ایران جنگ کے مستقبل پر امریکی کابینہ اور مسلح افواج میں اختلافات

ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم اس ممکنہ پیش رفت کے اثرات اور جنگ کے مستقبل کے حوالے سے امریکی حکومت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق امریکا کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس میں ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کے حامیوں کی آوازیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ ان اقدامات میں ایرانی مظاہرین کو ہتھیار فراہم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کو چھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ان ایرانی شہریوں کی مایوسی کا ذکر کیا جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مدد کی یقین دہانی پر بھروسا کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین بدستور بحران کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ٹرمپ اب جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے خواہاں ہیں اور اس معاملے میں وہ اکیلے نہیں۔ ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ امریکی فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے میں امریکا ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنرل کین نے جنگ کو مزید وسعت دینے سے متعلق فوجی آپشنز پر اپنے خدشات کابینہ کے اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔
جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ بھی الگ الگ بات چیت کی تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رہے اور صدر سے ملاقات سے قبل حکام دستیاب آپشنز اور خطرات پر واضح مؤقف اختیار کرسکیں۔
رپورٹ کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور ان سے وابستہ خطرات کا جائزہ لینا تھا، جن میں ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جن کے لیے امریکی زمینی فوج کی تعیناتی ضروری نہیں ہوگی۔
ایران کے ساتھ جنگ کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں جبکہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں 90 دن سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ ایسے میں جنگ میں کسی بھی قسم کی کامیابی، چاہے وہ علامتی نوعیت کی ہی کیوں نہ ہو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرنے اور امریکی جنگی بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کی شرط عائد کرتا ہے تو ٹرمپ کے لیے ممکنہ جنگی کامیابی کا علامتی اثر بھی محدود ہوسکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمان کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے ایران کی شرائط میں امریکی جنگی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی کی شرط بھی شامل ہے۔
امریکا، جو ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا براہ راست فریق نہیں ہے، تاہم متعدد بار واضح کرچکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے یا جہازوں سے محصول وصول کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ دیگر اہم اختلافات کے ساتھ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی قیادت کی جانب سے جنگ کے ممکنہ نتائج پر تشویش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن میں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی اور تنازع کو محدود کرنے کے درمیان بحث شدت اختیار کرچکی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










