جمعرات، 24-ستمبر،2026
جمعرات 1448/04/13هـ (24-09-2026م)

پلاسٹک کے کچرے سے پیٹرول اور ڈیزل بنانے کا نیا طریقہ دریافت

24 ستمبر, 2026 13:15

دنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا کچرا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ اب امریکی اوک رج نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنسدانوں نے پلاسٹک کے کچرے کو مفید ایندھن میں تبدیل کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس طریقے کے ذریعے عام طور پر استعمال ہونے والے پولی ایتھیلین پلاسٹک سے پیٹرول اور ڈیزل جیسی مائع مصنوعات تیار کی جاسکتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں المونیم کلورائیڈ پر مشتمل پگھلی ہوئی نمکیات استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ نمکیات ایک ہی وقت میں ردعمل کے لیے ذریعہ اور کیٹالسٹ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس عمل کے دوران پلاسٹک کے لمبے مالیکیولر سلسلے ٹوٹ کر چھوٹے ہائیڈروکاربن میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

اس طریقے کی خاص بات اس کا نسبتاً کم درجہ حرارت ہے۔ محققین کے تجربات میں عمل 200 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت پر کیا گیا۔ بعض تجربات میں تقریباً 60 فیصد تک گیسولین رینج کی مصنوعات حاصل ہوئیں۔ زیادہ پیچیدہ پلاسٹک چینز سے ڈیزل رینج کی مائع مصنوعات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔

محققین کے مطابق روایتی پلاسٹک کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے طریقوں کے مقابلے میں اس عمل میں کئی چیزوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس میں قیمتی دھاتوں پر مبنی کیٹالسٹ، نامیاتی سالوینٹ یا بیرونی ہائیڈروجن شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی خصوصیات اس طریقے کو مزید تحقیق اور ممکنہ صنعتی استعمال کے لیے اہم بناتی ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ پلاسٹک ایندھن میں کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ جدید ایکسرے اسپیکٹروسکوپی، نیوٹرون اسکَیٹرنگ اور دیگر سائنسی طریقوں سے ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ پگھلی ہوئی نمکیات میں موجود فعال المونیم مقامات پلاسٹک کی لمبی کاربن چینز کو توڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس تحقیق کا تعلق خاص طور پر پولی ایتھیلین سے ہے۔ یہ وہ پلاسٹک ہے جو عام تھیلیوں، شاپنگ بیگز اور بعض دیگر روزمرہ اشیا میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ طریقہ ایسے پلاسٹک مواد کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہے جنہیں روایتی طریقوں سے ری سائیکل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے اس تحقیق میں ممکنہ طور پر دو اہم پہلو ہیں۔ ایک طرف پلاسٹک کے کچرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور دوسری طرف اسی کچرے سے مفید ہائیڈروکاربن مصنوعات حاصل کرنے کا راستہ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں فوری طور پر پلاسٹک سے سستا پیٹرول اور ڈیزل تیار ہونا شروع ہوجائے گا۔

اوک رج نیشنل لیبارٹری کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ پگھلی ہوئی نمکیات کی نمی کے ساتھ حساسیت اور صنعتی سطح پر عمل کو مستحکم رکھنے جیسے مسائل پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ محققین نے اس دریافت کے لیے پیٹنٹ کی درخواست بھی جمع کروائی ہے۔

پاکستان میں ہر سال بڑی مقدار میں پلاسٹک کا کچرا پیدا ہوتا ہے۔ تھیلیاں، شاپنگ بیگز اور دیگر پلاسٹک اشیا استعمال کے بعد اکثر کچرے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اگر مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی صنعتی سطح پر کامیاب ہوتی ہے تو مشکل سے ری سائیکل ہونے والے پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنے کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔