی تمام حمایت گنوا دی۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی مالیاتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے امریکہ رواں ہفتے ایک اور بینک پر شدید پابندیاں عائد کرے گا۔ اس سے قبل بنک مصر کی اماراتی شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے کاٹا جا چکا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق بیجنگ کی جانب سے ایرانی تیل خریدنے پر چین کے خلاف بھی تمام آپشنز کھلے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسلمانوں کو اینٹوں کی طرح متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ اسلامی دنیا میں اتحاد کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق اور باطل کی جنگ میں فتح حق کی ہوگی۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتہ وحدت پر پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت تمام مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں کو حقیقی دشمن کو پہچاننے اور فلسطینیوں کی دفاع کے لیے متحد ہونے کی تاکید کی ہے۔
اسرائیل کے پاس 400 تک غیر اعلانیہ ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں جنہیں مغرب کی سرپرستی حاصل ہے۔ این پی ٹی اور آئی اے ای اے کا دوہرا معیار عالمی قانون کی ناکامی ہے۔ خطے کے امن کے لیے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔
امریکہ نے وینزویلا کی انرجی کمپنی کے ساتھ 100 سالہ لیز کے تحت 55 فیصد شراکت داری کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس سے 65 ارب بیرل تیل پر امریکی کنٹرول قائم ہوگا جس سے امریکہ میں 1970 کے بعد سب سے بڑے توانائی بحران اور ایران جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد معاہدے کا حقیقی فاتح ایران ہے جس کی منظوری رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور پابندیوں کا خاتمہ امریکی وعدوں میں شامل تھا، لیکن بدعہدی کی صورت میں ایران کسی معاہدے کا پابند نہیں رہے گا۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بڑا جھوٹا قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ میں 130 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے اور کاغذی مارکیٹ کے ذریعے تیل کے بہاؤ کی جھوٹی کہانیاں سنا کر عالمی مارکیٹ کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز معاہدے پر عمل درآمد امریکہ کی جانب سے تمام پابندیاں ہٹانے اور معاہدوں کی بحالی سے مشروط ہے۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اقدام کے بغیر ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے تیل کی منتقلی کے امریکی دعوے کو نفسیاتی جنگ اور تیل کی قیمتوں میں ہیرا پھیری قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول قائم ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا جا رہا ہے۔
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ شہادت ایرانی مسلح افواج کے لیے اعزاز ہے، تاہم اولین ترجیح دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایرانی افواج نے میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی کارروائیاں جاری رکھیں اور دشمن کے متعدد عسکری اہداف کو نقصان پہنچایا۔
امیر حاتمی نے دشمن کے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ ایرانی فوج کمزور ہوچکی ہے، اور کہا کہ ایران اپنی صلاحیت، جدت اور حوصلے کے ساتھ آئندہ بھی مضبوط مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے جنگ میں جاں بحق اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نقصانات کے باوجود ایرانی عوام اور مسلح افواج قومی اتحاد کے ساتھ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ملک کے پاس دشمنوں کے لیے کئی غیر متوقع ’سرپرائزز‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال ان صلاحیتوں کی تفصیلات بتانا مناسب نہیں، تاہم ایرانی دفاعی صنعت اور نوجوان ماہرین نئی صلاحیتیں تیار کر رہے ہیں۔
مجید ابن الرضا کے مطابق مناسب وقت آنے پر دشمن ایران کی نئی دفاعی صلاحیتوں سے آگاہ ہوجائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں اور مشکلات کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔
تہران نے امریکا کی نئی اقتصادی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق پابندیوں سے ایرانی شہریوں کی زندگی، صحت اور روزگار متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک سے ان پر عمل نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ایرانی قیادت نے حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سمیت عوامی مشکلات کے حل پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔
تہران نے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ملکی معیشت مضبوط بنانے، خود انحصاری بڑھانے اور عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کی جانب سے عوامی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ملکی پیداوار بڑھانے اور معاشی مشکلات پر قابو پانے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اہم معاشی معاملات میں امریکی ڈالر پر انحصار بتدریج کم کرنا چاہیے اور مقامی پیداوار کو معیشت کی بنیاد بنانا چاہیے۔
رہبر انقلاب نے نوجوان ماہرین کی نئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملکی ترقی کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید صلاحیتوں کو بروقت استعمال کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے قومی اتحاد اور سماجی یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو عوامی حوصلے کو کمزور یا معاشرے میں تقسیم پیدا کریں۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ سے پہلے تیل کی بڑی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کے پورٹ فولیو میں 15.5 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جبکہ اس جنگ کے باعث عام امریکیوں پر پیٹرول کی مد میں 71.5 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔
امریکی عہدیدار پیٹ ہیگسیٹھ صحافی کے اس سوال پر شدید غصے میں آ گئے کہ امریکی فوج کس کے لیے اور کیوں جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی مشن واضح ہے اور انتظامیہ کے پاس تمام منصوبے موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور معاشی آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک ایران مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
امریکی سینٹکام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی کے بعد سے کوئی ایرانی جہاز امریکی اجازت کے بغیر بندرگاہ میں داخل یا خارج نہیں ہوا۔ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں 1500 تجارتی جہازوں کی حفاظت کی اور پاسداران انقلاب کی بارودی سرنگیں ہٹا دیں۔
ایرانی وزیر تیل محسن پاک نژاد کے مطابق امریکی بلاک اور ناکہ بندی کے باوجود عالمی خریداروں کو تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سمندری حدود سے باہر صارفین تک تیل پہنچانے کے تمام راستے کھلے ہیں۔
ایران سے جنگ کی وجہ سے یورپ میں نیٹو کے پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر ختم ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں 65 فیصد پیٹریاٹ میزائل استعمال ہو چکے ہیں، جس سے یورپ بیلسٹک میزائلوں کے سامنے مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پر ایران جنگ سے متعلق امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں بدلاؤ کیا گیا۔ ادارے سے 400 سے زائد ماہرین کو برطرف کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ مخالفت ختم کی جا سکے۔
ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے ٹرمپ کے بیٹے کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔ انہوں نے عمان کے ساتھ مشترکہ کوریڈور پر اتفاق کی تصدیق کی اور ناکہ بندی برقرار رہنے پر امریکی معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی صورت میں ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کر کے معاشی ترجیحات پر توجہ دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ہتھیاروں کی کمی کے باعث امریکا نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں منسوخ کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی معاشی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
امریکی پابندیوں کے باوجود چین ایران سے روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل درآمد کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے 60 سے زائد فرمز اور جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے، تاہم چین کے بڑے بینکس کو اس کارروائی سے باہر رکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن چین کے ساتھ معاشی تصادم سے بچنے کے لیے براہ راست اقدامات سے گریز کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران امریکی صدر کا نمائندہ بن کر نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے ثالثی کردار کے تحت تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکطرفہ امریکی پابندیاں ماننا پاکستان پر لازم نہیں اور پاکستان ایران سے تجارتی تعلقات جاری رکھے گا۔ پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا۔
تہران میں 40 ویں اسلامی وحدت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک کے اتحاد اور اپس میں تجارتی روابط بڑھانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مسلم ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت نئی معاشی پابندیاں واشنگٹن کی دہائیوں پر محیط ناکام پالیسی کا تسلسل ہیں۔ تہران نے اپنی معیشت کو روس اور چین کے تعاون سے مضبوط کر لیا ہے اور ان پابندیوں کا اثر ایران کے بجائے خود امریکی عوام پر پیٹرول کی قیمتوں میں 29 فیصد اضافے کی صورت میں پڑ رہا ہے۔ ملٹری اور معاشی محاذ پر ناکامی کے بعد امریکہ کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ طے شدہ معاہدے کے تحت ایران پر سے تمام پابندیاں ختم کرے۔
امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس لنکن سے سمندر میں چھلانگ لگانے والے اہلکار کے خلاف امریکی بحریہ نے انضباطی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اہلکار پر ڈیوٹی سے غیر حاضری کا الزام لگایا گیا ہے اور اس کی آدھی تنخواہ کاٹی جا سکتی ہے، جبکہ اہلکار کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے خودکشی کی کوشش کی تھی اور بحریہ اسے طبی مدد دینے کے بجائے سزا دے رہی ہے۔ یہ واقعہ ایران جنگ کے دوران لنکن کی سمندر میں طویل تعیناتی کے بعد پیش آیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ تہران کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کر سکیں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی پرانی صورتحال بحال کرانے کے لیے بات چیت کر سکیں۔
ایرانی ایٹمی سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ فوجی حملوں سے متاثرہ ایٹمی سائٹس کے معائنے کے لیے جب تک نیا پروٹوکول منظور نہیں ہوتا، عالمی ایجنسی کو معائنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر معائنے کے ذریعے نقصان کا جائزہ لینے کا الزام بھی لگایا۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنے کے ذریعے ایرانی ایٹمی مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ نے ایران کے شہری ایٹمی پروگرام میں تعاون کا بھی اشارہ دیا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے امریکی جبری اقدامات کی مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اقتصادی دباؤ سے کچھ حاصل نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی شعبوں نے دباؤ سے بچنے کے اقدامات کر لیے ہیں اور حکومت تمام مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب اور کمانڈر حسین محبی کا دعویٰ ہے کہ ایران سے جنگ کے بعد امریکہ کو پسپائی، فوجی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل ذخائر ختم ہونے کی امریکی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور معیشت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مختلف مالی اور تجارتی ذرائع استعمال کررہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ فی الحال امریکا کی جانب سے ایران پر مزید فوجی حملوں کی توقع نہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق روبیو نے حالیہ دنوں میں متعدد اتحادی ممالک کے حکام سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ حالات میں مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے یا امریکی دباؤ قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایران کو معاشی اور سیاسی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن ملک ان حالات سے نکلنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے 5 کمانڈروں کے بارے میں معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام اور دوسرے ملک منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ مطلوب افراد پر امریکی فوجیوں اور اہم انفراسٹرکچر پر ڈرون اور سائبر حملوں کے الزامات ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی صدر کے درمیان اہم اور مثبت ملاقات ہوئی ہے۔ محسن نقوی کے مطابق گفتگو میں ایران امریکا تنازع، مستقبل کی حکمت عملی اور ایم او یو کی بحالی کے اقدامات پر بات ہوئی۔ ایرانی صدر نے اپنے خدشات سے آگاہ کیا جبکہ پاکستان نے خطے میں دیرپا امن کی امید ظاہر کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم نیتن یاہو نے اس حملے کی جگہ یا تاریخ کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف متوقع معاشی دباؤ کا منصوبہ حقیقت میں صرف میڈیا پروپیگنڈا ہے، جو ایرانی عوام کے خلاف نفسیاتی مہم کا حصہ ہے اور اس سے زمین پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔
ایران کے وزیر خزانہ علی مدنی زادہ نے امریکی صدر ٹرمپ کی معاشی جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2 سال کا پلان تیار کر رکھا ہے اور یک قطبی دنیا کا دور ختم ہو چکا ہے، امریکا ہماری معاشی رگیں نہیں کاٹ سکتا۔
عمان میں الشیشہ کے قریب بحری ٹینکر پر حملے کے بعد اس کا انجن روم ناکارہ ہو گیا۔ برطانوی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکا اسرائیل حملے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں روزانہ 130 کے بجائے صرف چند جہاز ہی گزر پا رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ترسیلات زر کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں اور ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان پابندیوں میں ایرانی ملٹری، سائبر نیٹ ورکس اور تیل کی تجارت میں ملوث عالمی کمپنیاں شامل ہیں۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر قالیباف اور محسن رضائی سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے پاکستانی سپہ سالار کو بتایا کہ امریکا نے اسلام آباد یادداشت پر عمل نہ کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ امریکا کو اپنا رویہ اور لہجہ بدلنا ہوگا کیونکہ دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔
پاک فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے ہیں جہاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ علاقائی امن و استحکام کی فروغ کا حصہ ہے اور اس کے دوران مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پُرامن، جامع اور پائیدار حل کے لیے سفارتی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔
ایران کی امریکی معاشی جنگ کا حصہ بننے والے کسی بھی ملک پر جوابی حملہ کرنے کی کھلی دھمکی پر عالمی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کی اس دھمکی کا مقصد ممکنہ حملوں سے قبل ہی زبردست دفاعی دباؤ قائم کرنا ہے۔ ایران کی نئی حکمت عملی میں خطرات پیدا ہونے سے پہلے پیشگی اقدام کرنا اور دشمن کو تصور سے زیادہ نقصان پہنچانا شامل ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور تہران کے لیے معاشی ڈی ڈے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی حملہ کرنے جا رہا ہے جس کا مقصد ایران کی معاشی بقا کے تمام راستے بند کرنا ہے تاکہ تہران دنیا میں بالکل تنہا رہ جائے۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ میں دشمن نے ایسے بم استعمال کیے جو خصوصی طور پر ایران کے خلاف تیار کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس جنگ کو تاریخ کی پہلی بڑے پیمانے کی میزائل اور ڈرون جنگ قرار دیا اور بتایا کہ سخت ترین حالات کے باوجود ایران کی دفاعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سیکیورٹی بل کی دفعہ 3 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گزرنے والے بحری جہازوں کو ایندھن، انشورنس اور تحفظ کی خدمات کے بدلے فیس ادا کرنا ہو گی۔ دوسری جانب ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کے دعوے کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ گزرگاہ ہمیشہ سے ایرانی تھی اور رہے گی۔
امریکی سینٹ کام نے ایران کی بحری ناکہ بندی سے متعلق نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملدرآمد کے لیے 68 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اس دوران 3 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 2 بحری جہازوں پر سوار ہو کر براہ راست سیکیورٹی کارروائی کی گئی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے گوشت کی قیمتیں کم کرنے کے لیے منجمد گوشت درآمد کرنے کے امریکی منصوبے پر شدید طنز کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکا اب رہائش کے لیے منجمد گھر اور اجرتوں کے لیے منجمد تنخواہیں لائے گا؟ انہوں نے کہا کہ امریکا کا ہر اقدام اب اس کے اپنے خلاف الٹا پڑ رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی پالیسیوں کو پرانا دباؤ اور دھونس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں مختلف عنوانات کے تحت لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے امریکی فوجی کارروائیوں کو واشنگٹن کی مایوسی اور حل نہ ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ایران خوب جانتا ہے کہ ان اقدامات سے کیسے نمٹنا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے جہاں وہ ایرانی اعلیٰ حکام سے علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر بات کریں گے۔ ایران نے جنگ کے دوران پاکستان کے ثالثی کردار اور حمایت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد یادداشت کو باوقار اور کسی رعایت کے بغیر بہترین معاہدہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘نہ جنگ نہ امن’ کی حالت ختم کرنے کے لیے منطق اور طاقت کے ساتھ رہبر کی پالیسیوں پر عمل کیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک نقشہ شیئر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو نیا امریکی علاقہ قرار دینے کے دعوے کو دہرایا ہے۔ انہوں نے ایک ہفتے میں دوسری بار یہ تصویر شیئر کی ہے اور ساؤتھ کیرولائنا کے جلسے میں بھی یہی موقف اپنایا تھا۔
ایران نے اپنے ملٹری نظریے کو دفاعی سے بدل کر پیشگی جارحانہ بنا لیا ہے۔ سینئر ایرانی حکام کے مطابق دشمن کو حملے سے پہلے روکنے کے لیے پیشگی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی خلیجی ممالک کو امریکی معاشی جنگ کا حصہ بننے پر تیل کی سپلائی روکنے اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک کے مطابق پچھلے ایک سال میں ایران نے اپنے دفاعی ہتھیاروں کی پیداوار دگنی کر دی ہے۔ پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی نے کہا کہ دشمن کے خطرات کے پیش نظر دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھا جائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نئی امریکی اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پابندیوں کے ذریعے دنیا بھر کی خودمختار ریاستوں پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے خطے میں فوجی بڑھائے تو ان اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر حملہ کرنے اور امریکی معاشی جنگ کا حصہ بننے والے ممالک کو کھلے عام اپنا دشمن قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے انکشاف کیا ہے کہ پڑوسی ممالک نے انہیں خطے میں نئے سیکیورٹی اور معاشی نظام سے متعلق پیغامات بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے امریکا کے اتحادی بھی اپنی بقا کے لیے پریشان ہیں اور خطے میں حقیقی امن صرف آزادانہ علاقائی تعاون سے ہی آسکتا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا ہے کہ حالیہ جنگوں کے تجربات کے بعد ایران کی عسکری حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور دفاعی پالیسی اب زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہی ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں ایرانی فوج کا نظریہ بنیادی طور پر دفاعی تھا، تاہم 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے دوران حاصل ہونے والے تجربات نے فوجی منصوبہ بندی اور کارروائی کے طریقہ کار میں تبدیلی پیدا کی۔
نئی حکمت عملی میں ممکنہ حملے کی صورت میں فوری اور وسیع ردعمل کے ساتھ ساتھ بعض خطرات کے خلاف پیشگی کارروائیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مستقبل کے ممکنہ حملوں سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
محمد اکرمنیہ نے ایران میں ممکنہ زمینی دراندازی کی صورت میں امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے سے متعلق انعامی منصوبے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ایران کی تبدیل ہوتی عسکری حکمت عملی اور دشمن کے خلاف جارحانہ صلاحیتوں پر بڑھتی توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایران کے ساتھ فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت جبکہ 757 کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار پینٹاگون نے جاری کیے ہیں۔
زخمی ہونے والے امریکی اہلکاروں میں سب سے زیادہ تعداد بری فوج کی ہے، جس کے 580 اہلکار زخمی ہوئے۔ امریکی بحریہ کے 86 اور فضائیہ کے 64 اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ 19 امریکی میرینز کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ مجموعی جانی نقصان نے جنگ کے دوران امریکی فوج کو درپیش خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔
امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے یہ اعداد و شمار تنازع کے بڑھتے ہوئے انسانی اور مالی اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ جنگ کے اخراجات بھی واشنگٹن کے لیے ایک اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنی معاشی پالیسی دوسرے خودمختار ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بقائی کے مطابق امریکا کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دیگر ممالک کے بینکوں اور کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں قانونی تجارت سے روکے۔ ان کے بقول ہر ریاست کو اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر طے کرنے کا حق ہے۔
ایرانی ترجمان نے امریکی پابندیوں کو عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو دباؤ کے ذریعے دوسرے ممالک سے تعلقات ختم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
بقائی نے خبردار کیا کہ اگر طاقتور ممالک کی جانب سے ایسے اقدامات معمول بن گئے تو عالمی نظام اور خودمختاری کا تصور کمزور ہوسکتا ہے اور چھوٹی ریاستوں پر بیرونی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری جنگ کو اب طاقت اور وقار کے ساتھ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے۔
پزیشکیان نے دعویٰ کیا کہ عالمی سطح پر ایران کی مزاحمت کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور امریکا پر ایرانی اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ایرانی صدر نے جون میں امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے یا کسی مطالبے کے سامنے جھکنے کی شرط شامل نہیں تھی۔
یہ مفاہمتی عمل 60 دن کے اندر ایک وسیع تر معاہدے کی بنیاد بننا تھا، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے اور معاہدہ 17 اگست کو مؤثر طور پر ختم ہوگیا۔
ترکیہ نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کے خلاف مبینہ اسرائیلی کارروائی کے مقدمے میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ایک اسرائیلی عہدیدار کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔
ترک حکام کے مطابق استنبول کی عدالت نے 14 جولائی کو دونوں افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، جس کے بعد وزارتِ داخلہ کے ذریعے انٹرپول سے بین الاقوامی تلاش کی درخواست کی گئی۔
یہ مقدمہ گلوبل فریڈم فلوٹیلا کے خلاف مبینہ کارروائی اور رضاکاروں کی گرفتاری سے متعلق ہے۔ ترک استغاثہ نے کارروائی میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سمیت سنگین الزامات شامل کیے ہیں، تاہم ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں ہونا باقی ہے۔
انٹرپول ریڈ نوٹس کسی فرد کی گرفتاری کا خودکار حکم نہیں ہوتا بلکہ رکن ممالک سے مطلوب شخص کی تلاش اور ممکنہ عارضی گرفتاری میں تعاون کی درخواست ہوتی ہے۔ حتمی گرفتاری کا فیصلہ متعلقہ ملک اپنے قوانین کے تحت کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران ابھی ایسے معاہدے کے لیے تیار نہیں جسے واشنگٹن ’’صحیح معاہدہ‘‘ سمجھتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی اور فوجی صورتحال پر بھی سخت دعوے کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس پیسہ، بحریہ اور فضائیہ نہیں جبکہ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات ہیں۔ انہوں نے ایران میں افراطِ زر 350 فیصد تک پہنچنے کا دعویٰ کیا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کو پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، جس میں آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز، معاشی دباؤ اور ممکنہ مذاکرات کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم ٹرمپ کے ایران کی فوجی اور معاشی صورتحال سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ وزارت دفاع نے دفاعی سازوسامان کو جدید بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جبکہ دشمن کو مستقبل میں کسی کارروائی سے باز رکھنے کی صلاحیت بھی مزید مضبوط کی گئی ہے۔
امیر حاتمی نے خبردار کیا کہ ایران جلد سمندر میں اپنے دشمن کو ’’تاریخی سبق‘‘ سکھائے گا۔ میجر جنرل علی عبداللہی نے بھی کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی نئے خطرے یا غلط اندازے کا فیصلہ کن اور طاقتور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی نیول چیف ایڈمرل شہرام ایرانی نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا داخلی راستہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق خطے سے باہر موجود مخالفین کی نقل و حرکت پر 24 گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دشمن کو ایران کی فوجی طاقت کے ساتھ عوامی اتحاد اور یکجہتی بھی پریشان کرتی ہے۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے مقابلے میں سخت ردعمل دینے کا عندیہ دے رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ملک اپنی خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تاہم جنگ ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی اور کسی نہ کسی مرحلے پر اسے ختم ہونا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کے نئے اعلان کو تجزیہ کاروں نے سیاسی دفاع کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل معاشی جنگ کے لیے ٹرمپ کے پاس صبر کی کمی ہے اور نومبر کے انتخابات سے قبل ایران کے جوابی وار سے امریکی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کڑی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود چین کی جانب سے ایرانی خام تیل کی درآمدات کو مکمل طور پر صفر کرنے کا کوئی امکانی امکان نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق چین امریکی پابندیوں سے بچنے اور سستے تیل کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے ہر بار نیا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
امریکی فورسز کی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن بحیرہ عرب کے راستے سے گزرتا ہوا مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیا گیا ہے، جہاں وہ پیشگی طے شدہ سیکیورٹی مشن پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایرانی بحری اور فضائی افواج کے ساتھ ساتھ وہاں کی قیادت کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے معلوم نہیں اس وقت ایران کون چلا رہا ہے، کسی معاہدے پر پہنچنا اب آسان کام نہیں رہا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن حکومت ایران پر تاریخ کی سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے تاکہ ایرانی حکومت کو گرایا جا سکے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس معاشی دباؤ کے بعد کسی بھی بڑی ملٹری کارروائی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے واضح کیا ہے کہ اگر ملک پر کوئی نئی جنگ مسلط کی گئی تو وہ پچھلی جنگوں میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ شدید، تباہ کن اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیاروں کا استعمال کرے گی۔
ایران کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ جنگوں کے تجربات اور نئی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دفاعی شعبے کو جدت دی جا رہی ہے۔ وزارت کے مطابق حالیہ جنگ ایک ماضی کا سبق تھی جس سے سیکھ کر دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل صلاحیتوں اور پیش قدمی کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ ملک کی ترقی اور تحفظ کی بنیاد قوم اور مسلح افواج کے مضبوط رشتے پر قائم ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق مؤقف پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے امریکی صدر کو تنگ نظر اور بچکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے پاس مستقبل کے لیے کوئی واضح اور طویل المدتی وژن موجود نہیں۔
ایران کی عسکری قیادت نے امریکہ کے خلاف ایک نئی جارحانہ حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے تحت اب صرف دفاع کے بجائے دشمن کی زمین پر براہ راست حملے کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد جنگ کا وقت اور جغرافیہ خود طے کرنا ہے۔
امریکی قومی قرضہ تاریخ میں پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق دفاعی اخراجات اور ایران جنگ کے باعث حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرضے لینے پڑے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت معاشی اقدامات کے دعوؤں کو مبالغہ آرائی اور نفسیاتی جنگ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی اداروں کا کہنا ہے کہ ایران غیر ملکی پابندیوں سے بچنے کے طریقے اچھی طرح جانتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس پلیٹ فارم کو ایران کے خلاف من گھڑت الزامات لگانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کونسل کو غیر جانبدار بنانے پر زور دیا۔
قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک ’’ماجی کینسر‘‘ کا شکار ہے اور اس کا اندرونی زوال حتمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق ناممکن ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال، سفارتی کوششوں اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر گفتگو کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی طاقت کے عروج پر ہے اور جنگ کا خاتمہ تہران کی پہلی ترجیح ہے لیکن وہ دباؤ کے سامنے بلکل نہیں جھکے گا۔
کیپلر ڈیٹا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا جزوی کنٹرول کھو دیا ہے، 80 فیصد سے زائد تیل بردار جہاز ایرانی احکامات کو رد کر کے امریکی بحریہ کی حفاظت میں عمانی سمندری راستہ استعمال کر رہے ہیں۔
امریکی نائب وزیر توانائی کائل ہوسٹویٹ کے مطابق وینزویلا اپنی 1.25 ملین بیرل روزانہ پیداوار میں سے 5 لاکھ بیرل روزانہ امریکہ کو بھیج رہا ہے، جبکہ امریکی حکومت رواں سال اس تیل سے 13 بلین ڈالر سے زائد وصول کر چکی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے 2 بیلسٹک میزائل داغنے کے الزام پر ایران سے تمام تجارتی و مالیاتی تعلقات پر غیر معینہ پابندی لگا دی ہے، جبکہ ایران نے ان الزامات کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مشترکہ فوجی مشقیں 6 دن پہلے 21 اگست کو ختم کرنے کا اچانک حکم بظاہر سیؤل کو ایران جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
عراق نے امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر یکم ستمبر سے 3 ماہ کے لیے تیل کی برآمدات کا نیا میکانزم منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ترکیہ اور شام کی پائپ لائنوں جیسے متبادل راستے استعمال کیے جائیں گے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے امکانات کم ہونے سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے روز بڑھ کر 91.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
سابق سی آئی اے اہلکار لیری جانسن کا کہنا ہے کہ امریکی فوج شدید معاشی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے، بحری جہاز لنکن پر 30 اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔ پروفیسر مرندی کے مطابق ایران اب جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کا دائمی خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اڈوں کا دفاع بھی نہیں کر سکتا، جبکہ قطر اور پاکستان ثالثی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزرائے جنگ اور خزانہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نااہل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دباؤ بڑھا کر ایران سے وہ مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے جو کسی معاہدے کا حصہ نہیں تھیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ عارضی معاہدے کی تمام شرائط پوری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی، معاشی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی رہائی ہی اس اہم بحری راستے کے کھلنے کی ضامن ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر کا سرنڈر کا خواب پورا نہیں ہو سکا کیونکہ ایران نے اپنی شرائط پر ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیے اور جنگ بندی کے عمل کو قبول کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ جنگ کی شروعات میں ایران سے غیر مشروط سرنڈر کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ کچھ ہی عرصے میں مذاکرات کے لیے منتیں کرنے پر مجبور ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران بتایا کہ امریکہ اور ایرانی حکومت کے درمیان رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور فعال ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی نتائج یا مفاہمت پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔
ایران نے کردستان کے وزیر اعظم مسرور بارزانی کے دفتر پر ہونے والے ڈرون حملے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس کے ایرانی سرزمین سے کیے جانے کے کوئی ثبوت ملا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ایران نے ماضی میں کرد دوستوں کو صدام اور داعش جیسے خطرات سے محفوظ رکھا اور ایران سرحدوں کی حفاظت پر کرد بھائیوں کا شکر گزار ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران اور غزہ کی جنگ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ترک ایوان صدر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر اردوان نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے اور ترکیہ سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری حملوں کی بھی مذمت کی۔
ایران کی پاسداران انقلاب اور دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خفیہ مذاکرات کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جھوٹ قرار دیا ہے۔ ترجمان پاسداران انقلاب حسین محبی نے کہا کہ یہ دعوے شکست کے خوف کی عکاسی کرتے ہیں اور ایران میدان جنگ میں جواب دیتا ہے جبکہ سفارت کاری دیگر ادارے سنبھالتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اربیل میں خفیہ ملاقاتوں کو نفسیاتی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کا ہاتھ ٹریگر پر ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مخالفین کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ملکی مفاد اور رہبر معظم کے اصولوں پر کیا گیا ہے۔ ہم نے دشمن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔
ایران کے ساتھ طویل جنگ کی وجہ سے امریکی بحریہ دباؤ کا شکار ہے۔ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لینے روانہ ہو گیا ہے جہاں ملاح شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور صیہونیوں کی مسلط کردہ اس غیر منصفانہ جنگ کے عسکری اور سیاسی محاذوں پر فاتح بن کر ابھرا ہے، ایرانی قوم کی پائیدار مزاحمت نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کے دباؤ پر آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حصہ حذف کیا تھا۔
قالیباف کے مطابق جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امریکا کے ساتھ مذاکرات روک دیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اسرائیلی کارروائی کے جواب میں سخت ردعمل کی دھمکی دی تھی۔
ایرانی مذاکرات کار کے مطابق ٹرمپ نے ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط بھی پوسٹ کی تھی، جس پر ایران نے اعتراض کیا۔ قالیباف کا دعویٰ ہے کہ ثالثوں سے رابطے کے بعد تقریباً 58 منٹ میں ٹرمپ نے پوسٹ کا متعلقہ حصہ حذف کردیا۔
قالیباف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات محض سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک جدوجہد ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز پر کسی بھی امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزرگاہ سے متعلق فیصلہ ایران ہی کرے گا۔
ایران جنگ میں امریکا کو ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تقریباً 45 ڈرونز ضائع ہوئے، جو امریکی بیڑے کا تقریباً ایک چوتھائی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ڈرونز ایرانی کارروائیوں کا نشانہ بنے، جبکہ کچھ آپریٹرز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد حادثات کا شکار ہوئے۔ ان 45 ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
ایم کیو 9 ریپر نگرانی، انٹیلی جنس اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم مضبوط فضائی دفاع رکھنے والے مخالف کے خلاف اس کی کم رفتار اور محدود بلندی کمزوری بن سکتی ہے۔
امریکا مستقبل میں مہنگے ریپرز کے بجائے کم قیمت اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرونز تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایران جنگ میں یہ نقصان امریکی فوج کے لیے جدید فضائی جنگی حکمت عملی کا اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے برطانیہ کو طنزیہ انداز میں ’’پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینے والا متنازع بیان دیا ہے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ برطانیہ میں انہیں پہلے جیسا اسرائیل نواز ماحول نظر نہیں آتا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ کسی نے برطانیہ کو جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ قرار دیا تھا۔ ان کے بیان پر اسرائیل میں بھی تنقید ہوئی، جبکہ ناقدین نے اسے ایک اہم اتحادی ملک کے خلاف غیر ذمہ دارانہ سفارتی رویہ قرار دیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ اور بعض پابندیوں کی حمایت کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کا بیان پاکستان کے حوالے سے بھی بالواسطہ طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان ایک جوہری اسلامی ریاست ہے اور حالیہ ایران امریکا کشیدگی میں سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم نیتن یاہو کے بیان کو باضابطہ حکومتی پالیسی قرار دینے کے حوالے سے فوری وضاحت سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق اعلان کریں گے۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں انہوں نے ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالنے کا عندیہ بھی دیا تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔
ٹرمپ کے اس بیان سے آبنائے ہرمز کی پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے، کیونکہ یہ اہم بحری گزرگاہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آئندہ ہفتے کے آغاز میں ایران کے خلاف ایسی سخت پابندیوں اور معاشی اقدامات کا اعلان کرسکتا ہے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں مشکلات کا شکار ہیں اور آبنائے ہرمز دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر ثالثی کے طور پر ایران اور دیگر فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں، تاہم اس کا مطلب براہِ راست مذاکرات کا آغاز نہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار ایران کے پاس ہے۔
غریب آبادی نے واضح کیا کہ ایران امریکی دھمکیوں یا فوجی طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تہران پر مزید معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاری کررہا ہے۔
ایرانی حکام کے سخت مؤقف کے باوجود پاکستان اور قطر کی جانب سے پیغامات کے تبادلے سے سفارتی رابطوں کا سلسلہ برقرار ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات کی بحالی سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اسے ایسی سخت معاشی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی دنیا میں پہلے مثال نہیں ملے گی۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف نئی پابندیوں اور دیگر معاشی اقدامات کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو عالمی معیشت سے مزید الگ کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق نئی حکمت عملی میں ایران کی تجارت، آمدنی اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی محدود کرنے پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل ناکہ بندی سے ایران کی بندرگاہوں سے سامان کی آمدورفت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ سے ایران کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی اور تجارتی نظام بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بیسنٹ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ مزید امریکی پابندیوں کی صورت میں ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے کی تجارت پر بھی ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تہران: ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے سیاسی مشیر بریگیڈیئر جنرل رسول سنائی راد نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں دوبارہ جنگ ہوئی تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط اور جارحانہ انداز میں جواب دے گا۔
فارس نیوز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور آئندہ کسی ممکنہ تنازع میں اس سے بھی سخت ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔
رسول سنائی راد نے الزام عائد کیا کہ دشمن نے اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی معاشرے میں اختلافات اور عوام و ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ کے تجربے کے بعد ایران اپنی مزاحمت مزید مضبوط کرے گا اور کسی نئے فوجی تصادم کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت اور جارحانہ کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد: ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈ نے امریکا ایران تنازع کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا ہے۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں خطے اور عالمی امن کے لیے جرأت مندانہ اور تعمیری کردار ادا کیا۔ انہوں نے موجودہ کشیدگی کو عالمی امن اور معیشت کے لیے خطرناک قرار دیا۔
ملاقات میں پاکستان اور ناروے کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے ناروے کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو بھی سراہا۔ فریقین نے علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
تہران: سابق ایرانی سفارتکار عباس خمیار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف معاشی اور فوجی دباؤ کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملے میں خود پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس خمیار نے کہا کہ ایران امریکی شرائط تسلیم کرنے کے بجائے باہمی احترام اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے سابقہ وعدوں کی خلاف ورزیوں کے باعث آئندہ مذاکرات میں ضمانتوں اور ذمہ داریوں پر واضح بات چیت ضروری ہے۔
سابق سفارتکار نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے اہم دفاعی اور سفارتی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی صورتحال نے خطے میں فوجی کارروائیوں اور دباؤ کی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے بقول امریکا نے ہرمز کو دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم معاملہ اس کے لیے مزید پیچیدہ ہوگیا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ تاہم عباس خمیار کے دعوے ان کا تجزیہ ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بغداد: عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے واضح کیا ہے کہ عراق اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نے ایئر ڈیفنس کمانڈ آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران ملکی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور موجودہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی پالیسی قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہے۔
عراقی حکام کے مطابق موجودہ کشیدگی کے پیش نظر فضائی حدود کی نگرانی اور دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ بغداد کسی بھی فریق کو اپنی سرزمین یا فضائی حدود کے ذریعے دوسرے ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عراق کا یہ مؤقف ملک کو علاقائی تنازعات میں براہِ راست فریق بننے سے روکنے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی کوشش ہے، جبکہ مضبوط فضائی دفاع موجودہ حالات میں عراق کی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جنوبی لبنان: لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے قصبوں مجدل زون اور منصوری میں متعدد گھروں کو دھماکوں سے تباہ اور نذرِ آتش کیا ہے، جبکہ علاقے میں اسرائیلی فضائی حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو حملے کیے، جبکہ گزشتہ ہفتے علاقے کے رہائشیوں کو جبری انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے گھروں کی منظم مسماری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی اور کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے جنوبی لبنان سے انخلا کرے گا، جبکہ امریکا لبنان کی علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی کے ذریعے فائدہ اٹھانے والے تمام فریق خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے ذمہ دار ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق قشم جزیرے کے ساحلوں پر حالیہ تیل کی آلودگی ایک غیر ملکی مال بردار جہاز سے منسلک ہوسکتی ہے، جبکہ تین ساحلی مقامات اور سمندر کی سطح پر آلودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان گزشتہ کئی دہائیوں سے آلودگی اور ماحولیاتی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے ایران کے ساحلی علاقوں اور سمندری ماحولیاتی نظام کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی ترجمان نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک اور دیگر متعلقہ فریقوں پر ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
دوحہ: قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے اعلان کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے لیے مناسب الفاظ طے کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات تاحال جاری ہیں۔
قطری ترجمان نے کہا کہ قطر کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی ہے اور دوحہ اس مقصد کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطر ایسے کسی بھی معاہدے کی حمایت کرے گا جو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی یقینی بنانے کے ساتھ اسے سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے میں مدد دے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس کو غزہ اور ایران کے معاملے پر مبینہ دوہرے معیار پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ فرانس کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون پر دوسروں کو لیکچر دینے سے پہلے اپنے مؤقف اور اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق غزہ اور ایران کے خلاف مبینہ جارحیت کی حمایت نے فرانس کے ’’اخلاقی دیوالیہ پن‘‘ کو بے نقاب کردیا ہے، جبکہ دونوں معاملات پر پیرس کا مؤقف متضاد نظر آتا ہے۔
عراقچی نے فرانسیسی پالیسی کو ’’ناقابلِ تردید اور شرمناک دوہرا معیار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے فرانس کا مؤقف اس کے عملی اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سان ڈیاگو: ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی نویں ماہ تک جاری تعیناتی نے جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کی ذہنی صحت اور رہائشی حالات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نیوی ٹائمز اور اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے مطابق جہاز پر متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں اہلکاروں نے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ عملے نے مسلسل 250 دن تک ساحل پر قدم نہیں رکھا۔ طویل تعیناتی کے باعث اہلکاروں کے خاندانوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سان ڈیاگو میں تقریباً 200 اہلخانہ نے نیوی حکام کے اجلاس میں شرکت کرکے طویل تعیناتی، ذہنی دباؤ اور جہاز پر بنیادی سہولیات کے مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اہلکاروں کے خاندانوں نے خراب واش رومز، لانڈری کی بندش، گرم پانی کی عدم دستیابی اور خوراک سے متعلق شکایات بھی سامنے رکھیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ابتدائی طور پر بحرالکاہل میں تعینات کیا گیا تھا، تاہم ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد اسے مغربی ایشیا منتقل کردیا گیا اور اس کی تعیناتی میں توسیع کی گئی۔ امریکی حکام نے بعض سہولیات سے متعلق شکایات کو مسترد کیا ہے، تاہم اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے طویل تعیناتی کے اثرات پر تشویش برقرار ہے۔
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف ’’اسٹیل وال‘‘ ناکہ بندی کے نفاذ کے دوران امریکی افواج نے 59 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا۔
سینٹ کام کے مطابق 12 اگست تک کی کارروائیوں کے دوران 3 بحری جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہوکر کارروائی کی گئی۔ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکہ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے امریکی بحریہ کی سرگرمیوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔
جاری تصویر میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش سے ایف اے 18 لڑاکا طیارے کو پرواز بھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی طیارے علاقائی پانیوں میں ناکہ بندی کے نفاذ کی کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت شدید متاثر ہوچکی ہے، ایرانی بحریہ اور فضائیہ مؤثر طور پر باقی نہیں رہیں جبکہ پاسداران انقلاب بھی بھاری نقصان کے بعد پسپا ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان میں آبنائے ہرمز پر امریکا کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی بحری ناکہ بندی کو ’’فولادی دیوار‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں اور ایرانی فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو غیر یقینی کا شکار قرار دیتے ہوئے ایران میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ملک کی صورتحال مزید خراب ہورہی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی صدر کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے اپنی فوجی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی عہدیداروں نے خلیج فارس میں امریکی جنگی جہازوں کی عدم موجودگی اور پاسداران انقلاب کی بڑھتی جارحانہ صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے، جبکہ دونوں جانب سے جنگی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہوسکی۔
تہران: پاسداران انقلاب کے سینیئر مشیر بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے کہا ہے کہ ایران اپنے نئے فوجی ڈاکٹرائن کے تحت پاسداران انقلاب کی جارحانہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں رضا نقدی کے مطابق پاسداران انقلاب کو ایسی عسکری استعداد حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر جنگ کو ایرانی سرحدوں سے آگے مخالف کے علاقے تک لے جایا جا سکے۔
انہوں نے کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ صلاحیت ایران کی نئی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے اور پاسداران انقلاب کو اس مقصد کے لیے مکمل تیاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رضا نقدی نے دعویٰ کیا کہ امریکا کا فوجی بجٹ ایران کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 100 گنا زیادہ ہے، تاہم حالیہ تنازع میں دشمن کے تمام 14 اہداف ناکام ہوئے۔ ان کے مطابق نئے ڈاکٹرائن کا مقصد ایران کو دفاع کے ساتھ ساتھ ممکنہ جنگ کو مخالف علاقے تک لے جانے کی صلاحیت دینا ہے۔
تہران: ایران نے حالیہ جنگ کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کی حکمت عملی میں تیزی سے تبدیلیاں کیں، جس سے خطے میں امریکی فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں کمی واشنگٹن کے لیے چیلنج بن گئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرونز کی متعدد لہروں میں حملے کیے۔ بعض میزائل دورانِ پرواز رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جس سے انہیں روکنا مشکل ہوا۔ ایک میزائل امریکی دفاعی حصار عبور کرکے اردن کے فوجی اڈے تک پہنچا، جس میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فوج نے 1500 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال کیے، جبکہ ایک ہی روز تقریباً 50 انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کو مختلف سمتوں سے متعدد لہروں میں استعمال کرکے امریکی فضائی دفاع کو بیک وقت کئی اہداف سے نمٹنے پر مجبور کیا۔
ایران نے ڈرونز کو نگرانی اور اہداف کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال کیا، جبکہ اپنی اہم فوجی تنصیبات اور اثاثوں کو مختلف مقامات اور زیر زمین مراکز میں منتقل کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی حکمت عملی میں یہ تبدیلیاں امریکی دفاعی نظام اور جنگی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔
تہران: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں پاک ایران تعلقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدر کو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی پیغام پہنچایا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں محسن نقوی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بھی ایرانی صدر کو بریفنگ دی اور اس کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے بعد مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات گہرے کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مضبوط پاک ایران روابط سے علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
اربیل: ایران نے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل کے اطراف میں کرد پوزیشنز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے کرد ٹھکانوں کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے، جبکہ حملوں کے بعد اربیل صوبے میں چار ڈرونز گر کر تباہ ہوئے۔ تاہم ان ڈرونز کی ملکیت اور تباہ ہونے کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں کا ہدف عراق کے کرد علاقے میں موجود کرد پوزیشنز تھیں، تاہم جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ایران ماضی میں بھی عراقی کردستان میں موجود بعض ایرانی کرد گروہوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اربیل میں ایرانی حملوں سے عراق کے کرد علاقے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں، جبکہ حملوں کے مکمل نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی کے پیش نظر نیو جرسی کے بیڈمنسٹر میں واقع ان کے نجی گالف کلب کے اطراف فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا گیا ہے۔
امریکی دفاعی ویب سائٹ دی وار زون کے مطابق گالف کلب کے قریب ایونجر ایئر ڈیفنس سسٹم اور سینٹینل ایئر ڈیفنس ریڈار نصب کیے گئے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی اصلیت کی تصدیق بھی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اضافی سکیورٹی انتظامات ایران کی جانب سے ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں کیے گئے۔ ٹرمپ کی موجودگی کے دوران قائم عارضی نو فلائی زون میں دو سویلین طیارے داخل ہوئے جنہیں امریکی ایف-16 طیاروں نے روک کر ممنوعہ فضائی حدود سے باہر نکالا۔
امریکی حکام کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث اہم شخصیات اور حساس مقامات کی فضائی سکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔ بیڈمنسٹر میں اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ایک ویڈیو میں بھی ٹرمپ کے پس منظر میں ایونجر فضائی دفاعی نظام دیکھا گیا تھا۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے ساتھ علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے پاکستان کی قیادت کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ مشترکہ تعاون کی راہ ہموار کرنے میں سنجیدہ ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مضبوط اور ناقابلِ ٹوٹ ہیں، جبکہ اسلام آباد تہران کے ساتھ تعلقات کو جامع انداز میں وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے اہم سفارتی کردار نے عالمی سطح پر ایک بار پھر اسلام آباد کی ثالثی اور امن کاوشوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ عالمی جریدے ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر ایران اور امریکا کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی جانب واپس لانے کے لیے اہم کوششیں کیں۔
ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور ایران کے ساتھ تاریخی روابط پاکستان کو ایک منفرد سفارتی مقام فراہم کرتے ہیں۔ جریدے نے کہا کہ پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت کے ذریعے دونوں ممالک کو دوبارہ قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آغاز ہی سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان اور قطر نے جولائی میں ایران امریکا جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مشترکہ تجویز بھی پیش کی۔
ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق امریکا، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ پاکستان کے بیک وقت روابط اسے ایک قابل اعتماد ثالث بناتے ہیں۔ رپورٹ نے ماضی میں امریکا چین روابط اور ایران عراق جنگ کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران میں بھی اسلام آباد کی ثالثی نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔
واشنگٹن: ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے کے باعث ترکیہ سے برطانیہ منتقل کرتے ہوئے انتہائی خفیہ سکیورٹی آپریشن کیا گیا، جس میں انہیں ایئر فورس ون کے بجائے ایک چھوٹے فوجی طیارے C-32A میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد امریکی خفیہ سروس اور قومی سلامتی کے حکام نے ٹرمپ کے سفری انتظامات تبدیل کیے۔ صدر کو مبینہ طور پر ایئرپورٹ کے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر دوسرے فوجی طیارے تک پہنچایا گیا۔
اس دوران ایئر فورس ون کو بطور ڈیکائے استعمال کیا گیا تاکہ ممکنہ حملہ آوروں کو ٹرمپ کی اصل موجودگی کے بارے میں گمراہ رکھا جا سکے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کو بھی اس خفیہ منصوبے سے لاعلم رکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کا سامنا کئی برس سے ہے، تاہم اس مخصوص مبینہ سازش کی ایران کی جانب سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ امریکی حکام نے بھی سکیورٹی آپریشن کی تمام تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔
تہران: ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد خلیج فارس میں اس وقت امریکا کا ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں۔
حسین محبی کے مطابق جنگ کے دوران خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی جہاز تعینات تھے، جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران یہ تعداد 100 سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم انہوں نے موجودہ دعوے کے حوالے سے کوئی مزید تفصیلات یا شواہد پیش نہیں کیے۔
ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نقصان اٹھانا پڑا، جس کے باعث واشنگٹن کے لیے اسی شدت کے ساتھ جنگ جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔ ان کے مطابق ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو جواب مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
حسین محبی نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال میں خطے کے امریکی اور غیر امریکی توانائی کے نظام سمیت عالمی سطح پر انٹرنیٹ سے منسلک انفرااسٹرکچر بھی خطرے میں آ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خلیج فارس میں امریکی بحری جہازوں کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان، قطر اور عمان کی سفارتی کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر نے پاکستان کے کردار کو خصوصی طور پر نمایاں کیا ہے۔
اسٹمسن سینٹر کے مطابق اسلام آباد میمورنڈم سمیت مختلف دباؤ کے باوجود پاکستان امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان اور قطر نے جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مشترکہ تجویز بھی پیش کی۔
تجزیے میں ایرانی وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ اسلام آباد اور پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے ایرانی ہم منصب کو پاکستان آنے کی دعوت کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے سفارتی رابطوں کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
اسٹمسن سینٹر کے مطابق امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، واشنگٹن سے دفاعی روابط اور خطے میں دیگر ممالک سے قریبی تعلقات اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالث بناتے ہیں۔ پاکستان، قطر اور عمان کی کوششیں مستقبل میں مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تہران: ایران نے جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکا کو بھی اسرائیلی کارروائیوں میں شریک قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں لبنانی شہری جاں بحق و زخمی ہوئے جبکہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے اسرائیل پر لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
اسماعیل بقائی نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مؤثر اقدام نہ ہونے سے اسرائیل کو حملے جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ انہوں نے امریکی حمایت کے باعث واشنگٹن کو بھی اسرائیلی کارروائیوں کا شریک قرار دیا۔
ایرانی ترجمان نے لبنانی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے لبنان کی خودمختاری اور قومی وقار کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کوششوں کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
لندن: امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل 88.09 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 82.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی صورتحال پر غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
عالمی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں ایران امریکا مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ ایرانی دھمکی کے باعث ترکیہ سے برطانیہ تک انتہائی سکیورٹی میں خفیہ فوجی پرواز کے ذریعے سفر کیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرمپ نے معمول کے صدارتی طیارے ایئر فورس ون کے بجائے فوجی طیارے سی-32 اے کا انتخاب کیا، جبکہ انہیں کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر طیارے تک منتقل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایئر فورس ون کو بطور ڈیکائے طیارہ استعمال کیا گیا تاکہ ٹرمپ کی حقیقی نقل و حرکت کا سراغ لگانا مشکل بنایا جا سکے۔ صدر کے سفر سے متعلق تفصیلات بھی انتہائی محدود حکام تک رکھی گئیں۔
ٹرمپ کا یہ غیر معمولی سفری انتظام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پینٹاگون سے خفیہ پرواز کے بارے میں مؤقف طلب کیا گیا، تاہم محکمہ دفاع نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
تہران: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے موجودہ حالات میں بیرونی خطرات اور دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
مسعود پزشکیان کے مطابق سپریم لیڈر سے ملاقات تقریباً 7 گھنٹے جاری رہی، جس میں ایران کو درپیش اہم چیلنجز، عوامی مسائل اور ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ دشمن ایران میں اختلافات اور انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، اس لیے داخلی اختلافات کے باوجود بیرونی دنیا کے سامنے متحد ہو کر مؤقف پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے قومی یکجہتی کو ایران کی طاقت اور استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں روزگار، معاشی مشکلات، رہائش اور پابندیوں کے اثرات سمیت عوامی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ حکومت ان مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور مشکل حالات میں کسی بھی کمی یا ناکامی پر عوام سے معذرت خواہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا کے حملے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا ضروری ہے۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈی فول سے ٹیلی فونک گفتگو میں عراقچی نے کہا کہ ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری گزرگاہ کے قیام کے لیے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔
عراقچی نے آبنائے ہرمز میں بدامنی کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے امریکی حکام کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب امریکی جارحانہ اقدامات، بحری ناکہ بندی اور دیگر مبینہ خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔
امریکی سینیٹر چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چک شومر نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر قانونی جنگ میں دھکیل دیا، جس میں ناکامی کے باوجود ان کے پاس اس سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ میں حکمت عملی، نظم و ضبط اور سنجیدہ مذاکرات کی صلاحیت کے فقدان کے باعث امریکی فوجیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ رہی ہے، جبکہ جنگ کے معاشی اثرات عام امریکی شہری بھی برداشت کر رہے ہیں۔
سینیٹر چک شومر نے مزید کہا کہ امریکا کو مزید فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ جنگ ختم کی جا سکے، امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات کم ہوں اور عوام پر بڑھتے معاشی دباؤ کو روکا جا سکے۔
ایران کے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے مسلح افواج کے اہم عہدوں پر نئی تقرریاں کرتے ہوئے چھ اعلیٰ فوجی عہدوں کے لیے نئے کمانڈرز مقرر کر دیے ہیں۔ میجر جنرل علی عبداللہی کو چیف آف اسٹاف، بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کو ان کا نائب اور بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
احمد وحیدی کو IRGC کی کمان سونپنے کے ساتھ میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جبکہ میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی کو ان کا نائب مقرر کیا گیا۔ ریئر ایڈمرل علی اوزماعی کو IRGC نیوی اور حجۃ الاسلام حسین طائب کو بسیج فورسز کی سربراہی سونپی گئی ہے۔
نئے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی کو ایرانی مسلح افواج کی دفاعی اور سکیورٹی صلاحیتوں میں اضافے، روایتی اور جدید خطرات کے خلاف مؤثر ردعمل کی تیاری اور مسلح افواج کے جنرل اسٹاف و خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
احمد وحیدی کو IRGC کی عسکری صلاحیتیں بڑھانے، زیادہ سے زیادہ دفاعی باز deterrence برقرار رکھنے اور جنگی تیاری مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ نئے نیول کمانڈر علی اوزماعی کو تربیت، انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری کی ہدایت کی گئی۔ حسین طائب کو بسیج کے کردار، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مضبوط بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر سفارتی ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کرنا اب پالیسی کے بجائے ایک عادت بن چکا ہے، جبکہ پابندیوں میں شدت بڑھانے کے باوجود ایران دباؤ میں نہیں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرتا آ رہا ہے اور یہ اقدامات تہران کو جھکانے میں ناکام رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا اپنے پیدا کردہ بحران سے پابندیوں کے ذریعے نہیں نکل سکتا، جبکہ ایران پر پابندیاں دراصل واشنگٹن کی سفارتی ناکامی کا اعتراف ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور اس وقت آبی گزرگاہ پر امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا ایران کے خلاف کارروائی مزید تیز کر سکتا ہے اور تہران سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ بھی طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی ناکہ بندی کو انتہائی مؤثر قرار دیتے ہوئے اسے ’’فولادی دیوار‘‘ سے تشبیہ دی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کبھی کبھار آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھاتا ہے، تاہم امریکی فوج ان کا سراغ لگانے اور انہیں صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے کو مکمل طور پر بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث اس کی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز ہے، جبکہ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جنرل محسن رضائی کو اعلیٰ سلامتی کونسل میں شمولیت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تقرری رہبرِ اعلیٰ کے اعتماد کی علامت ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اس وقت اسلامی نظام کی تاریخ کے حساس ترین دور سے گزر رہا ہے، تاہم دنیا یہ سمجھ چکی ہے کہ ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ کی قیادت میں ایران میں عوامی، فوجی اور سفارتی سطح پر قومی اتحاد اور یکجہتی موجود ہے، جبکہ ایرانی عوام ملک کے خلاف دباؤ ڈالنے والوں کے سامنے مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق ایرانی عوام کی مزاحمت دشمن کو اپنے مقاصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہی ہے اور ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگر کوئی تیسری قوت مداخلت نہ کرے تو ایران آبنائے ہرمز کھول سکتا ہے۔ انہوں نے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ باہمی معاہدوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ان کے مطابق امریکی سکیورٹی نظام کی ناکامی کے بعد خطے میں نئے دفاعی اور سکیورٹی معاہدے تشکیل پا رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے پر کہا کہ اس سے ایران کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
بقائی کے مطابق نئے علاقائی اتحاد اس بات کا اظہار ہیں کہ امریکی سکیورٹی ضمانتیں اب قابلِ اعتبار نہیں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے باہمی تعاون اور نئے سکیورٹی انتظامات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران کو فوجی دباؤ کے مقابلے میں امریکی اقتصادی پابندیوں اور معاشی دباؤ کی زیادہ فکر ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن کی اقتصادی حکمت عملی ایرانی معیشت پر نمایاں اثر ڈال رہی ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو میں والٹز نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام مذاکرات کے دوران نقد رقم اور منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ پاسداران انقلاب ایرانی معیشت کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے، جبکہ انہوں نے ایرانی حکومت پر بدعنوانی اور مذہبی انتہا پسندی کے الزامات بھی عائد کیے۔
والٹز کے مطابق اقتصادی پابندیوں کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی ایران پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ یہ معاشی اور تزویراتی دباؤ بالآخر تہران کو اپنے مؤقف میں تبدیلی پر مجبور کرسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کے مطابق تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے اور دھمکی آمیز سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ آمدورفت کی سطح بھی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب بحری جہازوں سے ریڈیو رابطے، ڈرون نگرانی اور شناخت کی کارروائیوں کے ذریعے گزرنے والے جہازوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ادارے نے بتایا کہ بحری جہازوں کے قریب میزائل اور دیگر پرجیکٹائل فائر کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ عمان جانے والے جنوبی بحری راستوں کے بعض علاقوں میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
برطانوی میری ٹائم ادارے نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے، جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم اس پیش رفت کے باعث امریکی حکومت میں ایران جنگ کے مستقبل پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
سی این این کے مطابق امریکی فوجی قیادت جنگ کو مزید بڑھانے کے بجائے اس سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ جنرل ڈین کین نے جنگ کے ممکنہ خطرات پر اعلیٰ حکام سے تحفظات بھی شیئر کیے ہیں۔
دوسری جانب جنگ کے پانچ ماہ مکمل ہونے اور امریکی وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے باعث صدر ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ ایرانی شرائط بھی واشنگٹن کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔
امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری آمدورفت محدود کرنے یا محصول وصول کرنے کو قبول نہیں کرے گا، جس کے باعث ممکنہ معاہدے پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے نئی بحری گزرگاہوں کے تعین کا معاہدہ حتمی مراحل میں پہنچ گیا ہے، تاہم اسے دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ان مطالبات میں معاوضے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ اور فوجی دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا شامل ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا انحصار امریکی اقدامات پر ہوگا۔
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ہار چکے ہیں اور تنازع جاری رہنے سے امریکا کمزور جبکہ ایران مضبوط ہو رہا ہے۔
مرفی نے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی قیمت بڑھ رہی ہے اور مبینہ معاہدے کے تحت ایران کو سالانہ 100 ارب ڈالر مل سکتے ہیں، جسے انہوں نے ایران کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
سینیٹر نے مزید کہا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے اضافی فنڈنگ کی مخالفت کریں گے، تاہم تنازع ختم ہونے کے بعد امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ بھرنے کی حمایت کریں گے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک خاتون اور بچے سمیت مزید 7 فلسطینی زخمی ہوگئے، جبکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فورسز نے رہائشی علاقوں اور بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو بھی نشانہ بنایا۔
طبی ذرائع کے مطابق خان یونس میں زخمی ہونے والے 6 فلسطینیوں کو ناصر اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ مشرقی غزہ سٹی میں ایک فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہوا۔ شمالی اور وسطی غزہ میں بھی توپ خانے سے گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ اکتوبر جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیلی خلاف ورزیوں میں 1,257 فلسطینی شہید اور 4,131 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی شہادتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
یونیسیف کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں کم از کم 300 فلسطینی بچے بھی شہید ہو چکے ہیں، جو جنگ بندی کے باوجود شہریوں کو درپیش خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایران کی میزائل صنعت حالیہ جنگوں اور شدید پابندیوں کے باوجود فعال رہنے کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ مختلف میزائل نظاموں کے اجزا کو ملا کر نئی کنفیگریشنز تیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حاج قاسم، خیبر شکن اور فتاح میزائل خاندانوں کے مبینہ ہائبرڈ پروگرام کو ایران کی ماڈیولر ڈیزائن اور موجودہ ٹیکنالوجی کو نئے نظاموں میں استعمال کرنے کی صلاحیت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگی حالات کے باوجود ایران میں میزائل پیداوار، تحقیق اور وارہیڈ ٹیکنالوجی پر کام جاری رہا، جبکہ نئے نظاموں میں درستگی اور ٹرمینل گائیڈنس بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔
ایرانی دفاعی صنعت کی جانب سے ان پیش رفتوں کو طویل پابندیوں اور فوجی دباؤ کے باوجود خود انحصاری اور صنعتی تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
گرین لینڈ کے حکام نے ٹرمپ سے منسلک امریکی آئل کمپنی کو بغیر سرکاری اجازت ڈرلنگ کا سامان ساحل پر اتارنے پر سخت وارننگ جاری کر دی۔ کمپنی جیمسن لینڈ میں تیل کی تلاش کے منصوبے کے لیے مشینری لائی تھی۔
گرین لینڈ کے محکمہ صنعت و معدنیات کے مطابق کمپنی کو آئندہ تمام لاجسٹک سرگرمیوں سے قبل متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی، جبکہ معاملے پر مزید کارروائی بھی متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گرین لینڈ کے قدرتی وسائل میں امریکی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جیمسن لینڈ کے علاقے میں ایک کھرب ڈالر تک مالیت کا خام تیل موجود ہوسکتا ہے۔
گرین لینڈ اور ڈنمارک اپنی خودمختاری کے تحفظ پر واضح مؤقف رکھتے ہیں اور امریکی مداخلت کی مخالفت کر چکے ہیں۔ تازہ تنازع کو جزیرے کے قدرتی وسائل اور بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت سے جڑا اہم معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال واضح نہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے بعد برینٹ خام تیل 84 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
ایران کے مطابق عمان کے ساتھ نئے بحری راستوں سے متعلق معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، تاہم امریکا کو مزید شرائط پوری کرنا ہوں گی، جس کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی برقرار ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔
محسن رضائی 1981 سے 1997 تک پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ رہ چکے ہیں اور سکیورٹی و دفاعی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، جبکہ وہ اس سے قبل سپریم لیڈر کے سینئر مشیر بھی رہے ہیں۔
ایرانی بری افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہان شاہی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر کسی بھی امریکی فوجی دراندازی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہے۔
ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی زمینی کارروائی کے امکانات پر بحث جاری ہے، تاہم ایران میں امریکی فوج کی زمینی تعیناتی کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایرانی حکام کے سخت بیانات کو ممکنہ زمینی حملے کے خلاف واضح انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی جہاز رانی کے راستے کے حوالے سے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز کے مکمل دوبارہ کھلنے کے مترادف نہیں ہوگا۔
عراقچی نے امریکا پر مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واشنگٹن ان خلاف ورزیوں کا ازالہ کرے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال بھی اسی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ دیگر عوامل سے مشروط ہوگا۔ یعنی عارضی جہاز رانی کا ممکنہ معاہدہ کشیدگی کم کرنے کی جانب قدم ہوسکتا ہے، لیکن مستقل بحری آمدورفت کی بحالی ابھی یقینی نہیں۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں دفاعی کمپنیوں کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور ترسیل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خاص طور پر ان دفاعی سازوسامان کی تیاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے جن کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔
نائب وزیرِ دفاع اسٹیو فائن برگ نے دفاعی صنعت کے رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 21 دن کے اندر پیداوار اور ترسیل میں فوری اور نمایاں اضافے کے منصوبے پیش کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ دفاعی پروگراموں میں برسوں پر محیط تاخیر اب قابلِ قبول نہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے باعث امریکی گولہ بارود کے ذخائر میں کمی سامنے آئی ہے، جبکہ پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی قلت بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ پینٹاگون نے ان حالات کے پیش نظر دفاعی پیداوار کی رفتار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے سیکرٹری قومی سلامتی کونسل نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کو دھمکانے یا ایرانی قوم کی توہین سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی حکام نے منجمد اثاثے غیر مشروط طور پر جاری کرنے، بحری ناکہ بندی ختم کرنے، امریکی افواج کو ایران کے اطراف سے واپس بلانے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا مکمل ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر زور دیا گیا۔
ایرانی سیکرٹری قومی سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ ہو یا مذاکرات، ایران اپنے موجودہ مؤقف اور طے شدہ ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات اور سفارتکاری نے امریکا کو ایران کے ساتھ مفاہمت کی طرف آنے پر مجبور کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے مناسب موقع ہے۔ پزشکیان نے کہا کہ امریکا نے ایران اور عمان کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کردہ گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث ایران کو ردعمل دینا پڑا۔ ان کے مطابق خلاف ورزیوں کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک ٹیم بھی کام کر رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ ایک عارضی بحری راستے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں،نتیجے کے بہت قریب ہیں، عارضی راستے کے تعین کا لازمی یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے متعدد مطالبات رکھ دیے ہیں۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری ذوالقدر کے مطابق امریکا کو ایران کو کسی بھی زبان یا انداز میں دھمکانے اور قوم کی توہین سے گریز کرنا ہوگا، جبکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ مستقل طور پر ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کی بحری ناکہ بندی بھی ختم کرنا ہوگی۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے منصوری میں سفید فاسفورس استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا، جس سے شہریوں کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوئے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک لبنان کے کم از کم 18 دیہات میں سفید فاسفورس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 2 مارچ 2026 سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 335 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں 12 ہزار 273 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں انسانی اور شہری نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بحرین نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ خلیجی تعاون کونسل کے اجتماعی دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنائے گا، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی کو بحرین کی اپنی سلامتی سے جوڑتے ہوئے علاقائی خودمختاری اور استحکام کے لیے حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور مسلم دنیا کے لیے اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ معاہدہ بڑھتے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن و استحکام اور مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی و تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی میڈیا میں امریکا کی ایران جنگ میں ناکامی سے متعلق رپورٹس ایرانی میڈیا کی مؤثر بیانیہ مہم کا نتیجہ ہیں۔ بیان میں امریکا اور اسرائیل پر اپنے جنگی اہداف حاصل نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایرانی میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافیوں نے جنگ کے دوران بروقت معلومات، قومی یکجہتی اور مزاحمت کو اجاگر کیا۔ بیان میں دشمن پر پروپیگنڈا، غلط معلومات اور سائبر و ہائبرڈ ذرائع کے ذریعے حقائق مسخ کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق میڈیا محاذ بھی جنگ کا اہم حصہ ہے اور جو فریق بروقت اور مؤثر انداز میں اپنا بیانیہ پیش کرے گا، ابتدائی رائے عامہ پر اس کا اثر زیادہ ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب نے قومی یومِ صحافت پر ان صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے مشکل حالات اور خطرات کے باوجود فرائض انجام دیے، جبکہ جانیں گنوانے والے میڈیا کارکنوں کو بھی یاد کیا۔
ایران نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے تباہ کیے گئے مبینہ امریکی اور اسرائیلی فضائی اثاثوں کی باقیات ایک نمائش میں پیش کر دی ہیں۔ نمائش میں ایف-15 ای جنگی طیارے کے ملبے کے ساتھ پائلٹ کی ایجیکشن سیٹ اور دیگر حصے بھی شامل ہیں۔
نمائش میں ایم کیو-1 پریڈیٹر اور ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کی باقیات بھی رکھی گئی ہیں۔ ایرانی حکام اسے اپنی دفاعی صلاحیت اور امریکی فضائی طاقت کے مقابلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
سابق امریکی مذاکرات کار ایرن ڈیوڈ ملر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو تسلیم کیا تو واشنگٹن کو بڑی اسٹریٹجک شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ملر کے مطابق ایسا معاہدہ خلیجی عرب اتحادیوں کے لیے بھی بڑا دھچکا ہوگا، جبکہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی صورت میں شدید ردعمل سے عالمی تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور تہران اپنے حقوق، خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پزشکیان نے ایرانی مسلح افواج کی کارروائیوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ایران کو اپنے دفاع پر مجبور کیا گیا۔
ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل پر خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں مسلم اتحاد اور تعاون کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک پر قبضہ یا حملہ نہیں چاہتا بلکہ صرف ان مقامات کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے جاتے ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام بحال ہونے کے بعد علاقائی ممالک کے درمیان ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سمجھ چکے ہیں کہ خطے کی سکیورٹی کی ذمہ داری علاقائی ریاستوں کو خود اٹھانی چاہیے، جبکہ کشیدگی میں اضافہ سکیورٹی کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ میں مزید شدت کے فوجی آپشنز کے نتائج الٹے پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے سی آئی اے ڈائریکٹر، وزیر خارجہ اور نائب صدر سمیت دیگر حکام سے بھی اپنے تحفظات شیئر کیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو شکست دینا مشکل ہوگا اور مزید حملوں سے امریکا مخالف جذبات بڑھ سکتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق موساد کے سربراہ رومن گوفمان نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مبینہ ناکام منصوبے سے وابستہ دو سینئر افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ دونوں افسران پر ایران میں حکومت مخالف سرگرمیوں کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کا الزام تھا۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ منصوبے میں ایرانی اقلیتوں، خصوصاً کرد گروہوں کے ذریعے حکومت مخالف تحریک کو منظم کرنے اور پاسداران انقلاب کے مراکز کو نشانہ بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ منصوبہ عملی طور پر کامیاب نہ ہو سکا، جبکہ ترکی کی سفارتی مداخلت اور کرد گروہوں کی ہچکچاہٹ کے باعث مبینہ حکمت عملی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ موساد، اسرائیلی حکومت اور ایرانی حکام نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
ایرانی پارلیمان میں امریکی اور اسرائیلی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی سے متعلق قانونی مسودے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مجوزہ قانون میں خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر سامان کی مالیت کے 20 فیصد جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ حتمی منظوری سے قبل ماہرین کی تجاویز شامل کی جائیں گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی سے متعلق وعدے پورے کرے۔
قالیباف نے امریکی پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور پھر مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، جسے انہوں نے ڈرامائی سفارت کاری قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جنگ کے چھٹے ماہ میں مشکل فیصلوں کا سامنا ہے، جہاں انہیں آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدے یا فوجی کارروائی میں اضافے میں سے انتخاب کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق طویل جنگ، بڑھتی ایندھن قیمتیں، عوامی مخالفت اور سیاسی دباؤ نے صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے، جبکہ تنازع اب تک اپنے بنیادی اہداف حاصل نہیں کر سکا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے تناظر میں امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق خفیہ معلومات لیک ہونے پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے، جبکہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو غدار قرار دیا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال، امن و سلامتی اور بحری جہاز رانی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور فرانس کے دوطرفہ تعلقات، تعاون کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر لیا ہے اور مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے حملے جاری رہنے کی صورت میں ایران جوابی کارروائیاں جاری رکھے گا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن تنازع کے حل کے لیے فوجی، معاشی اور سفارتی تمام راستے استعمال کرے گا۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات کی بحالی کا باعث بنے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیچیدہ اور وقت طلب ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حتمی طور پر تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن ایران میں 48 گھنٹے کے اندر حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا تھا، لیکن عوام کے عزم اور قومی اتحاد نے اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات کو 1979 کے انقلاب کے بعد سب سے سخت ترین دور قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور امید ہے کہ آبنائے ہرمز کو جلد کھول دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی فوج نے ذخائر میں کمی کے بعد چھوٹے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر سے کم قیمت والے سستے میزائل انٹرسیپٹر کی تلاش شروع کر دی۔ابتدائی طور پر کم از کم 5 ہزار میزائل تیار کیے جائیں گے۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان غیر اعلانیہ سفارتی چینلز کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کے ایک مؤثر ذریعے کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔
ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کے تھاڈ اور پیٹریٹ جیسے اہم فضائی دفاعی میزائلوں کے 80 فیصد ذخائر ختم ہو گئے ہیں۔ ہتھیاروں کی شدید کمی کے باعث پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو ایران پر مزید حملے فی الحال روکنے کا مشورہ دیا ہے۔
حوثی ملیشیا حملے میں نجران ائیرپورٹ کا مین رڈار تباہ ہونے کے بعد پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔ ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ کارروائی صعدہ میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کا جواب تھا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے استعفے کی خبروں کو لغو اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عہدے پر برقرار ہیں اور حکومت و مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم ہے۔
ایران نے امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے صرف عمان سے بات ہو رہی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ایران کے پاس رہے گا۔
بحرِ احمر میں پروجیکٹائل لگنے سے بھارتی مال بردار جہاز ڈوب گیا۔ یمنی کوسٹ گارڈ نے بروقت ریسکیو کرتے ہوئے 13 بھارتیوں سمیت تمام 14 ارکان کو بحفاظت موخا بندرگاہ منتقل کر دیا ہے۔
ایران کی مجلس خبرگان رہبری نے امریکہ پر اعتماد کو سراب قرار دیتے ہوئے تمام ملکی عہدیداروں کو نئے ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی بھی مفاہمت بے سود ثابت ہوگی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے انٹیلی جنس اور ملٹری ماہرین کو ای میل بھیج کر ایران پر دباؤ ڈالنے اور اسے سزا دینے کے لیے نئے، تخلیقی اور غیر روایتی افکار پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج اپنے پرانے طریقوں کو ناکافی سمجھ رہی ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
امریکہ نے ایران کو آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے پر رعایت کی پیشکش کی ہے، تاہم تہران نے اسے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی جنگ مکمل طور پر نہیں رک جاتی، یہ بحری راستہ نہیں کھولا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا وہ معاہدہ کرے یا ہتھیار ڈالے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکی بحریہ کے کنٹرول میں ہے اور ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام ایک طرف تو مذاکرات کے لیے منتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خلیجی ممالک ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی سے پریشان ہیں اور امریکا سے سیکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کا حامی ہے، جبکہ خلیجی ریاستیں ایران تنازع میں امریکی حکمت عملی کی وضاحت چاہتی ہیں۔ خلیج میں جنگ کے اثرات اور امریکی عوام میں بڑھتی مخالفت پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
ایرانی ہیکنگ گروپ نے امریکی ریاست منیسوٹا کے 30 سے زائد واٹر پلانٹس کو سائبر حملے میں ناکارہ بنا دیا اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کا ای میل اکاؤنٹ بھی ہیک کر لیا ہے۔ ان حملوں نے امریکہ کے اندرونی انفراسٹرکچر اور پاور سسٹمز کی سیکیورٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایران نے کمرشل ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پوسٹس کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کی لوکیشن معلوم کرنے اور ان پر نشانہ بنانے کا طریقہ کار اپنا لیا۔
ایران کے خلاف 6 ماہ سے جاری جنگ میں امریکی پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی میزائلوں کے ذخائر 67 فیصد تک گر کر 1000 سے کم رہ گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں جنگی مقاصد پر شدید اختلافات قائم ہیں اور 67 فیصد امریکی عوام اس جنگ کے مخالف ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیج میں امریکی اڈوں پر مؤثر جواب کے بعد امریکہ کو پیش قدمی روکنی پڑی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران کی صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کا کوئی توڑ موجود نہیں ہے۔
امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی لوکیشن معلوم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ 150 دنوں سے کسی فون یا لیپ ٹاپ کا استعمال نہ ہونے اور صرف کاغذی پیغامات پر انحصار کی وجہ سے جدید سیٹلائٹ بھی بے اثر ہو چکے ہیں۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر جاری مذاکرات صرف دوطرفہ ہیں اور ان میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی یا غیر ملکی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ عمان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
پینٹاگون کی افشا ہونے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں 400 سے زائد امریکی فوجی زخمی اور ہلاک ہوئے۔ یکم مارچ کو کویت کے پورٹ شعیبہ پر ایرانی ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ 8 جولائی کے بعد ہونے والے حملوں میں مزید 200 سے زائد امریکی اہلکار متاثر ہوئے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو فوجی مقاصد اور ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ تہران نے کہا ہے کہ 75 سالہ امریکی دشمنی اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران اپنے دفاع کا مکمل حق استعمال کرے گا اور جوابی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی فوج آنے والے دنوں میں مزید 10 ری فیولنگ طیارے اسرائیل بھیجے گی جنہیں تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ پر رکھا جائے گا۔ یہ طیارے وہاں پہلے سے موجود 30 سے زائد امریکی ری فیولنگ جہازوں کا حصہ بنیں گے۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے خلائی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس برتری اور لوکل سطح پر سستے ہتھیاروں کی تیاری کو 4 بنیادی دفاعی ترجیحات قرار دیا ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں کو امریکی ناکامیوں کے باوجود غفلت سے بچنے اور دفاعی صلاحیتیں مزید بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ایران پر بڑے حملوں سے گریز اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے امریکہ سے ممکنہ حملوں کے منصوبے پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ 2 سال سے عوام پر جنگیں اور دباؤ مسلط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مشکل وقت میں استقامت دکھانے والے عوام کو حقیقی ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا مستقبل یہاں کے عوام ہی بنائیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد اب تہران مذاکرات کی میز پر آنے اور خاص طور پر اپنے ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کے مسائل حل کرنے کے لیے بے تاب دکھائی دے رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی حملے کی صورت میں تمام امریکی قواعد کو تباہ کرنے اور خطے کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوابی حملہ خلیج فارس تک محدود نہیں ہوگا۔ یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی توانائی مراکز پر متوقع حملوں کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی اور ترک ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے امریکہ کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہے اور کسی بھی جارحیت یا اس میں ساتھ دینے والے علاقائی ممالک کو سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کے ایرانی دعوے پر امریکی فوج نے تردید کردی۔ سینٹکام کے مطابق اہم آبی گزرگاہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے۔
مصر نے دمیاط بندرگاہ پر ڈرون حملے میں ایران کے ملوث ہونے کی خبروں کو رد کر دیا ہے۔ مصر کا کہنا ہے کہ کسی فریق نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جس کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش کم ہوئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر کی سلامتی کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سازشوں سے ہوشیار رہنے اور خطے کے امن کو بچانے کے لیے مسلم بھائی چارے اور یکجہتی کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
سینٹ کام نے ایرانی پاسداران انقلاب کے تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ کوئی ایف 35 طیارہ تباہ نہیں ہوا، جبکہ 20 سے زائد جنگی جہازوں کے ساتھ بحری ناکہ بندی مکمل نافذ ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے کویت اور اردن میں امریکی ایئر بیسز پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں، جن کے نقصانات کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر سے بھی ہو گئی ہے۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا میدان جنگ کی شکست کا بدلہ بے گناہوں سے لیتا ہے۔ قشم اور میناب میں عام شہریوں پر حملے امریکی مظالم کا تسلسل ہیں، امریکا کو اس کی قیمت چکانی ہوگی۔
پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کا آج ہی بدلہ لینے کا عزم کیا ہے۔ دوسری جانب کویت میں چینی کمپنی پر ایرانی حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا، جبکہ اردنی افواج نے ملک کی حدود کی طرف آنے والے 5 ایرانی میزائل فضا میں تباہ کر دیے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرا بی نے بتایا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت دوبارہ مذاکرات پر لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کو تکنیکی گفتگو کی پاسداری کا کہہ رہا ہے۔
ایران اپنا فضائی دفاع مضبوط کرنے کے لیے چین سے پورٹیبل فضائی دفاعی نظام کی خرید کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم چین نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی سرزمین کے ذریعے ان ہتھیاروں کی ترسیل کی خبروں کو من گھڑت کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو عالمی تجارت یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکہ نے پاسداران انقلاب کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے زبردستی انشورنس وصول کرنے والی 2 کمپنیوں پر نئی پابندیاں لگا دی ہیں۔
سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے تجارتی جہازوں کو بچانے کے لیے عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ حوثیوں کی سمندری ناکابندی کے بعد سعودی عرب درجنوں ممالک سے رابطے کر رہا ہے تاکہ اہم سمندری راستے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
عراق کے صوبے دیالہ میں امریکی اور سعودی فضائی حملوں میں پاسداران انقلاب کے 4 ایرانی اہلکار شہید ہو گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ اربعین زائرین کی حفاظت پر مامور تھے، جبکہ حشد الشعبی نے کہا کہ حملے میں شہید 6 ایرانی شہری بطور زائر عراق آئے تھے۔
مزاحمتی تنظیم تحریکوں نے الزامات کو مسترد کیا اور سعودی عرب اور امریکا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عراقی حکومت سے امریکہ کے تمام فوجی اڈے ختم کرنے اور غیر ملکی افواج کو فوری طور پر ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عراقی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ عراق کی سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال ہونے کا دعویٰ کرنے والے فریقین ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی نے اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا اور عراق اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے نیا منصوبہ بنا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران کو معاہدوں کی پاسداری کا کہا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینیوں سے کامل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
عراق میں 7 صوبوں کے اندر امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملوں کے نتیجے میں حشد الشعبی کے کم از کم 20 مجاہدین شہید اور 32 زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ عمارتوں اور عسکری گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں 50 فیصد انتظام کی عمانی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کے مطابق ایران نے عمان کی حدود والے راستے کا کنٹرول بھی مانگ لیا ہے اور شرط نہ ماننے پر ہرمز مسلسل بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی عسکری حکام نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر عراقی سرزمین سے ہونے والے ڈرون حملوں سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سخت تردید کی ہے اور امریکی الزامات کو خطے کی صورتحال سے بے خبری قرار دیا ہے۔
امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران حامی گروہ حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے ہیں جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ بمباری سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، جبکہ عراقی فورسز نے اسے ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران کی ناکہ بندی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف ایٹمی پروگرام پر ہو رہے ہیں اور انہیں نیتن یاہو سے مشورے کی ضرورت نہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی موفق السلطی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی سینٹکام نے تمام میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج مکمل الرٹ ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکا نے خود عمان کے ذریعے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہرمز کے قریب آنے والا یورپی جہاز جائز ہدف ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا ایک مکمل راستہ ایرانی کنٹرول میں دیا جائے جبکہ دوسرے راستے پر بھی ایران کا جزوی کنٹرول ہونا چاہیے۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے قریب ہیں۔ پاکستان، قطر اور مصر ہرمز انتظامی امور پر اختلافات دور کروا رہے ہیں۔ ایران اور عمان تجاویز پر متفق ہو چکے ہیں جبکہ امریکی صدر کا حتمی فیصلہ نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد متوقع ہے۔
ایران نے منجمد فنڈز کے استعمال کے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے وارننگ جاری کی ہے کہ ایرانی فنڈز استعمال کرنے والے جہازوں کا آبنائے ہرمز میں داخلہ بند ہوگا۔ ایرانی نائب صدر نے بھی جنگ مسلط کیے جانے کی صورت میں بھرپور دفاع کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع نے عراق کی جانب سے تیل تنصیبات پر داغے گئے ڈرونز کو فضا میں تباہ کر کے حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران نواز ملیشیاؤں کو قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو صدر ٹرمپ سے ملاقات میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ایٹمی پروگرام روکنے کا مطالبہ کریں گے۔ تاہم امریکی انتظامیہ اس غیر مقبول جنگ کو مزید بڑھانے کے حق میں نہیں دکھائی دیتی۔
عمان نے آبنائے ہرمز کے لیے مشترکہ سیکیورٹی اور انتظام کا پلان ایران کو پیش کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور عمان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے خطے کے حالات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔
ایران کو امریکہ اور اسرائیل سے جنگ میں 230 ملین کیوبک میٹر گیس پیداوار کا نقصان ہوا ہے اور کل نقصان 270 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ امریکی حملوں میں 12 پل، 2 سرنگیں اور ایک ایئرپورٹ تباہ ہو چکے ہیں۔
سی بی ایس نیوز کے نئے سروے کے مطابق 58 فیصد امریکی ایران سے تنازع پر تشویش کا شکار ہیں اور 76 فیصد کا ماننا ہے کہ جنگ ٹرمپ انتظامیہ کی توقع سے زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ 61 فیصد عوام فوجی کارروائی کے خلاف جبکہ 67 فیصد فوری جنگ بندی کے حامی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے ٹرمپ کی پالیسی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے تجزیے میں کہا ہے کہ اسرائیل 50 سال سے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ، 2002 کا اشرار کا محور، 2015 کا ایٹمی معاہدہ اور اب 2026 کے اسلام آباد معاہدے کی ناکامی کو اسرائیلی اثر و رسوخ اور پروپیگنڈے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان 3 روز سے حملہ بندی قائم ہے۔ قطر اور پاکستان فاصلے مٹانے کے لیے ثالثی کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے بات چیت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایران نے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ آبنائے ہرمز پر لازمی ٹول ٹیکس کی ایرانی شرط اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث معاشی اور ملٹری تناؤ مسلسل برقرار ہے۔
اسرائیلی میڈیا ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اپنے ساتھ ایران کی جانب سے ایٹم بم کے حصول کی پیش رفت پر مبنی ’’تازہ ترین انٹیلی جنس معلومات‘‘ لے کر جا رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کے لیے دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
ایران کے وزیر صحت اور طبی تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 10 سے 12 دنوں کے دوران جنوبی ایران کے علاقوں پر امریکی حملوں کے نتیجے میں 60 افراد شہید اور تقریباً 670 زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بیان میں کہا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی تجاویز کو ان کے بے جا اور ناجائز مطالبات کے باعث سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا راستہ دینے کی عمانی اور امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی پالیسی قائم ہے۔
ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے امریکا کو انتباہ دیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کا کوئی بھی اقدام جنگ کے پھیلاؤ کے مترادف ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور عمان و اسلام آباد مذاکرات میں امریکا کی طرف سے پیش کیے گئے بے جا مطالبات اور آبنائے ہرمز سے متعلق شرائط کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ سے مذاکرات یا جنگ بندی کی درخواست کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ صیہونی ریاست کے اثر میں کیے گئے جنگی جرائم کی قیمت چکائے گا اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پینٹاگون نے اپنے ملٹری ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے ایران جنگ میں زخمیوں کی تعداد 624 اور ہلاکتوں کی تعداد 18 تسلیم کی ہے۔ پینٹاگون پر اعداد و شمار چھپانے کا الزام تھا، جس پر دفاعی حکام نے تکنیکی گڑبڑ کا بہانہ بنایا۔ کانگریس کے ارکان نے جنگی اختیارات کے قانون کی خلاف ورزی اور شفافیت کی کمی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تہران میں مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کے انتظامی نظام پر تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ تاہم ایران متبادل راہداریوں کی مخالفت کر رہا ہے اور گزرنے والے جہازوں سے سروس فیس وصول کرنے اور کنٹرول اپنے پاس رکھنے کے موقف پر قائم ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ایران پر حملے روکے ہیں۔ پینٹاگون کے 13 روزہ بمباری روکنے کے بعد فریقین میں عارضی توقف آیا ہے۔ سفیر نے اسلحے کی قلت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج مکمل تیار ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا براہِ راست یا بالواسطہ کوئی بھی حملہ تہران کی بڑی غلطی ہوگا اور اسرائیل اس کا شدید جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ایرانی نظام کے خاتمے یا اس کے اپنے تمام اقدامات کی قیمت ادا کرنے پر ہی ختم ہوگی۔ تصور کریں کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی طاقت ہوتی تو وہ دنیا کے ساتھ کیا کرتا؟
یمن کی حوثی ملیشیا نے 48 گھنٹوں میں 3 سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا اور 16 جہازوں کو واپس موڑ دیا۔ صنعا ایئرپورٹ پر سعودی حملے کے بعد 2022 کی جنگ بندی ختم کر کے حوثی ملیشیا نے سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے تحت باب المندب سے کسی سعودی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جا رہا۔ اس کے علاوہ الجوف میں سعودی عرب کا ترکی ساختہ ڈرون بھی گرایا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایکس پر لکھا کہ ایران پر حملہ کرنے والوں کو ہمیشہ قیمت چکانی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے بعد اب یوکرین بھی جلد سمجھ جائے گا کہ ایران اپنے خلاف اقدامات کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑتا۔ یہ بیان بحیرہ قزوین میں تجارتی جہاز پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ایران کے خلاف جنگ میں امریکی اسلحے اور گولہ بارود کی قلت سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ اور ضرورت سے کہیں بڑھ کر اسلحہ موجود ہے۔
خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی لاگت سے پائپ لائنز تعمیر کیں، تاہم موجودہ بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ متبادل راستے پانی سے گزرنے والے تیل کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی منتقل کر سکتے ہیں۔
امریکی میزائل ذخائر بالخصوص پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوماہاک کروز میزائلوں کا استعمال پیداواری صلاحیت سے زیادہ ہو چکا ہے۔ 1000 سے زائد ٹوماہاک اور 1100 ایئر لانچڈ میزائل استعمال ہونے کے بعد ہتھیاروں کی بحالی میں 5 سال تک لگ سکتے ہیں، جس سے وائٹ ہاؤس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے بعد حوثی فورسز نے باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ پر سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکہ بندی کر دی ہے۔ سعودی عرب کا 11 سے 12 فیصد عالمی بحری تیل کا راستے معطل ہونے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر شدید معاشی دباؤ آ گیا ہے، جبکہ ٹرمپ کی عسکری دھمکیوں کے باوجود حوثی ملیشیا محاصرہ ختم کرنے کے ارادے پر قائم ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور جنرل ڈین کین نے ایران پر حملے بڑھانے اور ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی۔ پینٹاگون نے ایران پر 13 روز سے جاری فضائی بمباری کو فی الحال روک دیا ہے اور سفارتی مذاکرات پر زور دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار ہے، جس کے تحت ایران جانے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش پر خلیج عمان میں آئل ٹینکر لاوین سمیت 2 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ ایک آئل ٹینکر کو جانچ کے بعد جانے دیا گیا۔
کویت نے وال اسٹریٹ جنرل کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی آپریشن میں شمولیت کی تردید کی ہے۔ کویت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زمین، فضائی یا سمندری حدود کو ایران کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے امریکہ کا ساتھ دیا تو وہ بھی ایرانی اہداف میں شامل ہوگا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی بمبار طیاروں نے حال ہی میں برطانوی اڈے استعمال کیے ہیں، جس پر سخت ترین ردعمل دیا جائے گا۔
ایران کے پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ 15 روزہ جوابی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے ایف 15 جنگی طیارے، پیٹریاٹ ریڈارز اور درجنوں ڈرونز سمیت امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں فی الحال معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عمان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت دیکھی گئی ہے۔
انصار اللہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے اضلاع جیزان اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ کارروائی حدیدہ پر سعودی بمباری کے جواب میں کی گئی ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران منصفانہ مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کے لیے پرعزم ہے، لیکن وہ وہاں امریکی بالادستی کی اجازت بلکل نہیں دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ جنگ سے اپنے نتائج حاصل نہیں کر سکتا، لہذا سفارتکاری ہی واحد اور بہتر راستہ ہے۔
بحیرہ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کے نتیجے میں 1 ملاح جاں بحق اور 1 زخمی ہو گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خود دفاع کے تحت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر زلینسکی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فوجی سامان منتقل کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے انسانی حقوق کے معاملے پر یورپی یونین پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں پر خاموش ہیں جبکہ انسانی حقوق کے دعوے کرتے ہیں۔
.@Kajakallas speaks of the European Union’s “human rights concerns” regarding Iran. How can a professed commitment to human rights be so easily reconciled with providing logistical and technical support for lethal aggressions against the Iranian people — aggressions that…
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 25, 2026
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنے عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا، جبکہ عالمی برادری کو انسانی حقوق کے معاملے پر غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
ایرانی مسلح افواج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر اقدام کرے گا۔
ایرانی کمانڈر کے مطابق کسی بھی نئی امریکی کارروائی کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے روس اور چین کے ساتھ علاقائی صورتحال، امریکی کارروائیوں اور سیکیورٹی امور پر بات چیت کی۔
چین اور روس نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تعاون جاری رکھنے پر زور دیا، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اور دیگر عالمی مسائل کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس سے ایندھن کی قیمتیں اور مہنگائی متاثر ہو سکتی ہے۔
سعودی اتحادی افواج نے یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثی ملیشیا کے عسکری ٹھکانوں پر کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ اتحادی حکام کے مطابق حملوں کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا تھا۔
سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بندرگاہیں کھلی ہیں۔ دوسری جانب حوثی میڈیا نے الحدیدہ اور کمران جزیرے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی حملوں کے آپشنز پر کابینہ اور اعلیٰ مشیروں سے مشاورت کی ہے، تاہم انہوں نے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران بات چیت میں سنجیدگی دکھا رہا ہے، مگر معاہدے کے لیے ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی پر عالمی تشویش برقرار ہے۔
ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے کہا ہے کہ ایران کی اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں اور تہران ہمیشہ مشکل وقت میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
عراق کے وزیراعظم سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ایران علاقائی امن، تعاون اور باہمی احترام کا حامی ہے، جبکہ خلیجی ممالک سے متعلق کشیدگی میں ایران کا مقصد صرف اپنی سلامتی کا دفاع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر بڑے حملے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ ان کے بقول تہران اب واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدگی دکھا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو بڑے پیمانے پر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے بحرین میں ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکی فوج نے ایرانی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ٹینکر کو ناکارہ بنانے کا اعلان کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں منجمد ایرانی اثاثوں کو بحری جہازوں کے نقصان کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کے بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی یہ غیر قانونی ضبطگی عالمی مالیاتی نظام میں تباہ کن افراتفری کا باعث بنے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فنڈز سے ہرجانہ ادا کرنا منصفانہ اقدام ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے مشرق وسطیٰ میں انسانی ضروریات اور سپلائی چین کا بحران شدید ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقین سے شہریوں اور بنیادی سروسز کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران نے عراقی وزیراعظم کے توسط سے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کے بغیر کسی عارضی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے، جبکہ ٹرمپ نے بھی ایران کے غیر آمادہ ہونے کا بیان دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے صوبہ کرمان کے شہر کہنوج کے اوپر امریکی ٹوماہاک کروز میزائل کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ تہران میں ایئر ڈیفنس سسٹمز فعال رہے اور بندر عباس میں حملے سے 2 افراد زخمی ہوئے۔
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی شدید بمباری کی ہے، جس میں اہواز کے قریب 4 شہری شہید اور 5 زخمی ہوئے۔ بندر عباس، جاسک اور قشم آئی لینڈ سمیت متعدد شہروں میں دھماکے ہوئے، جبکہ تہران اور دیگر علاقوں میں ایئر ڈیفنس فعال کر دیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہِم عزیزی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کا ساتھ دینے کی صورت میں وہ دیگو گارشیا بیس سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سائیکس پیکو کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایرانی صلاحیتیں روایتی جنگ سے کہیں آگے ہیں۔
امریکی فوج نے 30 سال بعد پہلی بار پیٹریوٹ پی اے سی 2 میزائل انٹرسیپٹرز کا نیا آرڈر دیا ہے۔ ریتھیون کو 20 ارب ڈالر کے معاہدے ملے ہیں، جن کا مقصد ایران کے خلاف آپریشن اور عالمی سطح پر پیٹریوٹ میزائلوں کی شدید کمی کو پورا کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہازوں کو پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ کنٹرول ایرانی منجمد اثاثوں سے کیا جائے گا۔ اس بحران کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
عراقی ملیشیا اولیاء الدم نے کویت، اردن اور سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ کویتی سرحدی گزرگاہ العبدلی کو ڈرون حملے سے مالی نقصان پہنچا، جبکہ اردنی دفاع نے اپنے علاقے میں آنے والے 4 میزائل اور 6 ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کے سب سے بڑے حملے کی تیاری کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے کے قریب ہیں اور کسی کی مدد کے بغیر حملہ کر سکتے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں حملوں کی صورت میں انہوں نے ایران کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرانے اور سخت ملٹری سزا دینے کی دھمکی دی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔
عمان نے سعودی عرب، یمنی فریقین اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ عمان نے بحیرہ احمر میں کشیدگی سے بچنے اور جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں کہا کہ ایران معاہدے کے لیے التجا کر رہا ہے مگر سنجیدہ نہیں، جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ ایٹمی معاہدہ امریکی کانگریس میں پیش کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو فون کر کے حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کی مذمت کی اور واضح کیا کہ پاکستانی قوم، حکومت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سعودی سلامتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی جہازوں کے خلاف کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ سمجھا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں اور سمندری راستوں پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 2 فیصد اضافے سے 96 ڈالر اور امریکی خام تیل 88.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ نے 30 سالہ پرامن جوہری تعاون کے ‘123 معاہدے’ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی سویلین ایٹمی پروگرام میں حصہ لیں گی اور مستقبل میں سعودی زمین پر یورینیم افزودگی کا امکان بھی شامل ہے۔
ایران اور عراق کی شلمچہ سرحدی کراسنگ پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہو گئے۔ خوزستان کے حکام نے حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم علاقے میں امدادی کاموں کے ساتھ بارڈر کو مسافروں کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جنوبی راستے سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کے بعد شدید آگ لگ گئی جبکہ 2 دیگر جہاز واپس مڑ گئے۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ہرمز پر ان کا کنٹرول ہے اور امریکی مداخلت ختم ہونے تک آئل ٹینکرز کی آمدورفت پر مکمل پابندی رہے گی۔
امریکہ نے ایران پر مسلسل 12 ویں رات بمباری کرتے ہوئے بوشہر، خوزستان اور ہرمزگان کو نشانہ بنایا۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق امریکی حملوں میں 53 افراد شہید اور 592 زخمی ہوئے ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون سائٹس کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یمن کے حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں 2 سعودی آئل ٹینکرز "اینسیلیا” اور "لیلیٰ” کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب نے اینسیلیا میں آگ لگنے کی تصدیق کی ہے تاہم عملہ محفوظ ہے۔ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کو محاصرے کے بدلے محاصرے کا چیلنج دیا ہے۔
ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے پلوں یا پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو وہ پورے خطے کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی عسکری ذرائع نے تسنیم ایجنسی کو بتایا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رہے گا اور صرف تہران سے ہم آہنگ جہازوں کو ہی گزرنے کی اجازت ہوگی۔
امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کی فنڈنگ سے متعلق سماعت کے دوران ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگ میں ناکامی فوجیوں کی نہیں بلکہ قیادت کے فیصلوں کی ہے۔
گیری پیٹرز نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے جنگی پالیسی، اخراجات اور واضح اہداف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مؤثر حکمت عملی کے بغیر امریکی فوجیوں کو خطرات میں ڈالنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستان نے بحیرہ احمر اور سعودی عرب کے خلاف حوثی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی بحری مفادات یا پرچم بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کے تحت اپنے بحری اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات، حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کا حق بھی رکھتا ہے، تاہم کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر بھی زور دیا۔
عالمی جریدے فارن افیئرز نے ایران اور امریکہ کی جنگ رکوانے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے امن کا ضامن قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7 اپریل کی امریکی ڈیڈ لائن سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی قیادت سے گفتگو کے بعد جنگ روک دی گئی۔ جریدے کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر ایک نئ قوت بن کر ابھرا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی کی مدد سے یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ معاہدے کا مسودہ جلد امریکی کانگریس کو بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے مانیلا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سنجیدگی دکھائے تو واشنگٹن بھی سنجیدہ ہے، ورنہ امریکی اور اتحادی مفادات کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ایران کے شہر میناب میں 28 فروری کو امریکی حملے کا نشانہ بننے والے اسکول کے 32 شہید بچوں کے جنازے ادا کر دیے گئے۔ اس دلخراش حملے میں اب تک 170 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ جائے وقوعہ سے ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے فون پر گفتگو کی جس میں خطے کی صورتحال پر بات کی گئی۔ قطری رہنما نے تمام فریقین سے امریکی اور ایرانی مفاہمت کی یادداشت پر عمل کرنے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سفر کی آزادی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ قطر نے کہا ہے کہ وہ جنگ سے بچاؤ اور امن کے لیے جاری ہر کوشش کا حمایتی ہے۔
متحدہ عرب امارات اور برطانیہ نے سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی سے متعلق یمنی حوثیوں کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اماراتی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور بحیرہ احمر میں آزاد جہاز رانی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کی اقدامات سے خطے کا امن خطرے میں پڑھ رہا ہے۔ اس دوران سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے یورپی ممالک سے ٹیلی فونک رابطے کر کے نئی حکمتِ عملی پر بات چیت کی ہے۔
امریکی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ 17 جولائی کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے بعد لاپتا ہونے والا 28 سالہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکا ہے۔ اس ایئر بیس پر حملے میں پہلے ہی دو فوجی مارے گئے تھے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 18 ہو گئی ہے۔
ایرانی فوج نے اپنے دفاعی نظام میں نیا جدید اینٹی ایئر کرافٹ سامان شامل کر کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے مطابق آپریشن صائقہ کے 18ویں مرحلے کے تحت کویت میں واقع امریکی عسکری بیس عارفجان پر سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔ ان حملوں سے کویت کے پاور گرڈز کو نقصان پہنچا ہے جہاں حکام نے شدید گرمی کے باعث بجلی کی راشننگ شروع کر دی ہے۔
امریکی فوج (سینٹ کام) نے ایران پر مسلسل 11ویں رات بھی شدید فضائی حملے کیے۔ تہران، تبریز، بوشہر، اور خوزستان سمیت 5 صوبوں کے 8 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک رہا۔ بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے قریب دھماکوں پر ایرانی عسکری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی تنصیبات پر حملہ جنگ کے دائرہ کار کو پورے خطے تک پھیلا دے گا۔
امریکی وزیر دفاع پیت ہیگسیٹھ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ موڈیز کے مطابق کل معاشی نقصان 150 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ سینیٹ میں بریفنگ کے دوران انہوں نے ہتھیاروں کے ذخائر کی کمی اور 1.5 کھرب ڈالر کے نئے دفاعی بجٹ پر زور دیا۔ اسی دوران خطے میں ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں جواباً کارروائیاں کی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی زیر زمین غیر اعلانیہ ایٹمی تنصیب "پک ایکس ماؤنٹین” پر جلد شدید حملے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے بے صبر ہے مگر امریکا فی الحال کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے اور حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔