عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد

ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فوری طور پر نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت جسٹس عبہر گل خان نے کی۔
سماعت میں درخواست گزاروں کے وکلاء رانا مدثر عمر اور بیرسٹر تیمور عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی نمائندگی فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے کی۔
دوران سماعت ڈاکٹر عظمیٰ خانم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں صرف دو منٹ دیے جائیں تاکہ وہ نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کروا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ کو 30 دن کے لیے نظر بند کردیا گیا
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں گھریلو خواتین ہیں اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے خلاف درج مقدمے میں وہ پہلے ہی بے قصور قرار دی جا چکی ہیں اور اس حوالے سے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی کاپی بھی فائل کے ساتھ موجود ہے۔
نورین نیازی کی بیٹی سکینہ اور دیگر کی جانب سے دائر ان درخواستوں میں ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فوری طور پر نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا کو مسترد کر دیا، تاہم متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر رپورٹ طلب کر لی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











