اگر امریکی بڑے جنگجو ہیں تو ہماری فوج سے مقابلہ کریں، عام شہریوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ ایرانی صدر

ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا، اگر امریکی بہت بڑے جنگجو ہیں تو وہ ایران کی بہادر فوج سے مقابلہ کرے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی قوم کو کسی بھی دباؤ یا بدمعاشی کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور ایران کبھی سر نہیں جھکائے گا۔
انہوں نے امریکی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر امریکی خود کو بہت بڑے جنگجو سمجھتے ہیں تو وہ ایران کی بہادر فوج فورسز سے مقابلہ کرے، عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے، خوراک کی سپلائی اور روزگار کے ذرائع کو جنگ کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موجودہ صورتحال کے باعث ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، سابق امریکی مذاکرات
ایرانی صدر نے واشنگٹن کی جانب سے زندگی کی بنیادی ضروریات تک رسائی پر عائد کردہ پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ لوگ ذرا بھی انسانی اقدار کے حامل ہیں تو پھر عام انسانوں کو پانی، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء تک رسائی سے محروم کیوں کر رہے ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ چند ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ مل کر کی جانے والی امریکی جارحیت کے دوران ہزاروں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور اس کے ساتھ ساتھ کئی دہائیوں سے جاری معاشی پابندیوں اور خونریز مہم جوئی کا مقصد بھی عام ایرانیوں کی زندگیوں کو اجنبی بنانا ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایرانی قوم تمام تر خونریز حملوں اور معاشی جبر کے باوجود پوری استقامت کے ساتھ کھڑی ہے اور کبھی نہیں جھکے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











