آئی ایم ایف کا سرکاری اداروں کے قوانین میں تاخیر پر اظہار تشویش

آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے قوانین میں مسلسل تاخیر اور اصلاحات نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نومبر کے وسط تک مہلت دے دی۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے سرکاری اداروں کے قوانین میں مسلسل تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے سرکاری اداروں کے 9 سے 10 قوانین میں ترامیم کرنے کی چوتھی ڈیڈ لائن بھی تاحال پوری نہیں کی ہے۔
آئی ایم ایف کا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری اداروں کے قوانین کو مرکزی قانون سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے، جبکہ واپڈا کے لیے کوئی مؤثر گورننس ماڈل نہ ہونے اور اس کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات نہ کیے جانے پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرِ خزانہ کی آئی ایم ایف مشن سے ورچوئل مذاکرات، ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ
حکومت کی جانب سے ان قوانین میں ترامیم کے لیے متعدد مرتبہ نئی مہلت طلب کی گئی تھی، جس پر اب آئی ایم ایف نے واضح ہدایت دی ہے کہ یہ تمام ترامیم نومبر کے وسط تک لازمی طور پر مکمل کی جائیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے جنوری 2025 یا اس سے قبل قوانین پارلیمنٹ کو بھجوائے تھے، لیکن تاحال مطلوبہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
اس کے علاوہ نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف بورڈ کا آئندہ اجلاس نومبر میں متوقع ہے اور پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کا اجراء اسی کامیابی کے ساتھ مشروط ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










