مصر اور اردن کی ریاض پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب سے مکمل اظہار یکجہتی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے حملے پر مصر اور اردن نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔
مصری وزارت خارجہ کے مطابق ریاض پر ہونے والا حملہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔
مصر نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی یا خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ مملکت کو اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کیلئے اقدامات کا حق حاصل ہے۔
قاہرہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اور مصر کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ سعودی عرب میں عدم استحکام کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز ضروری ہے۔
دوسری جانب اردن نے بھی ریاض کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو روک کر فضا میں تباہ کردیا۔ میزائل ریاض تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔
اردن نے سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کی بھی مذمت کی۔ ان میں طائف، ینبع، بیش اور فرسان کے علاقے شامل ہیں۔ اردن نے ان کارروائیوں کو سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ قرار دیا۔
سعودی حکام کے مطابق ریاض کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو سعودی فضائی دفاع نے کامیابی سے روک لیا اور اس کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ حوثیوں کی جانب سے ریاض میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










