آبنائے ہرمز کا متبادل اور تیل کے ذخائر، کیا مارکیٹ ایران کے ساتھ طویل جنگ کا دباؤ برداشت کر پائے گی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری طویل جنگ کے باوجود عالمی تیل مارکیٹ نے حیرت انگیز لچک کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم طویل المدتی بحران اور ذخائر کے خاتمے کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازعہ توقع سے کہیں زیادہ طویل ہو چکا ہے اور اس طوالت کے ساتھ ہی فعال تیل مارکیٹ نے بھی سب کو حیران کر دیا ہے۔
جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اوسط امریکی گھرانے کو ایندھن کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے آٹھ سو ڈالر تک کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس کے باوجود جنگ کے چھ ماہ سے زائد عرصے میں خام تیل بڑی حد تک ان مقامات پر پہنچ رہا ہے، جہاں اس کی ضرورت ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر لیے ہیں، تیل کے بھاری ذخائر پر انحصار کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر تیل کے استعمال میں کمی لائی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کے درمیان اس بات پر شدید بحث جاری ہے کہ آیا یہ عارضی حالات زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے سات شرائط رکھ دیں
کچھ توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز نہ تو مکمل کھلی ہو اور نہ ہی مکمل بند ہو، تب بھی تیل مارکیٹ اس نئے تناظر کو مستقبل قریب تک برقرار رکھ سکتی ہے اور اس صورت میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ طویل عرصے تک اپنے اس تنازع کو جاری رکھ سکتی ہے۔
اس کے برعکس دوسرے ماہرین کو یہ خوف ہے کہ تیل مارکیٹ کو جوڑنے والے یہ مصنوعی جوڑ بالآخر ناکام ہو جائیں گے اور عالمی ذخائر ایک خطرناک حد تک ختم ہو جائیں گے۔
جے پی مورگن کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ نے تاریخ کے سب سے بڑے سپلائی شاک کا متبادل پائپ لائنیں استعمال کرکے بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔
وینزویلا، برازیل، گیانا اور کینیڈا نے اپنی پیداوار میں یومیہ بیس لاکھ بیرل کا اضافہ کیا اور عالمی سطح پر تیل کی طلب میں یومیہ پچاس لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اگر یہ جنگ مستقل بنیادوں پر جاری رہی تو آنے والے وقتوں میں سپلائی اور ڈیمانڈ میں شدید عدم توازن پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












