ایران کے جوہری پروگرام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھیجنے کی قرارداد کی مذمت

ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قرارداد کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کی تباہی سے خبردار کیا ہے۔
ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے تہران کے جوہری پروگرام کا کیس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی قرارداد کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
تہران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے لائی گئی یہ ساراسر سیاسی قرارداد ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی فریم ورک کو تباہ کر دے گی اور جاری جنگی حقائق کو مکمل نظر انداز کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج نے اردن کے ایئر بیس سے تباہ شدہ ہیلی کاپٹرز منتقل کرنا شروع کر دیئے، ایرانی میڈیا
ویانا میں اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اس غیر متفقہ قرارداد کی منظوری ایٹمی عدم پھیلاؤ کے نظام کے مکمل خاتمے کا سبب بنے گی۔
تہران نے موجودہ ایٹمی کشیدگی کا تمام تر ملبہ امریکہ اور اسرائیل پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال محض امریکہ اور اسرائیلی رجیم کی مجرمانہ اور جارحانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو سرنڈر پر مجبور یا اس کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کا امریکی خواب خام خیالی ہے، امریکی اتحادی فورسز کی دو سالہ جنگ کے باوجود یہ مقصد ناکام رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ 20 سالوں میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجا گیا ہے۔ اس قرارداد کے حق میں 23 ووٹ آئے جبکہ روس، چین اور نائجر نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا اور 8 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










