امریکہ کی ایران پر دباؤ مزید بڑھانے کی کوشش، حملوں اور معاشی پابندیوں میں شدت

امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی نظام کے پاس صرف تین راستے بچے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام بدل کر ‘آبنائے ٹرمپ’ رکھنے کی متنازع تجویز پیش کی ہے۔
پچھلے کچھ مہینوں سے جاری جنگ بندی کے بعد گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران پر امریکی فضائی حملوں میں غیر معمولی شدت آ گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے تہران پر ہمہ جہت دباؤ بڑھاتے ہوئے ایک بار پھر ایرانی حکومت اور نظام کے ممکنہ خاتمے سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور بغاوت کرنے پر اکسایا ہے۔
اسی اثناء میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے سامنے اب صرف تین ہی راستے بچے ہیں اور کوئی چوتھا آپشن موجود نہیں ہے۔
ان کے مطابق پہلا راستہ یہ ہے کہ پاسداران انقلاب خود اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کر دے، دوسرا یہ کہ ایرانی عوام پاسداران انقلاب کے خلاف سڑکوں پر آ جائیں، یا پھر تیسرا راستہ یہ ہے کہ تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور امریکی شرائط پر قابل عمل معاہدہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی نئی حکمت عملی امریکہ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی، میجر جنرل محسن رضائی
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سخت ترین معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایران شدید سراسیمگی کا شکار ہے، جو اسے جوابی فوجی اقدامات پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کے سفارتی معاہدوں کی ناکامی کا ملبہ بھی ایران پر ڈالا۔
امریکی وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب آبنائے ہرمز پر ایران کا کوئی کنٹرول نہیں رہا بلکہ امریکی افواج نے اس اہم ترین بحری راستے پر اپنا مکمل تسلط قائم کر لیا ہے۔
انہوں نے ایران کی معیشت کے مسلسل بیٹھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحری راستے میں کسی قسم کی سمندری بارودی سرنگیں موجود نہیں ہیں اور دو بحری جہازوں کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی خبریں صرف ایرانی پروپیگنڈا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی ناکہ بندی کے باعث ایرانی معیشت کا مکمل انہدام اب صرف چند دنوں کی بات رہ گئی ہے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وزیر خزانہ سے مختلف مؤقف اپنایا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں اب ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی وہ تہران کو بات چیت کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ انہیں اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کہ ایران کوئی معاہدہ کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ اس وقت آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل قبضہ ہے اور ایران معاشی طور پر تباہ ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اب امریکہ کے کنٹرول میں ہے، اس لیے اس کا نام بدل کر ‘آبنائے ٹرمپ’ رکھ دینا چاہیے تاکہ یہ امریکہ کی طرح دنیا بھر میں مزید مشہور ہو جائے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











