امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ اراکین اور مشیروں سے ملاقات؛ ایران کیخلاف بڑے حملوں پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے اراکین اور اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی حملوں کے آپشنز پر غور کیا گیا۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے؟ جس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ "نہیں، میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران بات چیت میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم وہ ابھی کسی معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں وہ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ سب کو معلوم ہے۔”
ٹرمپ کے مطابق ایران کے حوالے سے تمام امکانات زیرِ غور ہیں اور حتمی فیصلہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔