دشمن نے ہم پر ایسے بم استعمال کیئے، جو بنائے ہی ایران کے لیے تھے، ایرانی وزارت دفاع

ایران کی وزارت دفاع نے بتایا کہ امریکی جنگ میں ایسے جدید ترین ہتھیار استعمال کیے گئے جو صرف ایران پر حملے کے لیے تیار کیئے گئے تھے۔
ایران کی وزارت دفاع اور لاجسٹکس کے قائم مقام سربراہ مجید ابن الرضا نے ملکی پارلیمنٹ کی زراعت، ماحول اور پلاننگ اینڈ بجٹ کمیٹیوں کے ساتھ اہم ترین اجلاسوں میں شرکت کی اور حالیہ مسلط کردہ جنگ اور دفاعی صنعت کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجید ابن الرضا نے بتایا کہ دشمن نے ایران کے خلاف ایک ہمہ جہت اور پیچیدہ پیٹرن کے تحت فیلڈ میں قدم رکھا، جس میں سائبر ٹولز، باقاعدہ عسکری فورسز، پراکسی عناصر اور انقلاب مخالف گروہوں کا یکمشت استعمال کیا گیا۔
انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں چند ایسے جدید ترین ہتھیار پہلی بار استعمال کیے گئے اور کچھ بم تو خاص طور پر صرف ایران پر حملے کے لیے تیار اور ڈیزائن کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی جہازوں کو فیس دینا ہو گی، ایرانی پارلیمانی کمیٹی میں بل منظور
قائم مقام وزیر دفاع نے اس جنگ کو تاریخ کی سب سے منفرد اور بے مثال جنگوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کی سب سے پہلی بڑے پیمانے کی میزائل جنگ اور پہلی بڑے پیمانے کی ڈرون جنگ تھی، جس میں سب سے زیادہ ایئر آپریشنز کیے گئے اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کا کھل کر استعمال کیا گیا۔
مجید ابن الرضا نے بتایا کہ شدید ترین اور سخت حالتِ جنگ کے باوجود ایران کی دفاعی صنعت کا پہیہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا۔
ان کا کہنا تھا کہ دفاعی مصنوعات کی پیداوار ہرگز نہیں تھمی بلکہ کئی شعبوں میں ہم نے دو گنا سے لے کر چند گنا تک پیداواری نمو اور ترقی دیکھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے مختلف مرحلوں میں ہم نے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دشمن کا پہلے سے زیادہ مؤثر جواب دیا۔
قائم مقام وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت آئندہ 50 سال کے ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












