ایرانی عوام سڑکوں پر کیوں نہیں آ رہے؟ ٹرمپ کی تشویش اور نیتن یاہو کے منصوبے کی ناکامی

سفارت کاری کے تعطل کا شکار ہونے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران میں حکومت کی تبدیلی اور وہاں عوامی مظاہروں کو بھڑکانے کی بات کرنا شروع کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے کئی ماہ سے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے نجی ملاقاتوں میں یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کو گرانے کے لیے سڑکوں پر کیوں نہیں نکل رہے؟
جنگ کے آغاز پر اسرائیلی وزیراعظم بیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ تہران پر سخت فضائی حملوں کے بعد وہاں کی عوام سڑکوں پر نکل آئے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری کے آخر میں جنگ کا آغاز کرتے ہوئے ایرانی عوام کے نام ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے یہ ان کے پاس سنہری موقع ہے۔
تاہم، جوں جوں جنگ طویل ہوتی گئی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا معاشی دباؤ بڑھا، تو ٹرمپ کا یہ مؤقف ماند پڑ گیا اور انہوں نے جون تک یہ کہنا شروع کر دیا کہ انہیں ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوئی پروا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے لے کر ایران تک، شادیوں اور اسکولوں پر امریکی حملوں کا طویل ریکارڈ
اب جب کہ 6 ماہ گزرنے کے بعد بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت نارمل نہیں ہو سکی اور ایران کے ساتھ تمام سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے پرانے مؤقف پر واپس آ گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنے حالیہ پیغام میں انہوں نے پھر پوچھا کہ ایرانی عوام کب اٹھیں گے اور جنگ لڑیں گے؟ اس وقت واشنگٹن کی حکمتِ عملی کا بڑا مقصد ایران کی مالیاتی شاہ رگوں کو کاٹ کر وہاں شدید معاشی بحران پیدا کرنا ہے تاکہ عوامی غصہ حکومت کے خلاف بھڑکے۔
تہران اس وقت واقعی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جہاں افراطِ زر بلند ترین سطح پر ہے، کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی ہوئی ہے اور اشیائے خوردونوش مہنگی ہو چکی ہیں، جس کا اعتراف ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی کر چکے ہیں۔
اس کے باوجود امریکی انٹیلی جنس اداروں کی ستمبر 2026 کی نئی اسسمنٹ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی و اسرائیلی کارروائیوں اور کڑی معاشی پابندیوں کے باوجود ایران کی حکومت کی اقتدار پر گرفت اب بھی بے حد مضبوط ہے۔
دہائیوں پر محیط مغربی پابندیوں کے باوجود ایران کا نظام برقرار رہا ہے۔ اب جب کہ امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور تیل کی اعلیٰ قیمتوں کے باعث ریپبلکنز کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں، صدر ٹرمپ اس جنگ کو سیاسی فائدے اور داخلی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تہران میں حکومت کی تبدیلی کا خواب فی الحال شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











