جمعہ، 4-ستمبر،2026
جمعہ 1448/03/22هـ (04-09-2026م)

افغانستان سے لے کر ایران تک، شادیوں اور اسکولوں پر امریکی حملوں کا طویل ریکارڈ

04 ستمبر, 2026 10:15

میناب کے اسکول سے لے کر کوہستک کے شادی ہال تک، امریکی ملٹری مشین کی جانب سے ایرانی سویلین تنصیبات پر مسلسل بمباری نے امریکی عسکری ٹیکنالوجی اور اس کے اخلاقی داغوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے۔

جنگ کو عموماً عسکری اہداف، اسٹریٹجک حکمتِ عملی اور جدید ترین گائیڈڈ ہتھیاروں کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے جنگ صرف تباہی اور سوگ لاتی ہے۔ گزشتہ 6 ماہ سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے فوجی اتحاد کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی اور یکطرفہ عسکری جارحیت نے ایرانی عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

28 فروری کو جنوبی ایران کے صوبے ہرمزگان کے قصبے میناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر امریکی بمباری کے نتیجے میں 160 سے زائد معصوم بچوں کی شہادت کا دلدوز واقعہ پیش آیا تھا۔

اس واقعے کے چند ماہ بعد، یکم ستمبر کی رات ہرمزگان ہی کے ضلع سیریک کے شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل نے حملہ کر کے خوشیوں کے گھر کو ماتم میں بدل دیا۔

میناب میں جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے جمع ہوئے تھے، وہیں کوہستک میں درجنوں خاندان ایک نئی زندگی کا آغاز دیکھنے اور خوشیاں منانے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ دونوں مقامات عسکری اہداف سے دور سویلین مراکز تھے، تاہم امریکی فورسز نے ان دونوں جگہوں کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں : جے ڈی وینس کا ایران میں شادی کی تقریب پر امریکی میزائل حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار

کوہستک کی شادی کی تقریب، جسے مقامی زبان میں ہیش کہا جاتا ہے، پر گرنے والے امریکی میزائل کے ٹکڑے ملنے سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ حملہ سلیم ای آر (SLAM-ER) گائیڈڈ میزائل کے ذریعے کیا گیا۔

بوئنگ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی فوج کا سب سے زیادہ درست نشانہ باندھنے والا ٹیکنالوجی میزائل ہے۔ ایسے میں یہ بڑا اخلاقی اور قانونی سوال اٹھتا ہے کہ اتنی جدید اور پریسجن ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے ایک پررونق شادی کے گھر کو کس طرح نشانہ بنایا گیا؟

کوہستک میں ایک بچے سمیت 5 افراد شہید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ موقعِ واردات سے ملنے والی چپلیں اور خون آلود کپڑے اس انسانی المیے کی دردناک داستان بیان کرتے ہیں۔

امریکا نے ماضی میں بھی افغانستان کے اورزگان اور ننگرہار میں، جبکہ عراق کے علاقے مکرادیب میں شادی کی تقریبات پر بمباری کر کے دسیوں سویلینز کو قتل کیا ہے۔

ایک واقعہ غلطی ہو سکتا ہے، لیکن بار بار عام شہریوں کا قتلِ عام ایک پیٹرن کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی قوانین اور انسانی اقدار کو پامال کرنے والی اس امریکی عسکری مشینری کی جانب سے سویلینز کی ہلاکتوں کو محض ایک غلطی قرار دینا اب کسی طور قابلِ قبول نہیں ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔