ایران جنگ کے باعث نیٹو کے پاس بیلسٹک میزائل روکنے کی دفاعی صلاحیت ختم ہو گئی

ایران جنگ کی وجہ سے یورپ میں نیٹو کے پاس پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی انتہائی اور شدید ترین کمی پیدا ہو گئی ہے۔
ایران کے خلاف امریکی جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے پر یورپ میں نیٹو کے پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی ہو گئی ہے۔
امریکی اور نیٹو حکام نے اعتراف کیا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے اور یورپ میں نیٹو کا دفاعی نظام ایک بھی بیلسٹک میزائل کو روکنے کے قابل نہیں رہا۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مغرب ایشیا میں قائم امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اربوں ڈالر کے مہنگے پیٹریاٹ میزائل بے دردی سے استعمال کیے۔
یورپ کے لیے رکھے گئے ان میزائلوں کے ذخائر کو خلیج فارس منتقل کیا گیا، جس کی وجہ سے اب یورپ کسی بھی بڑے میزائل حملے کے سامنے نہتا ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ پر امریکی انٹیلی جنس رپورٹس ٹرمپ کی خواہش کے مطابق تبدیل کی گئیں، رپورٹ میں انکشاف
تخمینے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کے کل ذخائر کا 65 فیصد یعنی تقریباً 1500 میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔
پینٹاگون اور نیٹو کے ترجمانوں نے اگرچہ اس کمی کی تردید کی ہے اور واشنگٹن کے پاس وافر مقدار میں ہتھیار ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن حقائق ان کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔
ایران کی جانب سے بنائے جانے والے ڈرونز اور میزائل بہت کم لاگت کے ہیں، جبکہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے پیٹریاٹ میزائلوں پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔
صنعت کی سست رفتار کے باعث ان میزائلوں کی فوری تیاری ممکن نہیں، جس کی وجہ سے نیٹو کے پاس مہنگی پیٹریاٹ بیٹریز تو موجود ہیں، لیکن ان میں سے فائر کرنے کے لیے ایمونیشن اور میزائل ختم ہو چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












