جمعرات، 10-ستمبر،2026
جمعرات 1448/03/28هـ (10-09-2026م)

سالم امریکی زیر آب ڈرون کا ایران کے ہاتھ لگنا، تہران کی عسکری و ٹیکنالوجیکل فتح قرار

10 ستمبر, 2026 10:53

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے امریکہ کے جدید ترین غوطہ خور ڈرون کو صحیح سلامت قبضے میں لینا تہران کے لیے ایک بڑی عسکری اور ٹیکنالوجیکل فتح قرار دیا جا رہا ہے۔

8 ستمبر کی صبح آبنائے ہرمز کے داخلہ راستے پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورسز نے امریکی بحریہ کے سب سے پیچیدہ اور جدید ترین زیرِ آب ڈرون کو کامیابی کے ساتھ ٹریک، انٹرسیپٹ اور اپنی تحویل میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس اور عسکری ماہرین کے مطابق یہ بحری ڈرون اینڈرول ڈائیو ایل ڈی ماڈل ہے، جو کہ ایک بڑا خودکار زیرِ آب ڈرون ہے، جو محض ایک سال قبل ہی امریکی بحریہ کے غیر انسان بردار سبر میرین گروپ کے حوالے کیا گیا تھا۔

امریکی فوجی ذرائع نے میڈیا میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ ان کا ایک انڈر واٹر ڈرون علاقے میں خرابی کا شکار ہوا تھا، جو بغیر کسی شک کے ایرانی دعوے کی تائید کرتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اس مکمل کارروائی کو ایک انتہائی پیچیدہ فیلڈ اور انٹیلی جنس آپریشن قرار دیا ہے، جس کی ویڈیو اور تصاواری ثبوت بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس امریکی زیرِ آب ڈرون کا تکنیکی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے ہاتھ کتنی بڑی ٹیکنالوجی لگی ہے۔ 5.8 میٹر لمبے اور 3 میٹرک ٹن وزنی اس ڈرون کا خول گرینائٹ اور ٹائٹینیم الائے سے تیار کیا گیا ہے، جو سمندر میں 6 ہزار میٹر کی گہرائی اور 6 سو ایٹموسفیئر کے شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کی ساخت عام ساحلی مائن ہنٹنگ ڈرونز کے برعکس انتہائی گہرے سمندر میں بغیر آواز کے کام کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس ڈرون میں ڈائریکٹ ڈرائیو الیکٹرک پروپلشن سسٹم کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں بغیر کسی گیئر باکس کے موٹر ڈائریکٹ چلتی ہے تاکہ گیئرز کی آواز پیدا نہ ہو اور سمندری سونار سسٹم اس کی لوکیشن ٹریک نہ کر سکیں۔

اس کے علاوہ یہ ڈرون بغیر کسی جی پی ایس سگنل کے، صرف اپنے اندرونی انرشیل نیویگیشن سسٹم اور سمندری سطح پر آواز کی لہریں بھیج کر 10 دنوں تک مسلسل گہرے پانیوں میں سفر اور جاسوسی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اردن میں ایرانی حملے سے متعدد امریکی جنگی طیارے متاثر ہوئے، امریکی میڈیا

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس امریکی ڈرون کا مکمل اور صحیح سلامت حالت میں ایران کے ہاتھ لگنا ایک انتہائی اہم اور دور رس پیشرفت ہے۔

ڈرون کے ملبے کے بجائے سالم حالت میں ملنے سے ایرانی انجینئرز کو اس کے ٹائٹینیم باڈی، بیٹری ٹیکنالوجی، اور انتہائی خاموش موٹر کے ڈیزائن کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔

سب سے بڑھ کر، اگر اس ڈرون کا ڈیٹا اور نیویگیشن الگورتھم ڈیلیٹ یا برباد نہیں ہوا ہے، تو تہران کو اس کے سافٹ ویئر اور مائننگ ڈیٹا تک رسائی مل جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس ڈرون کے میموری کارڈز میں آبنائے ہرمز کے عمانی حصے کے گہرے پانیوں کے انتہائی باریک اور جدید ترین نقشے (ٹپوگرافی ڈیٹا) موجود ہیں، جن تک رسائی سے ایرانی بحری حکمتِ عملی سازوں کو سمندری راستوں کا وہ ڈیٹا مل جائے گا، جو پہلے کبھی ان کے پاس نہیں تھا۔

ٹیکنالوجی کی الٹ انجینئرنگ (ریورس انجینئرنگ) کے معاملے میں ایران کی ایک تاریخ رہی ہے۔ ماضی میں پکڑے گئے امریکی آر کیو 170 ڈرون اور ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کو ڈی کوڈ کر کے ایران نے اپنے مقامی ڈرون پروگرام کو سالوں آگے بڑھایا تھا۔

اس امریکی انڈر واٹر ڈرون کا ایران کے ہاتھ لگ جانا نہ صرف امریکی فوج کے ان خیالات کو باطل کرتا ہے کہ ان کے خودکار ڈرونز کو کبھی پکڑا نہیں جا سکتا، بلکہ پینٹاگون کے لانچنگ، کمیونیکیشن اور خودکار تباہی (سیلف ڈسٹرکشن) کے سسٹم کی بڑی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

اب یہ ملٹی ملین ڈالر کا امریکی عسکری اثاثہ ایرانی ماہرین کی لیبارٹریز میں ہے، جہاں وہ اس کی ہر ایک چپ اور ٹیکنالوجی کا معائنہ کر رہے ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔