انصار اللہ ایران کی پروکسی نہیں، مکمل طور پر خود مختار ہے، ایرانی وزارت خارجہ

ایران کے دفترِ خارجہ نے امریکی وزیرِ خارجہ کے انصار اللہ کے بارے میں بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یمنی گروپ مکمل طور پر خود مختار ہے۔
ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس میں یمن کے حوثی گروپ یعنی انصار اللہ کو ایران کی پروکسی قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حکام کے جھوٹ اور غلط بیانی کے ذریعے سچائی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔ انصار اللہ یمن کا ایک آزاد اور خودمختار فریق ہے، جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور کسی دوسرے ملک سے احکامات حاصل نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران سے جنگ صدارتی مدت کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے، مشیروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کردیا
ایرانی ترجمان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری امریکہ کی عسکری مداخلت اور بالادستی قائم کرنے کی پالیسیوں پر ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن واقعی خطے میں امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے خطے میں اپنی تباہ کن عسکری مداخلت کو فوری طور پر بند کرنا ہوگا، کیونکہ یہی مداخلت تمام تر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں بمباری یا بیرونی دباؤ کے ذریعے امن مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ یمن کا امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام متعلقہ فریقین کے درمیان ان کے طے شدہ روڈ میپ کی بنیاد پر حقیقی اور باضابطہ مذاکرات کیے جائیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












