اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے

19 ستمبر, 2026 14:00

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران سے متعلق پابندیوں کے نئے قانون پر دستخط کردیے ہیں۔

 وائٹ ہاؤس کے مطابق قانون کا نام ’’لنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026‘‘ ہے۔ اس قانون کے ذریعے روس پر نئی پابندیوں کا دائرہ بڑھایا گیا ہے، جبکہ ایران سے متعلق موجودہ پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔

نئے قانون میں روس کے سرکاری حکام، مالیاتی اداروں اور اہم اقتصادی شعبوں کو نشانہ بنانے والی پابندیاں شامل ہیں۔ روس کی توانائی اور دفاعی صنعتوں کے ساتھ ان ٹینکرز کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں جنہیں پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے کا الزام ہے۔

قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ بعض بڑے خریداروں پر یہ محصولات 100 فیصد تک ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ اختیار قانون میں دیا گیا ہے، ہر ملک پر خودکار طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں ہوتا۔

اس قانون میں روسی مصنوعات پر 500 فیصد تک محصولات کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، جبکہ بعض مخصوص مصنوعات کے لیے استثنیٰ موجود ہے۔ قانون کا ایک اہم مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی اور پابندیوں سے بچنے والے مالی و تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔

دوسری جانب ایران سے متعلق 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ میں بھی پانچ سال کی توسیع کردی گئی ہے۔ اس طرح ایران کے توانائی اور ہتھیاروں سے متعلق شعبوں پر امریکی پابندیوں کا قانونی اختیار 2031 تک برقرار رہے گا۔

یہ قانون امریکی کانگریس سے منظوری کے بعد صدر کے دستخط کے لیے بھیجا گیا تھا۔ امریکی سینیٹ نے اسے 7 اگست کو 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا تھا، جبکہ ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظوری دی۔

نئے قانون کے بعد روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک کے لیے امریکی تجارتی پالیسی میں اضافی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم کسی ملک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ امریکی انتظامیہ کے اختیار میں ہوگا۔ قانون میں بعض حالات کے لیے استثنیٰ کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔