پلوں اور بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو پورے خطے کے توانائی نظام کو نشانہ بنائیں گے، ایران

ایران نے امریکی صدر کی ایرانی پلوں اور بجلی گھروں پر بمباری کی دھمکی کے جواب میں واضح کیا ہے کہ اگر اس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، تو پورے خطے کی توانائی اور بنیادی سہولیات پر جوابی حملے کیے جائیں گے۔
ایک ایرانی عسکری ذریعہ نے تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اپنے پلوں یا بجلی گھروں پر ہونے والے کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں خطے بھر کی متعدد بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر شدید جوابی کارروائی کرے گا۔
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی دوسرے ہتھیار سے حملہ کیا تو امریکہ تہران سمیت ایران کا ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی؛ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں خصوصی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس آبی راستے کو ملک کے خلاف خطرات کا ذریعہ نہیں بننے دے گا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ غیر ملکی جہاز اس شرط پر آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں کہ ان کی آمد و رفت ایران کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور تہران کے طے کردہ انتظامات کے مطابق ہو۔
عسکری ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اس آبی راستے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گا، کیونکہ وہ اسے اس راستے کی طویل مدتی سلامتی کی ضمانت کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ امریکہ کو اب تک یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے تھی کہ ایران اپنی مرضی کے کسی بھی مقام پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور خبردار کیا کہ امریکی صدر کی جانب سے کوئی بھی نیا اقدام ان کے لیے مزید رسوائی کا باعث بنے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










