موجودہ صورتحال کے باعث ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، سابق امریکی مذاکرات

سابق امریکی مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد اب اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
ایران کے جوہری معاہدے کے سابق امریکی مذاکرات کار اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ممتاز سفارتی اہلکار ایلن آئر نے عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امکانات 2015 کے معاہدے کے مذاکرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایرانی ماہرین یورینیم کی افزودگی کا طریقہ کار سیکھ چکے ہیں، اس لیے اب صرف ان کے ارادوں میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
ایلن آئر کے مطابق ایران کا کچھ جوہری ہارڈویئر تباہ کیا جا چکا ہے، جسے دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے، لیکن ملک کی تکنیکی معلومات اور مہارت میں مسلسل ترقی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہماری عسکری صلاحیت دشمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، ایرانی آرمی چیف
انہوں نے واضح کیا کہ سینٹری فیوجز بنانے اور اعلیٰ سطح پر وافر مقدار میں افزودگی کرنے کے بارے میں ان کا علم بہت تیزی سے بڑھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے ایران پر سابقہ پابندیوں کا دوبارہ نفاذ اب مشکل ہو گیا ہے اور اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے اپنا کنٹرول چھوڑ دے کیونکہ تہران اس سمندری راستے کو اپنے اسٹریٹجک دفاع کا بنیادی ذریعہ سمجھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کی سب سے بڑی ترجیح مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو روکنا ہے اور وہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کو ایسا واحد راستہ مانتی ہے، جس سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور خلیجی ممالک کو عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو محدود کرنے کے لیے ایران کے اس کنٹرول کو کم از کم قلیل المدتی حقیقت کے طور پر قبول کرنا پڑ سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











