ایران کا نیا جارحانہ ملٹری نظریہ، دفاع کی بجائے پیشگی کارروائی کی حکمت عملی

ایران نے اپنی ملٹری حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے دفاعی نظریے کی جگہ ایک نیا اور طاقتور جارحانہ نظریہ اپنا لیا ہے، تہران اب پیشگی کارروائی کا طریقہ اپنائے گا۔
کلنگنڈیل انسٹی ٹیوٹ کے محقق حامد رضا عزیزی کا کہنا ہے کہ ایرانی عسکری اور سیکیورٹی حکام نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ ایران اب صرف اپنا دفاع نہیں کرے گا بلکہ پیشگی اور سخت کارروائی کا طریقہ کار اپنائے گا۔
رہبرِ اعلیٰ کے سینئر ملٹری ایڈوائزر یحییٰ رحیم صفوی کا کہنا ہے کہ دشمن کے حملے کو روکنے کے لیے ایران کا ردعمل پیشگی اور حساب شدہ ہونا چاہیے۔ پرانے دفاعی فریم ورک کی ناکامی کے بعد تہران انتظامیہ اب خطرہ بننے سے پہلے ہی اسے ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے اپنے دفاعی ہتھیاروں کی پیداوار دگنی کر دی، نائب وزیر دفاع
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے بتایا کہ 17 جولائی کو اردن میں امریکی اڈے پر ایرانی حملہ اسی نئے جارحانہ نظریے کی ایک بہترین مثال تھا۔
چیف آف اسٹاف علی عبداللہی اور سیکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ محض جنگی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مستقل اسٹریٹجی ہے۔
محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک نے ٹرمپ کی معاشی جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تو خلیج فارس سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی پارلیمنٹ این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کے لیے قانون سازی پر بھی کام کر رہی ہے، کیونکہ مسلسل امریکی حملوں نے عالمی قوانین کی افادیت پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








