پیر، 28-ستمبر،2026
پیر 1448/04/17هـ (28-09-2026م)

امریکہ کا ایران پر انتظار کرو، دباؤ بڑھاؤ کی خطرناک پالیسی اور ٹرمپ کا سیاسی جوا

28 ستمبر, 2026 11:17

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیش کی جانے والی اس تجویز کو سرے سے مسترد کر دیا ہے، جس میں تہران نے منجمد اثاثوں کی بازیابی اور تیل پر سے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران اس وقت بہت بری طرح ہار رہا ہے اس لیے وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ ڈیل اس وقت امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وضاحت کی ہے کہ تہران نے ٹرمپ کا یہ ابتدائی ردعمل تو دیکھ لیا ہے لیکن باضابطہ طور پر کوئی سفارتی جواب تہران کو نہیں ملا، جبکہ اس پورے عمل میں قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

اس تمام صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کنگز کالج لندن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا حساب کتاب واضح ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کا امتزاج ایران کو اتنا زیادہ دباؤ میں لے رہا ہے کہ تہران کی حالیہ تجویز طاقت نہیں بلکہ کمزوری کا ثبوت ہے۔ ٹرمپ یہ سوچ رہے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ امریکہ کی مذاکراتی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیئے جانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

ناٹو ڈیفنس کالج کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو رچرڈ ویٹز کے مطابق وائٹ ہاؤس کو یہ لگتا ہے کہ طویل المدتی معاشی دباؤ ایرانی حکومت کو مزید مراعات دینے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا، بلکل اسی طرح جیسے دو دہائی پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کیا گیا تھا۔

تاہم اس طویل حکمت عملی میں ٹرمپ کے لیے شدید سیاسی اور معاشی خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور امریکی رائے عامہ کے مطابق عوام کی ایک بڑی اکثریت اس تنازع کی مخالف ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں عام امریکیوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

اگر آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی کی ترسیل متاثر رہتی ہے تو اس کا براہ راست سیاسی نقصان ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے لیکن واشنگٹن کو اس کی کوئی بھاری قیمت نہ چکانی پڑے، تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ تہران دباؤ کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے کے بجائے خطے کے دوسرے محاذوں پر کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی صدر کی یہ طویل انتظار والی پالیسی الٹی بھی پڑ سکتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔