پیر، 21-ستمبر،2026
پیر 1448/04/10هـ (21-09-2026م)

ایران نے امریکی عسکری اور معاشی جارحیت کو اپنے لیے اسٹریٹجک برتری میں بدل ڈالا

21 ستمبر, 2026 10:36

فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی امریکی جارحیت سات ماہ گزرنے کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے، ایران نے اپنی پوزیشن اسٹریٹجک، سفارتی اور عسکری طور پر مزید مضبوط کر لی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ایسی عسکری جارحیت کا آغاز کیا تھا، جسے انہوں نے غرور سے ایک چھوٹا سا دورہ قرار دیا تھا اور پیشگوئی کی تھی کہ یہ جنگ چار ہفتوں کے اندر اسلامی جمہوریہ کے تختے الٹنے کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ سات ماہ گزرنے کے بعد حقیقت پوری دنیا کے سامنے ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یہ بلاجواز اور غیر قانونی جنگ امریکی جنگی مشین کے لیے ایک دلدل بن چکی ہے، جس نے اربوں ڈالر نگل لیے ہیں، امریکی عسکری ذخائر کو خالی کر دیا ہے، عالمی توانائی کی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے کسی بھی اعلانیہ ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کے برعکس ایک ایسا اسٹریٹجک منظرنامہ سامنے آیا ہے، جس میں امریکی عسکری جارحیت، پابندیوں اور ناکہ بندی کا نشانہ بننے والا ملک ایران اب اس فضول جنگ کے خاتمے کی شرائط طے کر رہا ہے۔

امریکی جارحیت نے ایران کی برتر پوزیشن کو زائل کرنے کے برعکس، اسے عسکری، سفارتی اور اسٹریٹجک اعتبار سے مزید مستحکم کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران پر معاشی دباؤ حق میں جار رہا ہے، اس لیئے جنگ کے خاتمے کی کوئی ڈیڈ لائن طے نہیں، امریکی سفیر

فوجی محاذ پر، امریکی جنگی حکمت عملی کا بنیادی اصول یہ تھا کہ زبردست عسکری طاقت ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔ امریکہ کے پاس جدید ترین عسکری سازوسامان موجود ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ایران دہائیوں سے غیر قانونی اور تباہ کن پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ کاغذ پر یہ مقابلہ یک طرفہ دکھائی دیتا تھا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔

ایران کی حکمت عملی امریکی فائر پاور کا مقابلہ کرنے پر نہیں بلکہ امریکی ملٹری انڈسٹری کو اس کی پسند کی جنگ سے محروم کرنے پر مرکوز تھی۔ جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ اس منظر نامے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا۔

ایران کے مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور حملہ آور ڈرون، جو زیر زمین بنکروں اور پہاڑی غاروں میں چھپائے گئے تھے، بمباری کی متعدد لہروں کے بعد بھی محفوظ رہے اور فعال رہے۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر کے فوری طور پر اسٹریٹجک پہل اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس ایک اقدام نے اس جنگ کے تمام حسابات بدل دیئے، جو ایران نے خود نہیں چنی تھی۔

امریکا ملک پر بمباری تو کر سکتا تھا، لیکن وہ ایران کو عالمی معیشت پر بھاری اخراجات عائد کرنے سے نہیں روک سکتا تھا۔ ستمبر 2026 تک تیل کی قیمتیں فی بیرل 110 ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں، بڑی معیشتوں میں مہخم زگزیگ انداز میں بڑھ رہی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے عالمی ترقی کی پیشگوئیوں میں دو بار کمی کی ہے۔ جنگ کا محاذ ایرانی سرزمین سے منتقل ہو کر عالمی توانائی کی مارکیٹ میں جا پہنچا ہے، جہاں امریکی طاقت فیصلہ کن نہیں رہی۔

امریکہ کے لیے مادی اخراجات انتہائی ہولناک رہے ہیں۔ امریکی جنگی مشین نے ہزاروں پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز (جو اس کے ذخیرے کا نصف سے زیادہ ہیں)، سینکڑوں تھاڈ انٹرسیپٹرز اور ایک ہزار ٹوماہاک میزائل ضائع کر دیئے۔ ان ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری میں سالوں لگیں گے اور سینکڑوں ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

امریکی تاحال حقیقی جانی نقصان کے بارے میں خاموش ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تعداد سینکڑوں میں ہے۔ شکاگو یونیورسٹی کے معروف بین الاقوامی تعلقات کے اسکالر جان مرشیمر نے اپنے ایک انٹرویو میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سات ماہ کی مسلط کردہ جنگ کے بعد امریکی جنگی مشین اپنے چاروں بنیادی اہداف میں سے ایک میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی، جن میں نام نہاد حکومت کی تبدیلی، یورینیم افزودگی کا خاتمہ، ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا شامل تھا۔

سفارتی محاذ پر، اس جنگ کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ اس نے دونوں فریقوں کی سفارتی پوزیشنز کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ خطے میں اپنی بالادستی مسلط کر رہا تھا اور اسرائیلی ریاست نام نہاد معمول پر لانے کے فریب کے لیے لابنگ کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے اثرات خطے میں زلزلے کی مانند ہیں، جس کے جھٹکے دور تک محسوس ہو رہے ہیں، قطری وزیر اعظم

سات ماہ گزرنے کے بعد امریکہ خود کو سفارتی طور پر تنہا پاتا ہے، اور اس کا صہیونی اتحادی شرمناک طور پر بائیکاٹ کا شکار ہے۔ دوسری طرف، ایران خطے کی نئی سپر پاور کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ جب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی نام نہاد اقتصادی ڈی ڈے کا اعلان کیا، جو ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنے کے لیے پابندیوں کی ایک بڑی مہم تھی، تو بہت سے ملکوں نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ چین اور روس نے فوری طور پر اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایران کے کسی بھی پڑوسی (پاکستان، عراق یا ترکی) نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ وہ ان غیر قانونی پابندیوں کو نافذ کریں گے۔

خلیجی عرب ریاستوں میں سے بھی صرف متحدہ عرب امارات نے، جو واشنگٹن اور اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتا ہے، عارضی طور پر ایران کے ساتھ مالی لین دین روکا۔

دوسری طرف، ایران نے اپنی پوزیشن کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کیا۔ جون میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے، جس میں امریکی بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ، منجمد اثاثوں کی رہائی، اور ایرانی کنٹرول کے تحت آبنائے ہرمز کو سنبھالنے کا طریقہ کار شامل تھا۔

اسٹریٹجک نقطہ نظر سے، کسی بھی جنگ میں فتح کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ آیا جارح اپنے اعلانیہ اہداف حاصل کر پایا یا نہیں۔ اس پیمانے پر امریکہ قطعی اور جامع طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

ایرانی حکومت اقتدار میں ہے، اس کا افزودگی پروگرام جاری ہے، اس کا میزائل ہتھیاروں کا ذخیرہ سکڑنے کے بجائے بڑھ چکا ہے، اور اس کے علاقائی اتحادی (بشمول لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں انصار اللہ) فعال اور مضبوط ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکا کا جدید جاسوسی ڈرون مار گرایا

یمنی فوجی دستوں نے حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اپنا کنٹرول مزید وسعت دی ہے اور اسٹریٹجک بندرگاہوں اور جزائر پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس کے برعکس امریکہ نے کیا کھویا ہے؟ اس نے آبنائے ہرمز اور بڑے پیمانے پر خلیج فارس کا کنٹرول مکمل طور پر کھو دیا ہے۔ اس نے اپنے مہنگے عسکری ذخائر کو ایسے درجے تک ختم ہوتے دیکھا ہے، جن کی تیاری میں دہائیاں لگیں گی۔ اس نے اہم اتحادیوں کو ناراض کیا ہے اور دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ اس کی عسکری طاقت ایک افسانہ ہے۔

جنرل محسن رضائی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ٹرمپ نے وینزویلا سے مماثلت کے ذریعے مسخ شدہ سیاسی، عسکری، معاشی اور سماجی حالات کی غلط فہمی پر مبنی ایک احمقانہ جنگ ایران کے خلاف شروع کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب واشنگٹن کو اس جارحیت کی بھاری سیاسی، معاشی اور عسکری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں چالیس دن کی جنگ کے مقابلے میں مزید بڑھ چکی ہیں، جن میں ہائپرسونک میزائلوں کی رفتار کو ماک 6 سے بڑھا کر ماک 10 تک کرنا اور نئے میزائل نظاموں کی تیاری شامل ہے، جو امریکی دفاعی نظام کو ناقابل تسخیر بنا دیتے ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔