او جی ڈی سی ایل، پن اسٹیک میں معاہدہ، 2 ہزار سے زائد نمونوں میں لیتھیم اور نایاب معدنیات کی جانچ ہوگی

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر اور دیگر اہم معدنیات کے ممکنہ ذخائر کی تلاش کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پن اسٹیک) کے ساتھ جدید سائنسی تجزیاتی خدمات کے حصول کا معاہدہ کرلیا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب او جی ڈی سی ایل ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوئی، جس میں او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لک، کمپنی کی سینئر انتظامیہ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) اور پن اسٹیک کے نمائندگان نے شرکت کی۔
معاہدے کے تحت پن اسٹیک او جی ڈی سی ایل کے منتخب کنوؤں سے حاصل ہونے والے پروڈیوسڈ واٹر اور برائن میں جدید انڈکٹیولی کپلڈ پلازما (ICP) ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف عناصر کی پروفائلنگ کرے گا۔ اس تجزیے میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements)، قیمتی دھاتوں اور تابکار عناصر کی مقدار کا تعین کیا جائے گا۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق منتخب کنوؤں سے 2 ہزار سے زائد نمونے حاصل کیے جائیں گے تاکہ ان میں لیتھیم، نایاب اور اہم معدنیات کی موجودگی اور ارتکاز کا تعین کیا جاسکے۔
اس وسیع پیمانے پر سائنسی تجزیے کے نتیجے میں او جی ڈی سی ایل کے پروڈیوسڈ واٹر کا ایک جامع جیو کیمیکل ڈیٹا بیس تیار ہوگا۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف کنوؤں کو ان میں موجود لیتھیم اور نایاب معدنیات کی مقدار کے لحاظ سے درجہ بند کیا جائے گا، جبکہ زیادہ اور کم ارتکاز والے علاقوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔
یہ مطالعات ڈائریکٹ لیتھیم ایکسٹریکشن (DLE) یعنی پانی سے براہ راست لیتھیم نکالنے کے امکانات کا تکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوں گے۔
او جی ڈی سی ایل کی جانب سے اس اقدام کو کمپنی کی روایتی تیل و گیس کے شعبے سے آگے بڑھ کر معدنیات اور نئی توانائی کے وسائل میں سرمایہ کاری اور تحقیق کے وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی پروڈیوسڈ واٹر اور جیوتھرمل برائنز سے لیتھیم اور نایاب ارضی عناصر کے حصول کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق واحد بخش-01 (Wahid Bukhsh-01) کنویں پر کیے گئے ایک پائلٹ منصوبے میں جیوتھرمل برائن میں 291 ملی گرام فی لیٹر لیتھیم کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی تھی۔ کمپنی کے مطابق یہ ارتکاز عالمی سطح پر بعض نمایاں جیوتھرمل لیتھیم برائنز میں پائی جانے والی مقدار کے مقابلے میں قابل ذکر ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل و گیس کی پیداوار کے دوران حاصل ہونے والے پروڈیوسڈ واٹر کو عموماً فضلہ یا ایسے پانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے مخصوص طریقہ کار کے تحت ٹھکانے لگانا پڑتا ہے، تاہم اس میں تحلیل شدہ معدنیات اور دھاتیں بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان عناصر کی بازیابی مستقبل میں ایک اضافی وسائل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا تازہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ لیتھیم اور نایاب ارضی عناصر عالمی سطح پر بیٹریوں، الیکٹرک گاڑیوں، قابل تجدید توانائی اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات میں شمار ہوتے ہیں۔
تاہم ان وسائل کے تجارتی استعمال کا انحصار معدنیات کے ارتکاز، نکاسی کی ٹیکنالوجی، ریکوری ریٹ، ماحولیاتی تقاضوں، پروسیسنگ کے اخراجات اور مجموعی معاشی قابل عمل ہونے سمیت مختلف عوامل پر ہوگا۔
پن اسٹیک کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ڈیٹا او جی ڈی سی ایل کو یہ تعین کرنے میں مدد دے گا کہ کن کنوؤں اور علاقوں میں لیتھیم اور دیگر اہم معدنیات کی مقدار مزید تکنیکی اور معاشی تحقیق یا پائلٹ منصوبے کے لیے موزوں ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ پروڈیوسڈ واٹر اور جیوتھرمل برائنز میں موجود ممکنہ معدنی وسائل کی تلاش کمپنی کے موجودہ اثاثوں سے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی توانائی اور اہم معدنیات کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










